اپنی اولاد کو حسن عمل اور خلق حسن سے آراستہ کریں
محمد حسن ندوی استاذ حدیث وفقہ دارالعلوم ماٹلی والابھرو چ
اس وقت عائشہ بہن کے حادثہ فاجعہ کے بعد جہیز اورشادی کےموقعہ پرمروجہ رسومات کے خلاف کثرت سے مقالات ومضامین لکھے جارہیں ہیں ،کانفرنس اورڈیبٹیں ہورہی ہیں ،یہ خوش آئند قدم ہیں ،ظاہرہے کہ جب سماج اور معاشرہ میں ایک چیز کو ہرطبقہ برا اور ناسور سمجھتا ہے ،اس کی قباحت کو باربار بیان کرتا ہے تو( اذا تکررتقرر) کے تحت لوگوں کے دلوں میں اس کی شناعت بیٹھ جاتی ہے ،پھرلوگ ایسے امورسے معاشرہ کو پاک کرنے کی کوشش کرتےہیں،
لیکن اس وقت تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت پرتوجہ دینے کی ضرورت زیادہ ہے ،اس لئے میں نے یہاں اس پہلو سے اسوئہ نبوی کے کچھ باتیں پیش کی ہیں جن کو ہم تربیت اولادکے باب مشعل راہ بناسکتے ہیں
بھائیوں !ذراغور کیجئے ،بچہ پیدا ہونے کے بعد سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سامنے آذان اور اوراقامت کہنے کا حکم کیوں دیا ہے؟,جب کہ اس وقت بچہ نہ سمجھتا ہے نہ بولتا ہے پھر اول مرحلہ میں یہ حکم کیوں ہے؟ ہم نے کبھی غور کیا نہیں ،اصل میں بات یہ ہے کہ نومولود کا دل ودماغ اور قلب صاف شفاف آئینہ کی طرح ہوتاہے ،اس کے سامنے توحید ورسالت کا بول سب سے پہلے بولا جاتا ہے تواس کی چھاپ اور اثر اس کے دل پر پڑتا ہی نہیں بلکہ ایسے بچوں کے دل ودماغ میں فطرت اسلام اور ایمان ویقین کے پودے کی آبیاری شروع ہوجاتی ہے جیساکہ حدیث شریف میں ہے۔ ( کل مولود یولد علی الفطرۃ ابواہ یھودانہ اوینصرانہ اویمجسانہ(۔ رواہ البخاری )ہربچہ فطرت اسلام پرپیداہوتاہے چاہے اس کے والدین اس کو یہودی بنائے یانصرانی بنائے یامجوسی،
،اس لئے سب سےپہلے اچھا کلمہ آذان اور اقامت کے کلمات بولنے اور سنانے کا حکم دیاگیاہے ،اور کان میں دم کرنے کا حکم ہے ،تاکہ نومولود کے کان میں سب سے پہلے توحید ورسالت کی بات جائےاور ایمان ویقین کی بنیاد مضبوط ہو،ہم جانتے ہیں کہ جس مکان کی جڑاور بنیاد مضبوط ہوتی ہے تو وہ عمارت پائیدار اور مستحکم ہوتی ہے،اور جس کی بنیاد کمزور ہوتی ہے تو اس کی عمارت بھی کمزورہوتی ہے
خشت اول چوں نہد معمار کج
تا ثریا می رود دیوار کج
ظاہرہےجن بچوں کی دینی اور اسلامی ماحول میں پرورش و پرداخت نہیں ہوتی وہی بچے اور بچیاں ارتداد اور خودکشی جیسے جرائم سے دوچارہوتی ہیں ،جیسا کہ اسوقت واقعات پیش آرہے ہیں ،ا س لئے قرآن مجید حدیث پاک میں تعلیم سے زیادہ تربیت پرتوجہ دینے کی بڑی تاکیدآئ ہے، تربیت کے نقوش میں سے آذان و اقامت کے کلمات کہ کر دونوں کانوں میں دم کرنا، تحنیک کرانا،ساتوے دن حسب استطاعت عقیقہ کرنا،اچھا نام رکھنابولنے کے لائق ہو جائے تو کلمہ دعاء سکھانا، والدین کے حقوق ،بڑے چھوٹے بھائ اور بہن،رشتہ دار، پڑوسیوں کے حقوق بتانا ،بھلی اور معروف امورکی درجہ بدرجہ تلقین کرنا اور بری باتوں سے متنبہ کرنا اور چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر سرزنش کرنا حسن اخلاق کی بلندی پر پہنچانے کے لیے مفید ہی نہیں بلکہ انہیں تربیت کے باب میں غیر معمولی اور اساسی مقام حاصل ہیں ،ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت حسن حسین رضی اللہ عنھما کھانا کھارہے تھے ،اور دوسرے کے سامنے سے لیرہے تھے تو آپ نے کیا کہا ( کل مایلیک سامنے سے کھائو) باہر معمولی بات ہے لیکن اس میں ادب کے شہ پارے ہیں کہ اپنے سامنے سے کھانااٹھائے ہاں مختلف چیزیں ہیں جو دوسری طرف ہیں تو وہاں سے اٹھانے میں کوئ بات نہیں
اسی طرح جب بچہ چارپانچ سال کاہوجائے توسب سے پہلے ایسے مکتب میں داخل کرنا جہاں ایمان وعقیدہ ،توحید ورسالت کی باتیں سکھائ جاتی ہو،ایمان مجمل اور ایمان مفصل کی تعلیم دی جاتی ہو،
کیوں؟ اس لئے کہ جب بچوں کی تربیت دینی بنیادہرنہیں ہوتی،،تووہ بچے عامۃ اعلی تعلیم پانے کے بعد بھی صراطِ مستقیم سے منحرف ہوجاتے ہیں،
خاص طور پر وہ بچے جو میڈیکل سائنس (medical sciences) یا پولٹیکل سائنس (political science) میں جاتے ،جہاں توحید ورسالت سے ہٹکرگفتگو ہوتی ہے، صبح سے شام تک اس کابڑین واش کیاجاتا ہے،اس بنیادپر بچوں کے عقیدے خراب ہی نہیں بل کہ بعض تومرتدوملحدبھی ہوجاتے ہیں المعاذ اللہ
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو ضرور اعلی تعلیم سے آراستہ کریں، اسلام اس سے منع نہیں کرتا، اور اسلام کیسے منع کرےگا ؟جس کی پہلی وحی (اقراء باسم ربک ) پڑھنے پڑھانے اور تعلیم وتعلم کی ترغیب سے ہوئ ہے البتہ اسلام تعلیم کے ساتھ ساتھ اسلامی قالب میں تربیت کرنے کا بھی حکم دیتا ہے،اور اس کابھی حکم دیتا ہے کہ والدین اولاد کی تربیت پرشفقتانہ نظر رکھے ،اولاد کواپنے حال پر نہ چھوڑے ،گاہے بگاہے مبائل جانچ کرے ،کن لوگوں سے تعلق ہے؟ فرینڈکون لوگ ہیں؟ یہ بھی دیکھے،کیوں کہ دوست احباب سے انسان کے کیریکٹر اخلاق کا علم ہوتاہے، اچھے لوگوں کی صحبت سےاچھابنتاہے ،برے لوگوں کی صحبت سے برا
صحبت صالح تُرا صالح کند
صحبت طالح تراطالح کند
اولاد کی تربیت وپرداخت کامسئلہ ایک دن کانہیں بلکہ مرتے دم تک والدین اورگھرکے بڑے اورذمہ داروں پریہ بڑی اہم اورنازک ذمہ داری ہے ( کلکم راع وکلکم مسئول عن رعیتہ)متفق علیہ)
چنانچہ اسی احساس ذمہ داری کی بناپر حضرت یعقوب علیہ السلام مرنے سے پہلے اپنی اولاد سے جائدادومال کے بارے میں سوال نہیں کیا کہ میرے بعد کیا کھائوگے ؟کہاں بودو باش اختیار کر وگے؟ بلکہ یہ سوال کیا ( ماتعبدون من بعدی) البقرہ /133) میرے بعد کس کی عبادت کروگے؟ چوں کہ سوال کرنے والے نبی تھے ،جن سے سوال کیا وہ بھی نبی یا ولی تھے ،اس لئے اولاد نے اپنی شان اور مقام کے مطابق جواب دیا(نعبد الہک والہ آبائک ابراھیم واسماعیل واسحق الہا واحدا ونحن لہ مسلمون )ہم آپ کے معبود اور آپ کے آباء واجدادحضرت ابراہیم،اسماعیل اور اسحاق کے معبود کی عبادت کریں گے اور ہم اسی کے فرماں بردارہوکررہیں گے
غور کیجئے حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنی اولاد کی تربیت وذہن سازی کےلئے کس طرح فکرمند تھے ؟ان کی فکرمندی اس بات کی غماز ہے کہ وہ اپنی اولادکو دنیا میں ہی دین پر دیکھنا چاہتے تھے تاکہ دین پر ثابت قدمی کی حالت میں موت آئے اور باپ کی فکرمندی اور شفقتانہ سلوک کا نتیجہ تھا کہ صاحبزادگان نے اطمینان بخش جواب سے والدمحترم کو مطمئن کیا
یہ فیضان نظر تھا یا مکتب کی کرامت تھی
سکھایا کس نے اولادیعقوب کو آداب فرزندی
دوسری طرف اس دور کے والدین کا تربیت اولاد میں جو کردارہے وہ جگ ظاہرہے ،جو صرف مدرسہ یا اسکول کالج میں داخلہ کرادینا فرض منصبی سے سبکدوشی کے لئے کافی سمجھتے،یہ نہیں کبھی دیکھتے کیا میرا لڑکا یا لڑکی مدرسہ اسکول میں پڑھتی ہے یاکسی اور غیر شرعی کاموں میں مصروف ہے ؟،نہ ہم کبھی اس پہلو سے دیکھتے ہیں کہ اس کے دوست کون لوگ ہیں ؟ مبائل میں کیسے پروگرام ہیں؟،نہ ہم تربیتی اور اخلاقی اعتبار سے کوئ توجہ دیتے,اس لئے نتائج بہت افسوس ناک آرہے ہیں،( جوبوئیں گے وہی کاٹیں گے)،چنانچہ کوئ بھائ ارتداد کا شکارہورہاہے توکوئی بہن خودکشی جیسے عمل حرام کو اختیار کرہی ہے
العیاذ باللہ
وائ ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
ضرورت اس بات کی ہے جہاں ہم اپنی اولاد کو اعلی تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے تگ ودو کررہے ہیں وہیں اس سے زیادہ خلق حسن سے مزین کرنے کی فکرکریں( اللہم وفقنالما تحب وترضی)
Comments are closed.