عورت کے لئے 365 دنوں میں سے صرف ایک دن کو خاص کرنا حق تلفی اور سراسر ناانصافی ہے۔


نفیس اختر مدھوبنی

 

آج عالمی یومِ خواتین ہے…
وہ عورت جو ایک ماں کی شکل میں ممتا کی دیوی ہوتی ہے، وہ عورت جو ایک بہن کی شکل میں ماں کی ممتا کا عکس ہوتی ہے، جس کی موجودگی سے گھر گلِ گلزار ہوتا ہے، وہ عورت جو کبھی بیوی کی شکل میں آپ کی خوشی وغم کی رفیق ہوتی ہے تو کبھی آپ کی زندگی کا اٹوٹ حصہ ہوتی ہے، وہ عورت جو بیٹی ہوتی ہے تو آپ کے گلشنِ خانہ کو حقیقی خوشبو اور رنگوں سے بھردیتی ہے، جس کے چہکنے سے آپ کا چہرہ کھل اٹھتا ہے، جس کی مدھ بھری سریلی آواز آپ کو سکون بخشتی ہے، اس عورت کے لئے 365 دنوں میں سے صرف ایک دن کو خاص کرنا حق تلفی اور سراسر ناانصافی ہے۔
نبی اکرمﷺ نے ماں کی تعظیم و اطاعت کے متعلق جو احکامات دیئے وہ کسی خاص دن کے لئے نہیں دیںٔے، آپ ﷺ نے بہن بیٹی کے جو حقوق بیان کئے ہیں وہ ہفتہ اور دس دن کیلئے نہیں بلکہ ہر دن کیلئے ہیں، اسی طرح دنیا کے سب سے بہترین اور مثالی شوہر یعنی آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ذات اقدس ہے، آپ ﷺ نے ازواجِ مطہرات کے ساتھ جو حسنِ سلوک اور نرمی و محبت کا نمونہ پیش کیا ہے وہ قیامت تک کے لئے تمام شوہروں کے لئے آئیڈیل ہے، اسلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کریم ہی کی بدولت بنت حوا کو عزت و وقار کی زندگی نصیب ہوئی، آپ ﷺ کی بعثتِ مبارک سے پہلے اہل عرب اور اہل ہنود قدرت کے اس حسین شاہکار کے ساتھ جو رویّہ اپناتے تھے وہ تاریخ کے اوراق میں ثبت ہے، عرب۔۔۔ بیٹیوں کی پیدائش کو باعثِ شرمندگی تصور کرتے اور زندہ درگور کردیتے تھے، تو ہنود شوہر کی چتا کے ساتھ ان کی بیواؤں کو بھی سپردِ آتش کردیتے تھے تو وہیں اہلِ مغرب صنفِ نازک کو حیوانوں کی طرح زنجیروں میں قید کرکے رکھتے تھے اور ہوس کی بھوک مٹانے کے لئے کسی بھی حد سے گذر جاتے تھے نیز صنفِ نازک کو اپنی گڑیا تصور کرتے تھے، ان کے جسموں سے کھیلنا ان کا محبوب ترین مشغلہ تھا۔
اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس نے ماں کے قدموں میں جنت کی بشارت دی یعنی ماں (جو درحقیقت عورت ہی کا ایک عظیم روپ ہے) راضی تو رب راضی‌۔ اسلام ہی نے بیٹیوں کی پرورش و پرداخت پر جنت کی خوش خبری سنائی، اسلام ہی نے بیٹیوں کو وراثت میں حصّہ دینے کی پہل کی، اسلام ہی وہ اکلوتا مذہب ہے جہاں بیوی اور شوہر کے یکساں حقوق بیان کئے گئے ہیں، اور نبی اکرم ﷺ نے ان حقوق کو عملی جامہ پہنا کر دکھایا ہے، اور بیوی سے حسنِ سلوک پر بشارتیں سنائی ہیں نیز بدسلوکی پر عذابِ الٰہی سے ڈرایا ہے۔
اسلئے دین اسلام میں ہر دن یوم خواتین، ہر دن یومِ ماں اور ہر دن یومِ شریکِ حیات ہے!

Comments are closed.