احترامِ آدمیت
سیدہ کنزا امام زہرا (گوجر خان)
ہم جس معاشرے کا حصہ ہیں وہ حقیقتاً تو آدمیوں پر مشتمل ہے۔ مگر اس بوسیدہ اور انسانیت سے عاری معاشرے میں جانور اور اس کی نسل کی حفاظت کو انسانی زندگی اور اس کی نسل کی حفاظت سے زیادہ مقدم رکھا جاتا ہے۔ جابر، ظالم اور طاقت ور کی بربریت، طاقت کی شہرت، اور گھناؤنی سیاست کا شکار ہو رہی ہے۔ معصوم لوگ جن کو فکرِ معاش کے سوا کچھ نہیں سوجھتا وہ کبھی مذہب کی آڑ میں چھپے انسان دشمن کی دھماکوں کا نشانہ بنتے ہیں تو کبھی درشت حاکموں کی طرف سے اشرف المخلوقات کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
حیاتِ آدمی کی شرح علاقائی، مذہبی، لسانی، الوانی اور سیاسی تنازعات میں کم ہوتی جا رہی ہے۔
یہ ہماری لیے لمحہِ فکریہ ہے کہ آخر ہر سازش، ہر فتنے اور ہر فساد کا ہدف انسانی جان ہی کیوں؟ ایٹمی جنگ ہو تو ہدف انسانی جان، تسکینِ تمکنت کا ہدف انسانی جان، تصادم مذہبیت کا ہدف بھی انسانی جان اور وبائی امراض کا شکار بھی مضمحل انسانیت۔ بات کوئی بھی ہو خمیازہ انسانی زندگی کے مفقود ہونے کی صورت میں ہی بھگتانا پڑتا ہے ۔ آخر کیوں؟
المختصر کہ دشمن سرحدوں پر ہیں نہ ایوانوں میں براجمان ہیں؛ بلکہ دشمن حقیقتاً وہ طاقت اور شوق حاکمیت ہے جو ہر جگہ مختلف تلاطم کی اشکال اختیار کر کے آدمیت کا تمسخر بنا رہی ہے۔ یہ جفاکار عناصر مسلسل وقار آدمیت پر حملہ آور ہے ۔
ضرورتِ وقت یہ ہے سب سے مقدم انسانی جان کو رکھا جائے۔ نام نہاد وقیع اپنی معذور عزت اور بے سُود دولت کے دفاع کے لئے آدمیت کی بلی دینے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ اور ہمارے لاغر قوانین اس کے آگے ہاتھ باندھے غلاموں کی طرح سر تسلیم خم کیے کھڑے ہوتے ہیں؛ لیکن اب وقت ہے کہ کمر کس کے احترمِ آدمیت کا علم بلند کیا جائے۔ ہر وہ ظلم جس کا انجام اجل ہو اس کی خلاف بھرپور آواز اٹھائی جائے۔
Comments are closed.