مدارس میں رامائن اور گیتا بھی لازمی
محمد صابر حسین ندوی
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
"اب مدرسوں میں رامائن اور گیتا پڑھائی جائے گی” کے عنوان پر سینئر اردو صحافی معصوم مرادآبادی لکھتے ہیں: "سرکار سے امداد یافتہ مدرسوں میں اب ہندو مذہب کی کتابیں پڑھائی جائیں گی اور یہاں پڑھنے والے طلبہ کو 100فیصد ’ہندوستانی‘ بنایا جائے گا۔ اس کام کا آغاز وزارت تعلیم نے اپنے ماتحت ادارے این آئی او ایس سے کیا ہے، جو فاصلاتی تعلیم کے ذریعے پرائمری، سیکنڈری اور سینئر سیکنڈری سطح کے طلبہ کو رامائن، گیتا، سنسکرت اور یوگا کی تعلیم سے بھی آراستہ کرے گا۔ ہندو مذہب اور ثقافت کی اس تعلیم کا آغاز فی الحال 100مدرسوں سے کیا جارہا ہے جن میں 50 ہزار طلبہ زیرتعلیم ہیں۔ مستقبل میں اس پروگرام کو 500 مدرسوں تک توسیع دی جائے گی۔ جب سے بی جے پی مکمل اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آئی ہے، وہ اس ملک کو ہندتو کے سانچے میں ڈھالنے کے ایجنڈے پر بہت تیزی کے ساتھ کاربند ہے۔ یوں تو ملک کے تمام کلیدی شعبوں کو زعفرانی رنگ میں رنگا جارہا ہے، لیکن اس مشن میں تعلیم اور تدریس کے شعبوں کو خاص اہمیت دی جارہی ہے تاکہ طلبہ کی ایک خاص نہج پر ذہن سازی کی جاسکے اور انہیں ہندتوا میں ضم کیاجاسکے۔ ملک کا سیکولر نظام تعلیم تو پہلے سے ہی ہندتوا کے زیراثر ہے، اب دینی تعلیم کے ان مدرسوں کی باری ہے جو اسلامی علوم اور شریعت کی تعلیم کے لیے مخصوص ہیں اور جہاں اسلام کی تعلیم دستور کی دفعہ25 کے تحت حاصل حقوق کے تحت دی جاتی ہے۔ دستور کی اس دفعہ میں ہر مذہب کے لوگوں کو اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور ان میں اپنے مذہب کے مطابق تعلیم وتدریس کی آزادی فراہم کی گئی ہے؛ لیکن موجودہ حکومت اپنے زعفرانی ایجنڈے کے تحت اقلیتوں کو حاصل دستوری تحفظ کو ہی ختم کرنے پر آمادہ ہے۔ این آئی او ایس نے اس نصابی تبدیلی کا بنیادی مقصد طلبہ کے اندر قدیم ہندوستانی ثقافت کو جاگزیں کرنا بتایا ہے۔ انگریزی روزنامہ ’ٹائمس آف انڈیا‘ (3مارچ 2021)میں شائع شدہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مرکزی وزارت تعلیم کے ذیلی شعبے این آئی او ایس(نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ) سے منسلک مدرسوں کے طلبہ کے لیے ہندومذہبی کتابوں ”وید، مہابھارت اور گیتا“ وغیرہ پر مبنی نصاب تیار کیا جائے گا۔ یہ بنیادی کورس تیسری، پانچویں اور آٹھویں جماعت کے طلبہ کے لیے ہوگا۔ واضح رہے کہ فی الحال این آئی او ایس سے ملک بھر میں تقریباً 100دینی مدارس منسلک ہیں جن میں 50 ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس سے مزید 500 مدرسوں کو منسلک کیا جائے گا۔ اس ’کارخیر‘ کے لیے مغربی یوپی کے مدرسوں میں اپنا اثر ورسوخ رکھنے والی علماء کی ایک جماعت حکومت کی مدد کرنے پر آمادہ ہوگئی ہے۔ مذکورہ جماعت کے جنرل سیکریٹری نے حال ہی میں اس سلسلے میں جو منصوبہ پیش کیا ہے، اسے گودی میڈیا نے خاص اہمیت دی ہے۔”
یہ سب مدارس کو زندگی کے اصل دھارے میں شامل کرنے کی کوشش ہے، کہا جاتا ہے کہ اس سے مدارس کے طلبہ روزگار پاسکیں گے، مگر کوئی ان سے پوچھے کہ جو طلبہ یونیورسٹیز اور کالجز سے فارغ شدہ ہیں ان میں سے کتنوں نے روزگار پالیا، یا یہ دعویٰ کرنا کہ ہندوستان کا پورا نظام تعلیم ماڈرن ہوچکا ہے یہ خود ایک دھوکہ ہے، مدارس جس حال میں بھی ہوں مگر یونیورسٹیز اور کالجز کا حال بھی کچھ الگ نہیں ہے، لاک ڈاؤن اور کرونا وائرس کے دوران دنیا بھر میں آن لائن تعلیم کا نظم کیا گیا؛ لیکن ہندوستان میں عموماً بڑے سرکاری ادارے اس سے یا تو یکسر محروم رہے یا پھر نظام ایسا رہا کہ تعلیمی اداروں پر شرم آئے، سینئر صحافی پونیہ پرسون باجپائی نے انہیں دنوں رپورٹنگ کرتے ہوئے ان باتوں کا خلاصہ کیا تھا، آخر حقیقت کیا ہے؟ حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ بھگوا رنگ مدارس سے ہمیشہ بدکتا رہا ہے، زعفرانیت کے لئے ایک سب سے بڑی رکاوٹ یہ مدارس رہے ہیں؛ چوں کہ یہ عوامی صرفے سے چلتے ہیں؛ اس لئے ان پر قابو پانا آسان نہیں تھا، اس لئے حکومت نے مدارس کو سرکاری کرنے اور ماڈرن ایجوکیشن سے جوڑنے کی پہل کی؛ نتیجتاً سینکڑوں لالچی اور خود غرضوں نے مدارس کا سودا کیا، بالخصوص بہار، بنگال اور اترپردیش کی حالت بدتر ہونے لگی، اب وہ سب کسمپرسی کے عالم میں ہیں، اعلی تنخواہوں کے باوجود بھوک مری کے شکار ہیں، ابھی کچھ دنوں قبل ایک ایسے ہی ادارے کے معلم کی حرکت قلب بند ہونے سے وفات ہوگئی، معلوم یہ ہوا کہ سترہ ماہ سے تنخواہ نہیں ملی تھی، مدارس تو عمومی ان کے منتظمین کی بنا پر اپنی ناکامیابیوں اور حالات کی سنگینی کی طرف بڑھ رہے ہیں؛ مگر سرکاری مدارس اب آسان ٹارگٹ بن چکے ہیں، اس کی آگ پھیلتی جائے گی اور وہ وقت دور نہیں جب تمام مدارس کو بھگوائی رنگ میں رنگ دیا جائے گا، افسوس کی بات ہے کہ اب بھی انہیں کوئی ہوش نہیں ہے، جو لوگ مدارس کو قریب سے جانتے ہیں انہیں پتا ہوگا کہ اندرون کتنا کھوکھلا ہوچکا ہے، عوام اگرچہ محبت و عقیدت رکھتے ہیں اور اپنا خون پسینہ ان کے سپرد کرتے ہیں؛ لیکن بد دیانتی اور بدنظمی نے کیسے انہیں آگھیرا ہے، اللہ رحم کرے! اگر یہی حال رہا تو ایک طرف خود مسلمان ان مدارس سے دور ہوجائیں گے اور دوسری طرف سرکار انہیں ”نوالہ تر“ جان کر اپنے آپ میں ضم کر لے گی، ہندوستان میں دین کی نشر و اشاعت کا ایک اہم ستون زمین بوس ہوجائے گا اور تاریخ ہماری بے غیرتی پر ماتم کرتی رہ جائے گی۔
Comments are closed.