جہیز اور تِلک لینے والے دیندار بھی ہیں۔

 

محمد صابر حسین ندوی

Mshusainnadwi@gmail.com

7987972043

 

 

جہیز کے متعلق لکھنے والوں کی کمی نہیں ہے، اس موضوع پر لائبریریوں میں ضخیم کتابیں پورے آب و تاب کے ساتھ جلوہ بکھیر رہی ہیں، اس سلسلے میں دلائل پیش کرنے والے بھی کوئی کم نہیں ہیں، باریک سے باریک مسئلے کی وضاحت اعتراض اور جواب؛ بلکہ بال کی کھال نکالنے والی تحریروں کی بھی بھرمار ہے، وہیں چیخ چیخ کر اور گلا پھاڑ کر بیان بازی کرنے والے بھی بہت ہیں، جبہ، قبہ اور دستار میں ملبوس اسٹیج پر تابڑ توڑ جہیز کو حرام کہنے اور تِلک (وہ نقدی رقم/پراپرٹی جو لڑکے والے لڑکی والے سے باقاعدہ مطالبہ کر کے لیتے ہیں؛ گویا لڑکے کی خرید و فروخت ہوتی ہے، اور سوسائٹی میں حیثیت و مقام کے اعتبار سے بولیاں لگائی جاتی ہیں) کو ایک ناسور زخم قرار دینے میں بھی پیچھے نہیں ہیں، جس نے معاشرتی بازو کو اتنا مجروح کردیا ہے کہ اب اصلاح بھی مشکل معلوم ہوتی ہے، اور ایسا لگتا ہے کہ شاید مجموعی اعتبار سے سماج اس لعنت پر قابو پاتے پاتے سینکڑوں ارمانوں اور پھولوں کو قربان کی بَلی دی جاچکی ہوگی، درحقیقت معاشرے میں نمایاں رول ادا کرنے والے یا پھر سطحی ذہنیت رکھنے والے بلکہ وعظ و نصیحت کرنے والے بھی عملی طور پر اس عذاب میں ملوث ہیں، سچ جانیے! وہ خود جہیز کے شیدائی ہیں، وہ دوسروں کی دولت اور رسوم کی آڑ میں اپنی حرص پوری کرنے کے رسیا ہیں، انہوں نے اپنے بچوں کے لئے جہیز لیا ہے، پڑوسیوں اور رشتے داروں کو ایسے رشتے کروائیں ہیں جن سے جہیز کی آمد ہے، جیب بھری جائے، وہ خود اپنے ہاتھوں سے نقدی پیسے بھی لے چکے ہیں، سامان بھی لیا ہے، رسم و رواج اور ضرورت کے نام پر یا پھر سماج میں چلتا ہے کہہ کر سب کچھ کیا ہے، ہمارے سیکڑوں جاننے والے ہیں جنہوں نے اعلی سندیں حاصل کیں، بڑی بڑی یونیورسٹیز میں گئے، وہ نوکریاں کرتے ہیں، روزگار کے سلسلے میں وہ کسی سے پیچھے نہیں ہیں، پھر بھی دھڑلے سے اپنی بولیاں لگاتے ہیں، خواہ عمر گزری جاتی ہو، جوانی کی شب ڈھلتی جاتی ہو، چہرے پر جھرّیاں پڑنے لگی ہوں، اخلاقی اقدار اور ساخت و پرداخت پر لوگ طعنے بھیجتے ہوں، مگر شادی کے وقت لاکھوں لاکھ تک بات جاتی ہے، ہمیں ان سے شکایت ہے، اور بار بار ہے کہ تم پڑھ لکھ کر ایک ایسے رسم کو کیوں رواج دیتے ہو جس سے تمہاری مائیں گزر چکیں، تمہاری بہنوں کے لئے گلے کا پھندا بنی ہوئی ہیں، کل کو تمہاری بھی بیٹیاں ہوں گی انہیں کیا دوگے، کیسے رسمی ستم برداشت کروگے؟

ذرا نگاہ اٹھاؤ اور دیکھو! تمہارے پڑوس میں جہیز اور تلک کا بندوبست نہ ہونے کی ہی وجہ سے خودکشیاں ہورہی ہیں، بچیاں غیر مسلموں کا آسان شکار بن رہی ہیں، جوانی ایک لعنت بن گئی ہے، ان کے گھروں میں بے چینی ہے، لڑکی کے والدین خود کو سب سے زیادہ بد نصیب، قسمت کا مارا اور بے نصیبہ سمجھ رہے ہیں، وہ رات دن روتے ہیں، گڑ گڑاتے ہیں، گہار لگاتے ہیں، آنسو بہاتے ہیں کہ کیسے بھی ایک عدد لڑکا مل جائے کہ اپنی بیٹی کے ہاتھ پیلے کردیں، اس کے ہاتھوں میں بھی مہندی سَجے، ادھر لڑکی اپنے والدین کی بدنصیبی دیکھ دیکھ کر کبھی کبھی تو زہر کا گھونٹ پی لیتی ہے اور سب کے لئے راحت چھوڑ جاتی ہے، یا پھر گھٹ گھٹ کر جیتی ہے، آئے دن اصحاب استطاع کے گھروں میں بارات کے آنے جانے کی آوازیں سن کر اس کا دل بیٹھتا ہے، وہ سوچتی ہے کہ اے خدا! میں نے کون سی غلطی کردی اور ایسا کیا کردیا کہ میں اپنی جوانی اور اپنی زندگی کے لئے لعنت بن گئی ہوں، اسلام تو بچیوں کو رحمت قرار دیتا ہے میں پھر کیوں زحمت بن گئی ہوں، بابا کیوں کہتے ہیں کہ سینے کا بوجھ اتارنا ہے، غم غلط کرنا ہے، بیٹی کو بیاہ دوں تو حج کر آؤں، کیا میں اتنی حقیر اور بوجھ مخلوق ہوں، بھلے ہی کبھی وہ خاموش رہتی ہے؛ لیکن بڑھتی عمر کی خلش اور فکریں اس کے ماتھے پر اجاگر رہتی ہیں، مرجھایا چہرہ، آنکھوں کی نمی اور ماتھے کی لکیریں اس کا جوبَن بگاڑ دیتی ہیں، آہ—! اپنے آس پاس، رشتے داروں اور اقربا میں دیکھیں، گاؤں کا ایک چکر لگائیں، محلے کے احوال معلوم کریں، تو اندازہ ہوگا کہ کیسی بدنصیبی پھیلی ہوئی ہے، سماج نے جہیز کو کیسے ناسور بنا دیا ہے، جب تک ایک غریب بھی دو لاکھ چار لاکھ کا انتظام نہ کرلے وہ اپنی بیٹی نہیں بیاہ سکتا، اگر بیاہ دی تو لڑکا شاید کسی لائق نہ ہوگا اور وہ اسے جہیز کے مطالبہ سے ہی مار دے گا، آپ ایسا نہ سوچیے کہ صرف پڑھے لکھے ہی جہیز لیتے ہیں؛ بلکہ اَن پڑھ لوگ اپنی ذکوریت کا اتنا گھمنڈ رکھتے ہیں کہ جب تک ان کی بولی نہ لگ جائے، انہیں مارکیٹ میں خرید نہ لیا جائے تب تک وہ ٹَس سے مَس نہیں ہوتے، وہ بھی اپنی ناک اور بھنو چڑھائے ہوئے یوں مطالبہ کرتے ہیں کہ گویا شادی سے وہ ان پر احسان عظیم کر رہے ہیں، اگر وہ نہ ہوتے تو پھر اس لڑکی کا کیا ہوتا؟

اب تک آپ یہ سمجھ رہے ہوں گے کہ دنیا دار اور اَن پڑھ لوگوں نے اس لعنت کو عام کیا ہوگا، انہیں کی وجہ سے سوسائٹی ایک عمیق غار کی طرف بڑھ رہی ہے، مگر ایسا نہیں ہے، خاکم بدہن اور افسوس صد افسوس اس میں دین داروں (بزعم وہ خود اور شباہت مراد ہے) کا بھی پورا پورا ہاتھ ہے، بلکہ کہا جائے تو کیا غلط ہوگا کہ سب سے زیادہ انہیں کا ہاتھ ہے، کہتے ہیں اگر ایک پولس والا قانون توڑے تو اس کی قانون شکنی کا جرم اور سزا دوگنی ہوتی ہے، پھر کیوں نہ کہا جائے کہ دینداروں کا یہ عمل دو گنا سہ گنا سزا کا استحقاق رکھتا ہے، آپ جانتے ہیں کہ ”بہار امارت شرعیہ“ کی لگ بھگ سو سالہ تاریخ ہے، اس کا اثر بہار، جھارکھنڈ، اڑیسہ وغیرہ میں ہے، اتر پردیش تو علماء کا گڑھ ہے؛ لیکن سب سے زیادہ سماجی برائیاں خصوصاً جہیز اور تلک کا رواج انہیں جگہوں پر ہے، خاص طور پر بہار اور اس کے آس پاس تو جہیز اور تلک کی لعنت ایسی ہے؛ کہ ایک غیور لڑکی کے لئے دین حجاب نہ ہو تو اپنے آپ کو زندہ جلا لینا مناسب سمجھتی ہے، اور اگر تربیت و ایمان کی کہیں کمی رہ گئی تو پھر غیروں کے ساتھ بھاگ جانا بھی روایت پارہا ہے، الحمد للہ امارت شرعیہ کی گرفت مضبوط ہے، اب اس گئے گزرے دور میں لوگ اسے معتبر ادارہ مانتے ہیں، اس کی خدمات کو بھی سراہتے ہیں؛ لیکن نہ جانے کیوں وہ قضا پر زیادہ توجہ دیتے ہیں اور اسباب قضاء پر کم، نکاح کو آسان بنانے کی فکر کم ہے بمقابلہ اسے بآسانی انجام کو پہنچانے کے ذرائع زیادہ فراہم کیے گئے ہیں، جگہ جگہ دارالقضاء ہیں جو یقیناً ہونا چاہیے؛ لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے کہ وہی قاضیان خود جا کر نکاح پڑھاتے ہیں، ایجاب و قبول کرواتے ہیں؛ لیکن ایک لفظ نہیں کہتے کہ شادی میں جہیز اور تلک (نقدی رقم) کا کیا حال ہے، خصوصاً عائشہ کے واقعہ کے بعد بلکہ اس سے پہلے سے ہی متعدد مقامات پر یہ فیصلے لیے گئے ہیں کہ کوئی ایسی جگہ نکاح نہیں پڑھائے گا، مگر بہار اب تک اس سے خالی کیوں ہے؟ بھوپال اور کئی صوبے الحمد للہ فوقیت رکھتے ہیں، اور ہندوستان کا ساؤتھ تو پہلے سے ہی ممتاز ہے کہ یہاں صنف نازک کی عزت بھی خوب ہے اور جہیز کی لعنت بھی برائے نام ہے، خصوصاً تلک کا کوئی تصور نہیں ہے، آہ— دینداروں!!! یہ کیا حال ہوگیا؟ ابھی ابھی کی بات ہے کہ متعلقین میں ایک بچی کی شادی جس گھرانے میں طے پائی ہے ان کے سسر وہی دیندار ہیں، حیرت تو تب بڑھ گئی جب یہ سنا کہ وہ جہیز کا مطالبہ اس لئے کہ کر رہے ہیں کہ لاک ڈاؤن ہوگیا تھا، حالاں کہ متعدد بیٹے ہیں، خدا جانے پہلے لڑکے کے وقت کیا مجبوری تھی کہ اس وقت بھی جہیز لیا گیا تھا، لیکن کیا کریں؟ کون سنتا ہے؟ اسی لئے اس موضوع پر لکھنے کے لئے مطالبہ کرنے والوں سے بار بار راقم نے عرض کیا ہے کہ اس پر لکھنے سے سوائے تذکیر کے کوئی خاص فائدہ نہیں ہے؛ بلکہ عملی میدان میں کام کرنے کی ضرورت ہے، اگر آپ اصحاب رسوخ ہیں تو اپنے ماتحتوں کی شادی بنا جہیز وتلک کے کیجیے! اگر آپ خود کر رہے ہیں تو پھر توبہ کیجیے کہ سماج کتنا ہی دباؤ بنائے آپ جہیز نہ لیں، اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

 

 

 

Comments are closed.