ایک خواب گراں درپیش ہے

مولانا عبد القادر فریدقاسمی
حیدرآبادی
9000003701
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ااعمال اور جزائے اعمال کے اعتبار دو گھر بنائے ہیں ،ایک کو دارالفنا کہاجاتا ہے دوسرے کو دارالبقا بتلایا جاتا ہے،دارالفنا کو دارالامتحان،عارضی،کمزور،مصائب و آلام سے بھرا گھربنایا گیا،یہاں کی ہر مصیبت فانی اور ہر نعمت میں زوال رکھاگیا،جس نعمت کے حصول کیلئے آدمی تگ ودو کرتا ہے،اپنی قیمتی عمر کو صرف کرتا ہے غور کرنے سے معلوم ہوتا ہےکہ وہ ساری نعمتیں ہیچ اور اس کا انجام مٹنا،ختم ہونا ہے چاہے وہ مأکولات ومشروبات یا ملبوسات،زروزن ہوں یا عمارت وجائیداد ہر ایک کو گہن لگنا ہے،ان سب کے مقدر میں تغیر وتبدیلی کے بعد فنا ہوجانا ہے،انسان کی تمام کاوشوں کا محور ایک لقمہ اور ساری توانائیوں کے صرفہ کا انجام کچھ دولت وجائیداد ہیں لیکن جب وقت واپسیں درپیش ہو یہ تمام چیزیں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں وہ اپنے سفر آخرت کی طرف تن تنہا نکل پڑتا ہے،حسرت سے آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جاتی ہیں،جب نگاھوں کے سامنے پردے ہٹائے جاتے ہیں برزخ کے مناظر روبرو ہوتے ہیں تب اپنی غفلت پر افسوس اور اپنی دولت پر ماتم کناں ہوتا ہے۔
اسی حسرت و افسوس سے بچانے کے لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں جگہ جگہ دنیائے دنی کی بے ثباتی کو بیان فرمایا ہے،اس کی پوری حقیقت کو واشگاف فرمایا جو ایک صاحب بصیرت کے لئے وافی شافی وضاحت ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس دنیا کی حقارت وذلت کو ایسی واضح مثالوں سے ذکر فرمایا جو ایک موٹی عقل رکھنے ولے کے واسطے دنیا کی اصلیت سمجھنے کے لے کافی ہے۔
باری تعالیٰ نے قرآن پاک میں ایک مقام پر دنیا کی دو صفتیں بیان فرمائ ہے وماھذہ الحیوۃ الدنیا الا لھو ولعب کہ یہ دنیا محض لہولعب کی جگہ ہے جس طرح لہو ولعب کھیل کود کچھ دیر کا تماشہ ہوتا ہے جب کھیل ختم ہوا کھلاڑی ایک طرف تماشہ بیں ایک طرف ہوجاتے ہیں اس کھیل سے دونوں کو کوئی مستقل فائدہ حاصل نہیں ہوتا کچھ اسی طرح دنیا کی مثال بھی ہے کہ یہ ایک کھیل کی جگہ ہے اس کی رنگینیاں،چمک دمک،مکاریاں اس کا کھیل ہیں اور انسانیت تماشہ بیں ہیں ذرا ہم غور کرینگے تو پتہ چلے گا کہ کھیل کے میدان میں تماشہ بینوں کو کچھ دیر کی لذت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا ایسے ہی اس دنیا کے پیچھے اپنی عمر کو ضائع کرنے والے کے لئے اپنا وقت،اپنا ایمان،اپنی آخرت کی بربادی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا،دنیا کو لہولعب کہنے کی دوسری وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ جس طرح انسان کھیل کود میں مشغول ہو کر اپنے اصل کام سے غافل ہوجاتا ہے ایسے ہی انسان دنیا کے جھمیلوں میں پڑکر مقصد تخلیق کو فراموش کر بیٹھتا ہے اور تیاری آخرے سے بے بہرہ بن جاتا ہے،دنیا کی وہ تمام چیزیں جو بندہ کو اس کے رب اور شاہ عرب سے غافل کرنے والی ہیں وہ سب فتنہ اور عذاب خداوندی کو دعوت دینی والی اور اخروی خسران کا سبب ہیں،چاہے وہ مال ہو یا تجارت،اولاد ہوں یا خاندان اگر یہ چیزیں اللہ اور اس کے رسول کی محبت واطاعت میں آڑ ہیں تو اب یہ نعمت نہیں زحمت ہیں،کیونکہ دنیا کمانے،جمانے سے منع نہیں کیا گیا ہے بلکہ اس پر فخر کرنے اس کو دل میں بساکر آخرت سے بے توجہی برت نے سے منع کیا گیا ہے اس لئے کہ اصل حیات تو حیات آخرت ہے ,دانشمندی یہی ہے کہ اصل اور دائمی حیات کی تیاری کی جائے نہ کہ عارضی مقام کو سنوارا جائے۔
نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے دنیا کی بے قیمت ہونے کو سمجھا تے ہوئے ایک عیب دار،مردار بکری کے بچہ کی طرف اشارہ کرکے فرمایافواللہ للدنیا اھون علی اللہ من ھذا علیکم اللہ کی قسم اس دنیا کی حیثیت اللہ کے یہاں اس مردار سے بھی زیادہ کمتر ہے ایک دفع دنیا کی بے وقعتی کو سمجھانے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا لوکانت الدنیا تعدل عند اللہ جناح بعوضۃ ما سقی کافرا منہا شربۃ ماء اگر اللہ کے یہاں دنیا مچھر کے پر کے برابر بھی قابل وقعت ہوتی تو کافر کو پانی کا ایک گھونٹ بھی میسر نہ ہوتا،کبھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے دنیا کو مردار اور اس کے پیچھے پڑے رہنے والے کو کتا قرار دیا،ان مثالوں اور تشبیھات سے دنیا کا اھون واذل ہونا سمجھ میں آ جاتا ہے،یہ صرف مثالیں اور تشبیھات ہی نہیں تھی بلکہ ہمارےنبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے عمل سے بھی اپنے اصحاب کو دنیا سے بے تعلق بن کر بتلایا ,حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے دربار گہر بار میں تشریف لائے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے جسم اطہر پر چٹائی کے نشانات ہیں بے ساختہ آنسو چھلک پڑے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے نے پوچھا کیوں رو رہے ہو ؟حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یارسول اللہ قیصر وکسری کو کافر ومشرک ہونے کے باوجود دنیا میں ہرطرح کا آرام میسر ہے آپ تو دونوں جہاں کے سردار ہیں آپ اس قدر تنگی کیوں اختیار کرتے ہیں ؟آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا أما ترضی ان تکون لھم الدنیا ولنا الآخرۃ کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو ان کے حصہ میں دنیا ہے اور ہمارے حصہ میں آخرت ہے یہ تعلق تھا دنیا کے ساتھ اس ذات کا جس کی وجہ سے اس کائنات کی تخلیق وتزئین ہوئی ,ایک دفعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت ابن عمر کے کندھوں کو پکڑ کر ارشاد فرمایا کن فی الدنیا کانک غریب او عابر سبیل "دنیا میں ایک رہ گزر کی طرح زندگی گزارو جیسے مسافر کے پیش نظر اپنی منزل ہوتی ہے اسی طرح مومن بندہ کا مطمح نظر اور مقصود زندگی آخرت ہونا چاہئے ,حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے اذا امسیت فلاتنتظر الصباح واذا اصبحت فلاتنتظر المساء وخذ من صحتک لمرضک،ومن حیاتک لموتک ” جب تم شام کرلو تو صبح کا انتظار مت کرو اور جب صبح کرلو تو شام کا انتظار مت کرو اور اپنی صحت کو مرض سے پہلے اور زندگی کو موت سے پہلے غنیمت جانو "جب ہماری زندگی کی شام ڈھلے گی تب پتہ چلے گا کہ دنیا کی حقیقت کیا تھی اور ہم نے اس دنیا میں کیا کھویا اور کیا پایا اب صرف افسوس ہوگا پھر اس افسوس کا کچھ مداوا نہیں ہوگا کیونکہ دنیا جائے عمل ہے اور برزخ وآخرت مقام حساب ہے ایسے وقت لوٹ کر جانے کی تمنا بےسود اور اعمال صالحہ کی خواہش بے فائدہ ہوگی، اسی حقیقت کوسمجھاتے ہوئے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا ارتحلت الدنیا مدبرۃ وارتحلت الآخرۃ مقبلۃ،ولکل واحدۃ منھما بنون،فکونوا من أبناء الآخرۃ،ولاتکونوا من أبناء الدنیا،فان الیوم عمل ولاحساب،وغدا حساب ولاعمل "دنیا پیٹھ پھیر کر بھاگ رہی ہے اور آخرت تیزی کے ساتھ سامنے آرہی ہے دنیا وآخرت دونوں میں سے ہر ایک دل دادہ ہیں تم آخرت کے دل دادہ بنو دنیا کے نہیں کیونکہ آج عمل ہے حساب نہیں اور کل حساب ہے عمل کی گنجائش نہیں ہے،دنیا اپنی بوقلمونیوں،رنگینیوں،رعنائیوں،دلکشیوں کے باوجود اپنی انتہا کی طرف رواں دواں ہے،ختم ہونے فنا ہونے کے ڈگر پر ہے اور آخرت اپنی بیش بھا نعمتوں اور اپنے انجام کے حسن و بد کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے جو کہ درحقیقت حیات دائمی ہے،آخرت کی توشہ سازی کو ترک کرکے دنیا کی مختصر ترین زندگی کو اپنی دل بستگی کاسامان بنانا اور اسی دنیائے دنی کو مقصود زندگی سمجھ لینا دینی بے شعوری پن اور فکری بےراہ روی ہے عش ماشئت فانک میت والزم ماشئت فانک مفارقہ ” جی لو جس قدر جینا ہے ایک دن ضرور زنگی کی شام ہونے والی ہے اور جس چیز کو تو چاہتاہے اسے لازم پکڑ تو اس سے ضرور جدا ہونے والا ہے ,جب یہ بات طے ہے کہ زن وفرزند کو چھوڑنا ہے،ایک دن مال ودولت سے دست بردار ہونا ہے تو عقلمندی کا تقاضہ یہی ہے کہ ان چیزوں کی محبت کو دل میں اس طرح نہ بسایا جائے کہ وہ یادالہی غافل اور فرائض کی ادائیگی میں مانع ہو اگر یہ چیزیں تیاری آخرت میں مانع ہوں تو نص قطعی ہمے حکم دیتی ہے کہ ان سے پرہیز کرنا ازحد ضروری ہے ان من ازواجکم واولادکم عدو لکم فاحذروھم،انما اموالکم واولادکم فتنۃ –
ہوش کے ناخن لینے،غفلت کا پردہ چاک کرنے،دنیا کی بے ثباتی اور آخرت کی بقاودوام کو سمجھنے کی ضرورت ہے
باش بیدار کہ خوابے عجبے درپیش است

Comments are closed.