سوانح عمری مادرملت فاطمہ جناح
شمائلہ راجپوت سلہری(لاہور)
مادر ملت یعنی قوم کی ماں عظیم سیاستدان ، دندان ساز (ڈینٹل سرجن ) سوانح نگار، مصنف، بھائی پر جان نچھاور کرنے والی بہن فاطمہ جناح ۔فاطمہ جناح31 جولائی 1893 کو جناح خاندان میں پیدا ہوئیں۔ فاطمہ جناح کے والد کا نام پونجا جناح اور والدہ کا نام مٹھی بائی تھا۔فاطمہ جناح کے چھ بہن بھائی تھےجن کے نام محمد علی، احمد علی، بنڈے علی، رحمت علی، مریم، اور شیریں جناح۔ اپنے بہن بھایئوں میں سے وہ سب سے چھوٹی تھیں۔ فاطمہ جناح اپنے بھائی محمد علی جناح کے سب سے قریب تھیں۔جو 1901 ء میں ان کے والد کی وفات پر ان کے سرپرست بنے۔ فاطمہ جناح نے ابتدائی تعلیم ہائی اسکول کھنڈالہ سے حاصل کی۔ 1910 میں میٹرک کیا ۔1913 میں سینئر کیمبرج کا امتحان پرائیویٹ طالبہ کی حیثیت سے پاس کرنے کے بعد1919میں کلکتہ کی یونیورسٹی میں داخلہ لیا جہاں پر انہوں نے آر احمد ڈینٹل کالج سے دندان ساز کی تعلیم حاصل کی۔ 1922 میں ڈینٹسٹ کی ڈگری حاصل کی ۔1923 میں بمبئی میں دانتوں کا کلینک کھولا اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے گھریلو اور سیاسی زندگی کو بھی سنبھالا ۔ انہوں نے رتن بائی کی موت پر فورا 1929 ء میں اپنا کلینک بند کر دیا۔اپنے بھائی محمد علی جناح کے بنگلے میں منتقل ہو گئیں اپنے بھائی اور اپنی بھتیجی دیا کا خیال رکھا ۔ گھرکی مکمل ذمہ داری اٹھا لی ۔اس سے زندگی بھر کی ذمہ داری شروع ہوئی جو 11 ستمبر 1948 کو ان کے بھائی کی موت تک قائم رہی۔ اپنی بہن کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے، محمد علی جناح نے ایک بار کہا:
"میری بہن روشنی اور امید کی روشن کرن کی طرح تھی جب بھی واپس گھر آتا تھا اور اس سے ملتا تھا۔ اضطراب بہت زیادہ ہوتا اور میری صحت بہت زیادہ خراب ہوتی، لیکن اس کے ذریعہ عائد کردہ پابندی کے لئے۔ وہ میری مدد اور حوصلہ افزائی کا ایک مستقل ذریعہ ہے۔فاطمہ جناح انتہائی مقبول رہی اور ابھی تک ان کی مقبولیت وشہرت میں کوئی کمی نہیں ہے اور پاکستان کی سب سے بڑی خاتون شخصیات میں سے ایک ہیں۔ فاطمہ جناح نے خواتین کے حقوق کی بیداری کے لئے بہت کوشش، جدوجہد اور محنت کی ۔پاکستان کی قومی علامت بن کر کھڑی ہوئیں۔فاطمہ جناح نے قائداعظم کا ساتھ دیتے ہوئے سیاسی سرگرمیوں میں ان کا بھرپور ساتھ دیا اور آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کی۔ محترمہ فاطمہ جناح نے تحریک پاکستان میں قائد اعظم کا ساتھ دیا اور انہی کی بدولت برصغیر کے گلی کوچوں میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی تحریک پاکستان میں کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی رہیں۔ 1940ء میں اس تاریخی اجلاس میں شرکت کی جس میں قرارداد پاکستان منظور ہوئی۔7 اگست 1947 کو محترمہ فاطمہ جناح 56 سال کے بعد دہلی کو الوداع کہہ کر کراچی منتقل ہو گئیں اور قائداعظم کی وفات کے بعد کئی برسوں تک بھائی کی جدوجہد کو آگے بڑھایا۔ 25 دسمبر 1955 کو محترمہ فاطمہ جناح نے خاتون پاکستان کے نام سے کراچی میں اسکول کھولا، اس اسکول کے لئے حکومت کی جانب سے تقریباً 13 ایکڑ زمین دی گئی۔ 1962 میں اس اسکول کو کالج کا درجہ دیا گیا۔1965 میں انہوں نے ڈاکٹر ایوب خان کے خلاف صدارتی انتخاب میں حصہ لیا۔1955 میں فاطمہ جناح نے اپنے بھائی قائد اعظم محمد علی جناح پر بائیوگرافی میرے بھائی(My Brother) کے نام سے کتاب لکھی،جو 1987 میں قائداعظم اکیڈمی سے شائع ہوئی۔فاطمہ جناح 9 جولائی 1967 ء کو کراچی میں انتقال کر گئیں۔ موت کی سرکاری وجہ دل کی ناکامی تھی، لیکن افواہیں برقرار ہیں کہ لیاقت علی خان کو قتل کرنے والے اسی گروہ نے ان کو کے گھر پر قتل کیا تھا۔ ان کو مزار قائد میں دفن کیا گیا۔
Comments are closed.