گداگری

از قلم: انعم شہزادی

کسی سے کچھ مانگنا اور اس کے بدلے میں کوئی کام نہ کرنا پیسے لے کر واپس نہ کرنا، بھیگ مانگنا گداگری کہلاتا ہے۔ پہلے زمانے میں گداگری مجبور ہو کر کی جاتی تھی۔ کوئی اپائج ہوتا یا بالکل بیکار ہوتا یا کوئی ایسا ضرورت مند ہوتا جس کی ضرورت اپنی معاش سے پوری نہ ہو سکتی یا جس کا کوئی معاشی وسیلہ نہ ہوتا تو مجبور ہو کر بھیک مانگتا مگر؛ آج کل بھیک مانگنے کے بہت سے ذریعے ایجاد ہوگئے ہیں۔ کوئی التجا کرکے مانگتا ہے، کوئی فریاد کرکے مانگتا ہے، کوئی گانا گا کر مانگتا ہے، کوئی ساز یا باجا بجا کر مانگتا ہے، کوئی جعلی اپائج بن کر مانگتا ہے، کوئی بے یارومددگار مسافر بن کر مانگتا پھرتا ہے اور کوئی اپنا مالی نقصان ہونے کا بہانہ بناکر مانگتا ہے۔ ان میں سے زیادہ سے زیادہ 5 فیصد لوگ ایسے ہوتے ہیں جو واقعی حقدار ہوتے ہیں۔ جبکہ 95 فیصد پیشہ ور لوگ ہوتے ہیں۔ جنھوں نے گداگری کو خاندانی طور پر اپنایا ہوا ہوتا ہے اور بہت سے لوگوں نے اسے بطور کاروبار اپنایا ہوا ہے۔ کیونکہ جب انسان اپنی غیرت کو خیرباد کہہ دیتا ہے تو اسے مانگنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتی۔
آج کل کچھ لوگ اتنے ہوشیار اور چالاک ہوگئے ہیں کہ انھوں نے گداگری کے لیے عجیب و غریب قسم کے طریقے اپنا رکھے ہیں۔ کئی آدمی اچھے بھلے ہوتے ہیں مگر ظاہری طور پر اندھے بنے ہوتے ہیں، کئی لوگ اپنے آپ پر منصوعی رعشہ طاری کر لیتے ہیں تاکہ لوگ ان پر ترس کھا کر انھیں زیادہ سے زیادہ پیسے دیں۔ اس کے علاوہ کئی لوگ مسجد اور دینی مدرسے کا بہانہ بنا کر مانگتے پھرتے ہیں اور اسلام اور مذہب کا واسطہ دے کر لوگوں سے پیسے بٹورتے پھرتے ہیں۔ یہ لوگ کاروباری ذہن سے مانگتے ہیں۔ لوگوں کو آیات اور احادیث سنا سنا کر بھی پیسے دینے کے لیے تیار کر لیتے ہیں خاص طور پر عورتیں ان سے بہت جلد متاثر ہوجاتی ہے۔
بعض دفعہ گداگر ایسے موقعوں کی تلاش میں رہتے ہیں کہ لوگ سمجھیں کہ یہ آدمی ہمارے لئے فرشتۂ رحمت بن کر آیا ہے وہ اسے واقعی پہنچا ہوا بزرگ سمجھنے لگتے ہیں۔ کںٔی لوگ اس طرح بھی کرتے ہیں کہ کسی کے حالات کسی نہ کسی ذریعے سے معلوم کرکے اس کے گھر چلے جاتے ہیں اور اس کا ہاتھ دیکھ کر فال نکال کر اس کے حالات بیان کرتے ہیں جو بالکل درست ہوتے ہیں اور اس طرح لوگوں کو چکمہ دے کر لوٹ لیتے ہیں۔
آج کل کے گداگر صرف گداگر ہی نہیں ہوتے بلکہ گداگری کے بھیس میں جرائم کا ارتکاب بھی کرتے پھرتے ہیں۔گھروں میں بظاہر ایک گداگر بن کر گھستے ہیں اور چوری، ڈاکے اور قتل وغارت کے واقعات تک کا ارتکاب کرتے ہیں۔ایسے ایسے واقعات بھی ہوتے ہیں کہ ایک عورت کو گھر میں مانگنے کے لیے بھیجا جاتا ہے جس کے پیچھے مسلح افراد ہوتے ہیں، عورت مانگنے کے لیے گھر کے اندر داخل ہو جاتی ہے اور وہ اگر دیکھتی ہے کہ گھر میں اکیلی خاتون خانہ ہے تو اس طرح کی آوازیں نکالتی ہے جس سے اس کے ساتھ والے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ واقعی گھر میں عورت اکیلی ہے اور جرم کا ارتکاب آسانی سے ہو سکتا ہے، وہ جھٹ اندر داخل ہو کر عورت کو دبوچ لیتے ہیں اور گھر سے روپیہ پیسہ، زیور وغیرہ لوٹ کر لے جاتے ہیں اور ایسا کرنے کے بعد یہ رقم اپنی عیاشی اور شراب و کباب میں خرچ کرتے ہیں۔
گداگری جیسے مکروہ فعل کی حوصلہ افزائی ایسے عوام ہی کرتے ہیں جو ضعیف العقیدہ، بے وقوف اور سادہ لوح ہوتے ہیں۔ اس کا علاج حکومت آسانی سے کر سکتی ہے۔ کیونکہ جب حکومت کسی بیرونی دشمن سے لڑسکتی ہے تو اپنے ہر حکم کی تعمیل بھی کروا سکتی ہے۔ جو حکومت قانون نافذ کر سکتی ہے اور اس پر عمل کروا سکتی ہے تو کیا وجہ ہے کہ گداگری ختم نہیں کروا سکتی؟ اس کے لیے باقاعدہ اپاہج خانے ہونے چاہیے جہاں پر بے بس اور معذور لوگ داخل ہوں، جن کی مکمل کفالت حکومت کے ذمہ ہو، اس کے علاوہ ہر قسم کی گداگری قانوناً جرم قرار دی جائے۔ مخیر حضرات محتاج خانوں کو امداد دیا کریں، نیز ایسے اشخاص کو صدقہ، خیرات دیں جو واقعی عزت دار آدمی ہو اور جس کے متعلق پورا علم ہو کہ وہ کسی صورت بھی مانگنے کے لئے تیار نہیں۔ گداگری قوم کے جسم پر بہت خطرناک قسم کا ناسور ہے۔ اس سے بہت سے جرائم کی پرورش ہوتی ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ اب تو کافی حد تک لوگ بھی ان سے تنگ آئے ہوئے ہیں کیونکہ یہ مانگنے والے بڑے بیباک ہوتے ہیں۔ اس کو درست کرنا حکومت کا فرض ہے۔ عوام تو سادہ لوح ہوتے ہیں، اس معاملے میں وہ بے بس ہیں، اس معاملے کو سلجھانے کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

Comments are closed.