"بے مول آزادی یا انمول محبت”

قراۃالعین خالد(سیالکوٹ)

 

 

کچھ عرصہ پہلے ایک نعرہ بلند ہوا "میرا جسم میری مرضی” اس نعرے اور اس جیسے بہت سے مزید نعرے بلند ہوئے اور معاشرے میں ایک شور سا برپا ہو گیا۔ کچھ افراد نے اس کے حق میں آوازیں بلند کیں اور کچھ لوگ اس کی مخالفت میں کھڑے ہو گئے۔ بات ساتھ دینے اور مخالفت کی نہیں کیونکہ جب سے دنیا معرضِ وجود میں آئی ہے حق و باطل میں جنگ جاری ہے اور تا قیامت یہ جنگ جاری رہے گی۔ آخر میں فتح حق کے مقدر میں ہی قلم بند ہو گی یہ میرے اللہ پاک کا وعدہ ہے اور وہ اپنے وعدوں میں سچا ہے۔حقوقِ نسواں کے نام پہ اور آزادیِ نسواں کے نام پہ صدا بلند کرنے والے افراد یہ فراموش کر بیٹھے ہیں کہ اس کائنات کا خالق ومالک رب تعالیٰ ہے۔ بنی نوع انسان کو تخلیق رب نے کیا تو اس کا مالک بھی وہی ہے۔ خواہ پھر وہ مرد ہو یا عورت کسی بھی جنس کو خود پہ اختیار نہیں سارے کا سارا اختیار تو میرے رب سوہنے کا ہے۔ آج آزادیِ نسواں کے نام پر جو خواتین آواز بلند کر رہی ہیں وہ یہ جانتی نہیں کہ اللہ رب العزت نے محمد رسول اللہﷺ کے توسط سے عورتوں کے حقوق بتا دیئے۔

اسلام جو دینِ فطرت ہے اللہ رب العزت نے آدم اور حوا کو ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم قرار دیا ہے کائنات کی ہر شئی کو جوڑوں کی صورت بنایا ہے۔ اللہ پاک سورہ الروم آیت نمبر ۲۱ میں فرماتے ہیں "اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمھارے لیے تمھاری جنس ہی سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرسکو اور اس نے تمھارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی ،بلاشبہ اس میں یقیناًان لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جو غوروفکر کرتے ہیں۔” جب خالقِ کائنات نے فرما دیا کہ مرد اور عورت ایک دوسرے کا سکون ہیں لباس ہیں ان کے رشتے کے درمیان محبت اور رحمت ہے تو پھر آج کی بے لگام عورت کیوں اس محبت اور رحمت کے خوبصورت حصار کو توڑنا چاہتی ہے؟ کیوں اپنے ہاتھوں اپنے سکون کو برباد کرنا چاہتی ہے؟ کیوں اپنی سلطنت جہاں کی وہ ملکہ ہے اس کو ختم کر کے دربدر ہونا چاہتی ہے؟ اللہ پاک نے مرد کو قوام بنایا عورت کا نان نفقہ اس کے ذمہ لگایا،عورت کی حفاظت کی ذمہ داری مرد کو سونپی،معاش کی ذمہ داری سے عورت کو آذاد رکھا۔ پھر عورت کیوں خود کو ان بے جا ذمہ داریوں میں جکڑ کر رکھنا چاہتی ہے؟ اللہ پاک نے رشتہ ازدواج میں محبت اور رحمت کو شامل کیا پھر آج کی عورت مقابلے پر کیوں اتر آئی ہے؟اللہ پاک نے مرد کو اگر ایک درجہ فضیلت میں بلند رکھا تو اس پر ذمہ داریاں بھی ڈال دیں۔ عورت کو فکرِ معاش سے آزاد رکھا۔ ہر روپ میں عورت کو مقام عطا کیا۔ جب وہ کسی مرد کے نکاح میں آتی ہے تو اس کا نصف ایمان قرار پاتی ہے۔ماں بنتی ہے تو رب نے اس کی فرمابرداری میں اس کی اولاد کے لیے اس کے قدموں کے نیچے جنت رکھ دی۔ بہن ہوتی ہےتو والدین اور بھائیوں کے دکھوں کا مداوہ بنتی ہے۔ اور بیٹی کے روپ میں باپ کی عزت کا تاج ہوتی ہے۔ وہ عورت جس کو دینِ اسلام نے اتنا مقام عطا فرمایا آج وہ نعرے بلند کرتی ہےکہ "اپنا کھانا خود گرم کرو۔” وہ یہ فراموش کر بیٹھی ہے کہ اس کے ایک ایک عمل کو اللہ پاک نے عبادت کا درجہ دیا ہے وہ اپنے گھر میں کھانا گرم کر کے نہیں دینا چاہتی مگر ہوٹلوں اور جہازوں میں ساری دنیا کے مردوں کی غلامی کرنا چاہتی ہے۔ وہ رشتہ ازدواج میں بندھے اس ایک انسان کی خدمت کر کے جنت حاصل نہیں کرنا چاہتی وہ تو اپنے پاؤں پہ خود کلہاڑی مار کر تمام دنیا کے مردوں کی غلامی کرنا چاہتی ہے۔اللہ پاک نے عورت کو عزت بخشی مگر وہ دربدر ہونا چاہتی ہے۔ لمحہ فکریہ ہے کہ جو مرد آزادی نسواں کے علمبردار ہیں وہ عورتوں کی آزادی کے حق میں ہیں یاخود عورت تک پہنچنے کی آزادی چاہتے ہیں؟ اے نادان بنتِ حوا اپنے مقام کو سمجھو اور کافروں کی اندھی تقلید سے بچو کیونکہ مغرب کی عورت پر وہاں کے مرد نے بے جا ذمہ داری ڈال رکھی ہے۔

یہ جسم اللہ پاک کی تخلیق ہے پھر وہ مرد کا ہو یا عورت کا اس پر اختیار بھی اللہ پاک کا ہی ہے۔آج آزادی کے نعرے لگانے والی مسلم معاشرے کی عورت یہ بھول گئی ہے کہ عزت اور مقام اس کو دین اسلام نے دیا ہے پھر وہ عزت گلیوں اور بازاروں میں کیوں تلاش کر رہی ہے؟ نکاح جیسے پاکیزہ رشتے کو پیروں تلے روندہ رہی ہے جس رشتے کی وجہ سے معاشرے میں اس کو اور اس کی اولاد کو مقام و مرتبہ ملتا ہے ورنہ مغرب معاشرے میں تو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ اولاد کس مرد کی ہے۔ رشتہ ازدواج پاکیزہ معاشرے کی علامت ہے اور پاکیزگی نصف ایمان ہے۔اپنے ایمان کی حفاظت ہر مسلمان پر فرض ہے۔اللہ پاک نے عورت کو عزت کا مقام دیا اس کا مقام اس کے گھر میں ہے اس کے خاندان کے ساتھ ہے اس کی اولاد کے ساتھ ہے باہر سڑکوں اور بازاروں میں نہیں جو شے جہاں سے میسر ہے اسے وہیں سے ہی حاصل کرنا چاہیے یوں دربدر کیوں ہو انسان؟

عورت آزادی چاہتی ہے لیکن کس قسم کی آزادی؟ کیا رشتوں کے مقدس بندھن سے آزادی؟ کیا اولاد کی تربیت نہ کرنی کی آزادی؟ بےآبرو اور بے قیمت ہونے کی آزادی؟مغربی معاشرے کی طرح بےمول عورت کی سی زندگی؟ جبکہ اسلام عورت کو آزادی دے چکا ہے۔وہ تعلیم حاصل کرنے میں آزاد ہے وہ نکاح میں اپنی مرضی شامل کرنے میں آزاد ہے۔ اسلام نے اسے عزت و احترم میں آزادی دی ہےاسے اپنی شناحت دی ہے وہ حقِ رائے کے لیے آزاد ہےوہ مال کمانے میں آزاد ہے وہ عبادت کرنے میں خودمختارہے۔ عورت خودمختار ہے کہ وہ حجاب لے اس کی حیاء پر ضرب لگانے کا حق کسی کو نہیں۔ وراثت میں مال و جائیداد میں اس کا حق ہے۔ شوہر کی محبت پہ اس کا حق ہے اولاد کی تربیت پہ اس کا اختیار ہے ۔ قرآن و سنت پہ عمل اور جنت تک رسائی عورت کا حق ہے۔ عورت کو تو آزادی دینِ اسلام کے آتے ہی مل گئی تھی۔اب وہ کون سی آزادی کی متلاشی ہے؟آزادی تلاش کرنی ہے تو دائرہ اسلام میں آنا پڑے گا یوں گلیوں اور بازاروں کی زینت بن کر آزادی تو نہیں ہمیشہ کی قید اور غلامی میسر آئے گی۔ ہاں آج کی عورت کو یہ بات سمجھنی پڑے گی کہ آدم و حوا ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں اللہ پاک نے ازدواج کے رشتے میں محبت اور رحمت رکھی ہے۔ رشتہ ازدواج اللہ پاک کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔پھر یہ الگ الگ ہو کر بہتر معاشرہ کیسے تخلیق کر سکتے ہیں؟جب ازدواج زندگی کی گاڑی کے دو پہیے ہیں تو ایک پہیے کے بغیر گاڑی کیسے چلے گی۔ عورت شوہر کے سائبان سے نکل کر کون سا سائبان تلاش کرنے چلی ہے۔ باپ کی محبت کا حصار توڑ کر کون سی محبت تلاش کرنے نکلی ہے۔ بنیﷺ نے فرمایا! ” نکاح میری سنت ہے۔” آج نکاح سے آزادی حاصل کر کے وہ سنت سے انحراف کر رہی ہے۔عورت کے ہاتھ میں آنے والی نسلوں کی تربیت کی عظیم ذمہ داری ہے وہ دائرہ تہذیب سے نکل کر کیسے نسلوں کی تربیت کر سکتی ہے؟ کیسے اپنی جنت تک رسائی حاصل کر سکتی ہے؟ اے مسلم عورت آج سوچو اور اپنے مقام کو تلاش کرو جو تمھیں رب نے عطا کیا ہے جو تم سے کہیں کھو گیا ہے۔آج غوروفکر کرو کہ تمھیں یہ بے مول آزادی چاہیے یا اپنے شوہر کی انمول محبت؟ وہ جس کے ساتھ تعلق رب نے جوڑا اس ایک تعلق اور محبت میں ہی عورت کی عافیت ہے۔ الحمداللہ!

Comments are closed.