والدین کا بچوں کی تربیت میں کاہلی و سستی کا عالم

 

 

از قلم: عبدالرحمن بن اسمٰعیل قاسمی اساروی

جس بیماری کو پنپتے پنپتے پندرہ بیس سال ہوجاتے ہیں اس کی اصلاح علما کی چند منٹ یا چند گھنٹے کی تقریر سے کیسے ہوسکتی ہے؟
آج کل کے والدین کی ایک عام سوچ جو بنی ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ والدین ہونے کے ناطے ہماری ذمے داری بچوں کو صرف کھلانے پلانے پالنے اور بڑے کرنے اور ان کو الگ الگ مکان دینے اور ان کی شادی کرنے کی ذمہ داری ہے۔
اور اس میں ہر والد اپنی مالی حیثیت کے اعتبار سے کامیاب بھی ہے اور مرتے وقت بچوں میں دینداری ہو یا نہ ہو لیکن دنیاوی سازوسامان کافی چھوڑ جاتا ہے۔
ہم یہ کہتے ہیں جس کو اللہ نے جیسی حیثیت دی ہے وہ ایسا کھلائے، اچھے سے اچھا کھلانا چاہیے، اچھے سے اچھا پہنانا چاہیے، بہت اچھی بات ہے اس میں کوئی شکایت نہیں؛ لیکن جب بچے کی تربیت کا مسئلہ آتا ہے تو وہی والدین جو بچوں کی خاطر اپنی جوانی کو جوانی نہیں سمجھتے اور نہ رات دیکھتے نہ دن، نہ حلال کی تلاش اور نہ حرام سے پرہیز، اولاد کی خاطر کمانے میں اندھے ہو چکے ہیں۔
وہی والدین بچوں کی تربیت کے متعلق بالکل عاجز نظر آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ مالک ہے۔
افسوس صد افسوس!
جو کام ہمارا ہے اس کو ہم نے اللہ کے حوالے کردیا اور اللہ کا کام (ہر بندے کو روزی دینا) اس کو ہم نے اپنے ذمہ لے لیا۔
یاد رکھنا بچوں کی تربیت کے تعلق سے ہم بہت بڑے مجرم ہیں اور اس جرم اور سنگین غلطی کو ہم ابھی تک تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ بچوں کو لے کر یہ غیر ذمہ دارانہ رویہ ہر عام و خاص میں ہے- جو مذہبی لوگ ہیں ان کے بچے بھی غیروں کے ساتھ شادی کر رہے ہیں اس میں کس کی خطا اور کس کی غلطی ہے مذہبی ہونے کے باوجود ایسے دن دیکھنے پڑ رہے ہیں! یاد رہے اس میں سب سے بڑے مجرم والدین ہیں۔ قرآن پاک میں اللہ تعالی نے والدین کو یہ ذمےداری دی ہے: ”یاایھا الذین آمنوا قوا انفسکم واھلیکم نارا و قودہا الناس و الحجارۃ“ (سورہ تحریم:٦)
(ترجمہ: اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔)

اس آیت کریمہ کے تحت ہر مسلمان پر بچوں کی تربیت فرض ہے۔ چاہے وہ دین دار ہو یا غیر دین دار، علماء ہو یا جہلاء۔ والدین ہونے کے ناطے اس میں سب برابر ہیں ہم اپنا سب محاسبہ کریں کہ کتنی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں۔
والدین کی ذمہ داری ہے کہ بچہ کے اندر اچھی سے اچھی صفات پیدا کریں اور ان کو آمادی کریں کہ وہ برائیوں سے بچ کر اچھائی کی طرف جائیں۔

نبی کریمؐ کا فرمان ہے:
عن عبد الله بن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:” الا كلكم راع وكلكم مسئول عن رعيته، فالامير الذي على الناس راع عليهم وهو مسئول عنهم، والرجل راع على اهل بيته وهو مسئول عنهم، والمراة راعية على بيت بعلها وولده وهي مسئولة عنهم، والعبد راع على مال سيده وهو مسئول عنه فكلكم راع وكلكم مسئول عن رعيته”. (مسند احمد: جلد١/ ۴٩٢٠)
ترجمہ: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار سن لو! تم میں سے ہر شخص اپنی رعایا کا نگہبان ہے اور (قیامت کے دن) اس سے اپنی رعایا (ماتحت) سے متعلق بازپرس ہوگی؛ لہٰذا امیر جو لوگوں کا حاکم ہو وہ ان کا نگہبان ہے اس سے ان کے متعلق بازپرس ہوگی اور آدمی اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور اس سے ان کے متعلق پوچھا جائے گا اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے اولاد کی نگہبان ہے اس سے ان کے متعلق پوچھا جائے گا غلام اپنے آقا و مالک کے مال کا نگہبان ہے اور اس سے اس کے متعلق پوچھا جائے گا، تو (سمجھ لو) تم میں سے ہر ایک راعی (نگہبان) ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے متعلق پوچھ گچھ ہو گی“۔

اس حدیث مبارک کو سامنے رکھ کر موازنہ کریں گے تو پتہ چلے گا اور آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائے گی جب ہم غور کریں گے اور اپنے آپ کو مجرم پائیں گے۔
میں یہ کہتا ہوں کہ مدرسے والے، مسجد والے، تبلیغی حضرات جو کام کر رہے ہیں وہ اپنی ہمت سے زیادہ اور اپنی ذمہ داری کو بخوبی پورا کر رہے ہیں؛ لیکن پھر بھی کوئی انقلاب آنے والا نہیں ہے۔
اور اگر اہل مدارس اس سے بھی زیادہ کریں اور والدین ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہے تو یاد رکھنا اس طرح کبھی بھی سدھار پیدا نہیں ہوسکتا۔

بچے ہمارے اسی طرح جوان ہوجاتے ہیں، ان کی شادی کا وقت ہوجاتا ہے، والدین شادی کردیتے ہیں اب شادی کے بعد جب ان کے گھر میں بچہ جنم لیتا ہے اور جس ماں کی گود میں بچہ جنم لیتا ہے. بیچاری اس ماں کو اس بچہ کو دودھ پلانے اور اس کی پرورش کرنے کے علاوہ کچھ نہیں پتہ ہوتا کہ اس بچہ پر کھلانے پلانے کے علاوہ ایک اور اہم ترین ذمہ داری ہے اس کو بھی پورا کرنا ہے۔ ماں کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ اس اہم امر کو کس طرح انجام دیا جائے؟
جب اس کو سکھایا ہی نہیں جاتا کہ کتنی بڑی ذمہ داری ہے اور کس طرح بحسن و خوبی اس کو ادا کرنا ہے تو وہ کیسے کرے گی؟

یاد رہے ہماری غلطی یہیں سے ہے اور اس کی اصلاح بھی یہیں سے ممکن ہے۔
اس کے ذمہ دار کون؟ اس کے ذمہ دار ہم والدین ہیں اور کوئی نہیں؛ نہ مدرسہ والے، نہ مسجد والے اور نہ علماء-

ابھی لاک ڈاؤن کا دور جس سے ہم گزر رہے ہیں ایک سال تک مدارس بند رہے. سب کے سب تماشائی بنے رہے اور مدارس کی طرف تکتے رہے. کیا ہمارے پاس مدرسوں کے علاوہ قوم کے سامنے اس کا متبادل کچھ نہیں ہے؟ اللہ نہ کرے اگر یہی حالات دس بیس سال چل جائے تو ہمارا تو نام و نشان ہی مٹ جائے! اس دوران ایسی ایک بھی مثال بن کر سامنے نہیں آئی کہ جس سے راحت کی سانس مل سکے کہ
کسی نے بھی اپنے گھر کو مدرسہ بنایا ہو اور اپنے بچوں کو ہر وہ چیز دی ہو جس کی اس کو تربیت کے اعتبار سے ضرورت ہے۔
اس ایک سال کے عرصے میں جو نقصان ہوا وہ ہمارے سامنے ہے۔ بتائیں! یہ کس کی سستی اور غیر ذمہ داری ہے؟
کتنا اہم فریضہ ہے اور ہماری سستی کا کیا عالم ہے اللہ کے یہاں دینے کو ہمارے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔ جو شخص اپنی اولاد کی اچھی تربیت نہ کر سکا اور ان کے اندر دین داری نہ پیدا کرسکا وہ اس دنیا کا سب سے ناکام والد ہے اور گویا اس نے اپنی اولاد نہیں؛ بلکہ نسل برباد کرلی ہے۔
اولاد سے زیادہ قیمتی سرمایہ ایک مومن کے لیے اس دنیا میں کچھ بھی نہیں؛ نہ مال، نہ دولت، نہ عزت، نہ شہرت۔ اور یہی سرمایہ ہمارا عنداللہ نجات کا ذریعہ بن سکتا ہے اور یہی عذاب کا بھی ذریعہ بن سکتا ہے۔

اس لیے میری انتہائی ادب اور عاجزی کے ساتھ والدین سے والدین ہونے کے اور علماء سے علماء ہونے کے ناطے یہ گزارش ہے کہ ہم اس طرف توجہ دیں اور ہر شخص اس فکر میں رہے کہ اس دنیا میں کفر کا خاتمہ کیسے اور مذہب اسلام کا بول بالا کیسے ہو؟
پھر دیکھیے اللہ کی مدد کیسے شامل حال ہوگی۔ حل ہمارے ہاتھ میں ہے شرط ہے کہ ہم اسکو صحیح طریقے سے تلاش کریں۔
اللہ پاک ہم سب کو اس فریضہ کو فریضہ سمجھ کر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور آج معاشرے میں جو بد دینی اور ایک مہلک بیماری تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے ارتداد کی، اس سے ہماری اور ہمارے بچوں کی حفاظت فرمائے۔ آمین یا رب العالمین

Comments are closed.