حضرت مولانا انیس الرحمن صاحب قاسمی اور مشن تعلیم ۲۰۵۰

 

*✍️: شکیل منصور القاسمی

بچے والدین کے پاس خدا کی امانت ہیں، قوم و ملت کی نخل ِتمنا ، امیدوں کا محور ، مستقبل میں نسلِ انسانی کا حصہ اور ہمارے جگر پارے ہیں۔ حقیقی سرمایہ ہونے کے ناطے بچوں سے ہماری بڑی توقعات وابستہ ہیں؛ اس لیے بچوں کے امور پر توجہ اہمیت کا حامل ہونے کے ساتھ نازک بھی ہے۔ جتنا بچوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی قوم کی ترقی یا تنزلی کا مدار اسی پر ہوگا۔

بچوں کا موضوع، تعلیم اور تربیت کے حوالے سے ہر دور میں سماج کے اصلاح پسندوں اور دانشوروں کی فکر مندی کا حصہ رہا ہے، موجودہ وقت میں اس موضوع پر دور ماضی سے زیادہ بحث و گفتگو ہونے لگی ہے۔ دین اسلام میں انسان کی زندگی کے مختلف مراحل : “بچپن” ، “جوانی” اور “بڑھاپا” میں مرحلہ طفولیت میں تربیتی پہلو پر خاصی توجہ دی گئی ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ایسے احکام و اصول وضع کیے گئے جو یقینی طور پر انسان کو سعادت مندی اور سرخروئی سے بہرہ ور کرسکے۔ اسلام میں صرف والدین سے بچوں کی تربیت کا مطالبہ نہیں کیا گیا ؛ بلکہ اسلام نے شاہراہِ حق کی رہنمائی کرتے ہوئے تربیت کا ایسا جامع اور مرتب نظام پیش کیا جو بچے کی پیدائش سے قبل شادی کے لیے بیوی کے انتخابی مراحل سے گزر کر عہد طفولت ، مراہقت ، شباب اور “کہولت “ تک محیط ہے۔

ہمارے ملک کے فاشسٹ ہندو احیاء پسند ارباب اقتدار نے منصوبہ بند طریقے سے جدید تعلیمی پالیسی کے نفاذ کے ذریعے ہمارے انہی “ متاع گراں مایہ “ اور “ قیمتی سرمایہ “ کو ذہنی ، فکری ، لسانی اور ثقافتی لحاظ سے ہائی جیک کرلینے کی کوشش کی ہے

بھارتیت اور قومی تہذیب و نیشنل کلچر کے حسین لبادے میں درسی وغیر درسی مواد و مضامین کے ذریعے ہندو آئیڈیا لوجی اور ہندوانہ ودیو مالائی تہذیب (وسیع تر معنی ومفہوم میں ) تھوپنے کی کوشش کی گئی ہے

اس نئی تعلیمی پالیسی کے پس پردہ جہاں مسلم بچوں کو فکری و اخلاقی اعتبار سے یرغمال بنا لینے کی سازش کی گئی ہے وہیں اردو زبان ۔۔ کہ جتنا اسلامی مواد (عربی کے بعد ) اس میں ہے، کسی اور زبان میں نہیں ہے۔۔ سے مسلم بچوں کا رشتہ یکسر کاٹ کر انہیں علمی ورثے اور اسلامی ذخیرے سے محروم کردینے کی سازش رچی گئی ہے

ملک کے اس مہیب بدلتے منظرنامے میں ہماری با عزیمت ، باحوصلہ وباکردار، دور اندیش مذہبی وملی قیادت ؛ جن کی نگاہیں بحمد اللہ ہر وقت دشمنوں کی کمین گاہوں پہ ہوتی ہے ، نے بروقت اور بر محل اس سازشی کھیل کا احساس وادراک فرماتے ہوئے اس کا نوٹس لیا ، اور مسلمانوں میں دینی ، مذہبی ، فکری ، تعلیمی ، تربیتی اور لسانی بیداری لانے کے لئے مفید ومؤثر اور ہمہ گیر مہم کا آغاز فرماتے ہوئے قریہ قریہ اور کوچہ کوچہ گشتی وفود روانہ کئے ، آنے والے دنوں میں مسلم طلبہ وطالبات کے ایمان ، اخلاق ، تعلیم وتربیت، زبان و ثقافت کے تحفظ کے لئے سرکاری جدید تعلیمی پالیسی کے “منفی ومضرت رساں “ پہلوئوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کے متبادل کے بطور جامع تعلیمی وتربیتی مشن اور لائحہ عمل قوم وملت کو فراہم کیا ۔

مسلم پرسنل لا بورڈ اور امارت شرعیہ پہلواری شریف کی طرف سے اس خصوص میں جو عملی اقدامات کئے گئے ہیں وہ بھی قابل صدر تحسین وتبریک اور لائق اتباع ہیں ۔

 

حضرت مولانا انیس الرحمن صاحب قاسمی ، نائب قومی صدر آل انڈیا ملی کونسل ورکن عاملہ مسلم پرسنل لا بورڈ ، جو محنت ، لگن ، خلوص ، عشق مقصد ، ذہنی وسعت اور فکری آفاقیت میں اپنی منفرد شناخت اور اہل علم میں اپنا اعتبار ووقار رکھتے ہیں ، امارت شرعیہ پہلواری شریف میں جن کے جہد مسلسل اور حسن عمل کے لازوال ترقیاتی نقوش آج بھی جھلکتے نہیں ؛ بلکہ “ چھلکتے “ہیں ۔حضرت مولانا انیس الرحمن صاحب قاسمی

اس جدید تعلیمی پالیسی کی خطرناکیوں کے خلاف اپنے پورے رفقاء کار کے ہمراہ “مشن تعلیم “ کے میدان عمل میں بحمد اللہ کود پڑے ہیں

دوہزار پچاس تک کے لئے تعلیمی پالیسی کا ایک جامع نصاب و خاکہ تیار فرمایا ہے جو انتہائی جامع اور مفید ہے

دینی اداروں کے معیار تعلیم میں بہتری ، عصری اداروں میں دینیات واسلامیات کی شمولیت ، مکتب کے نظام میں توسیع ، جدت ، تقاضائے حال کے مطابق مفید اصلاحات لانے جیسے امور پہ چشم کشا اور بصیرت افروز مشورے اور تجاویز شامل نصاب ہیں ۔

حضرت مولانا نے عاجز سے اس پہ اظہار رائے کا حکم فرمایا تھا ،

الحمد للہ راقم اس خاکہ ونصاب کو جامع ومفید پایا۔

بچوں کے مسائل کا ادراک اور پیچیدہ مشکلات کا درد رکھنے والے مخلص والدین سے گزارش کی جاتی ہے کہ سب سے پہلے انھیں برہمنی فکری اور ثقافتی یلغار سے بچانے کی کوشش کریں؛ بچوں کی تعلیم وتربیت کے حوالے سے فکرمند ہوں ، ان کی اخلاقی تربیت کی تدابیر خود سے ڈھونڈیں ، ایمان و اخلاق اور اپنی زبان و ثقافت کے تحفظ کے ساتھ اس ملک میں جئیں ، جن مذہبی وملی قائدین ، شخصیات ، افراد وادارے کی طرف سے بھی اس بابت عملی کوششیں ہوتی ہوں ، ذہنی تنگ نائیوں، ادارتی نسبتوں اور شخصی مفادات سے بالا تر ہوکر ہر ایک کی خدمات کا اعتراف وسپورٹ کریں آج ملی کاز کے لئے مل جل کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ؛ تاکہ آنے والی نسل انسانی واسلامی فکری غلامی کا شکار ہونے کی بجائے اپنے صالح پیش رو کا سچا نمونہ بن سکے۔اللہ تعالی حضرت مولانا انیس الرحمن صاحب قاسمی ، ان کے رفقاے کار اور اس سمت ملی کوششیں کرنے والے تمام اکابر علما ء وادارے کو اپنی شایان شان بدلہ عطا فرمائے اور انہیں اپنے مشن میں کامیاب بنائے ،آمین ۔

شکیل منصور القاسمی

بیگوسرائے

پیر23؍ رجب المرجب 1442ھ 8؍مارچ2021ء

Comments are closed.