"بنتِ حوا کا مقام”

 

سارہ یوسف زئی (حیدرآباد)

8 مارچ 1907 سے دنیا بھر میں عالمی یومِ خواتین منایا جاتا ہے اور اب کئی سالوں سے پاکستان میں بھی اس کے منانے کا رواج عام ہوتا جا رہا ہے۔آج کی عورت ہر میدان میں آگے ہے۔ گھر ہو یا میدانِ جنگ، جہاں بھی ضرورت پڑے عورت ہمت نہیں ہارتی۔ مسلمان عورت کو یہ حقوق 1400 سال پہلے ہی مل چکے ہیں اور یہ حقوق دینے والا واحد مذہب اسلام ہے۔ اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے، جس نے عورت کو بنِ مانگے حقوق دئیے اور نبی ﷺ نے دنیا میں آکر ان حقوق کو عملاً اپنی زندگی میں امہات المومنین اور صحابیات کو عطا کرکے معاشرے میں خواتین کا مقام متعین کیا۔ سب سے پہلے اسلام نے عورت کو مکمل انسان تسلیم کیا۔ معاشرے کا فکری رویہ اور شعور تبدیل کرکے عورت کو عزت و احترام دیا۔ اسلام نے بتایا کہ عورت صرف مرد کی خوشنودی کے لئے نہیں بنائی گئی بلکہ اس کی زندگی کا مقصد بھی اللہ کی اطاعت و رضا جوئی ہے۔اسلام نے عورت کو ایک ایسے بلند مقام پر پہنچا دیا ہے۔ جس کا اس تاریک دور میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ عورت کی پیدائش پر جنت کی خوشخبری دی گئی۔ اس کی پرورش کرنے والے کو جنت کا مستحق قرار دیا گیا۔ عورت کے لئے وراثت میں حق مقرر کیا گیا۔ اس کو مہر کا حق دیا گیا۔ قرآن میں جگہ جگہ عورت کے ساتھ بہتر سلوک کرنے کا حکم دیا گیا۔ ماں کے درجے کو اس قدر معزز بنا دیا گیا کہ اس کے قدموں کے نیچے جنت کی بشارت دے دی گئی۔

لیکن یہ تمام مراتب اور اعزاز دینے کے باوجود اس کو اس بات کا پابند نہیں بنایا گیا کہ وہ صرف اور صرف گھر کی ہی ہو کر رہ جائے اور اپنی صلاحیتوں کو بالکل بھلا دے۔ بلکہ اس کو اس بات کی پوری آزادی دی گئی کہ اگر اسے قدرت نے صلاحیتیں عطا کی ہیں تو اپنی ان صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر اپنے اور معاشرے کی بھلائی کے کاموں میں استعمال کر سکتی ہے۔ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے نہ صرف اپنے اہل و عیال کی اصلاح اور بہتری کے کام انجام دے سکتی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ قوم وملت کی اصلاح اور ترقی کے کام بھی کر سکتی ہے۔ اگر ضرورت پڑے تو اپنے خاندان کی کفالت بھی کر سکتی ہے اور اس پر اس کو دوہرے اجر کی بشارت دی گئی ہے۔ مطلب یہ کہ ضرورت پڑنے پر عورت وہ تمام کام کر سکتی ہے جو ایک مرد انجام دیتا ہے، بس فرق صرف اتنا ہے کہ عورت اور مرد کی تخلیق میں جو اس کے خالق نے ایک امتیاز رکھا ہے اس امتیاز کے تقاضوں کو وہ ملحوظ خاطر رکھے۔

Comments are closed.