کورونا کی وجہ سے مسائل اور مدد
ستارہ منیر (کبیروالہ بارہ میل)
جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ کورونا جیسے موذی وبا نے ملک میں کہرام برپا کیا تھا۔ جس کی وجہ سے لاکھوں لوگ زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے، لاکھوں متاثر ہوئے۔ اور اس سے حفاظتی اقدام کے لئے حکومت نے سمارٹ لاک ڈاؤن کروایا۔ اس میں عوام کا ہی فائدہ تھا۔ اور اس لاک ڈاؤن کی وجہ سے حالات میں بھی بہتری آئی؛ لیکن اس سے بہت سے خاندان متاثر ہوئے۔طلبہ کی تعلیم متاثر ہوئی۔تعلیم کا بہت نقصان ہوا۔ آن لائن تعلیم کا سلسلہ جاری کیا گیا؛ لیکن اس کے باوجود بھی تعلیم کو مکمل فروغ حاصل نہیں ہوسکا؛ کیوں کہ کچھ طالب علم اس سہولت سے محروم تھے۔ سب سے زیادہ نقصان چھوٹے بزنس مین اور غریب لوگوں کو ہوا، جن کا چولہا دن بھر کی محنت سے جلتا تھا۔ لاک ڈاؤن کا مقصد بھی عوام کی بہتری کے لئے ہی تھا۔ جس میں حکومت بہتری لانے میں کامیاب ہوئی۔ اس کورونا نے دوسرے ممالک میں قیامت برپا کردی تھی۔جس کے اثرات اب تک موجود ہیں۔خود کو اور عوام کو محفوظ رکھنے کی کوشش کریں حکومت کا ساتھ دیں۔ ہم ساتھ کس طرح دے سکتے ہیں؟ جہاں ہم رہتے ہیں آس پاس کے لوگوں پر نظر رکھیں کہ کہیں کوئی غریب بھوکا تو نہیں سو رہا۔ کہیں پیسوں یا راشن کی وجہ سے کسی کے بچے تو نہیں بلک رہے۔اگر ایسا ہے تو فوری خاموشی سے ان کی مدد کریں۔ دکھلا کر مدد نہ کریں کہ انہیں آپ کی اس امداد سے شرمندہ ہونا پڑے۔اللہ کی راہ میں خاموشی سے دیا ہوا اجر و ثواب کا باعث بنتا ہے۔ اور ہم ان سنگین حالات میں طلبہ کی مدد کر سکتے ہیں۔ جن کے پاس آن لائن جیسی سہولت موجود نہیں ہے ہم ان کی مدد کرسکتے ہیں۔ یہ بھی نہیں کہ ہمیں گھر گھر جانا پڑے گا۔ نہیں، جو آپ کے آس پاس کے طالب علم ہیں۔ آپ کورونا ایس او پیز پر عمل کرتے ہوئے کچھ ٹائم ان کو دے سکتے ہیں۔ ایک ہفتے کا کام دے کر جس میں ان کی ایک ہفتے بعد ٹیسٹنگ بھی کرسکتے ہیں۔ اس سے فائدہ یہ ہوگا کہ جو طلبہ آن لائن جیسی سہولت سے محروم ہیں ان کی تعلیم کا بھی حرج نہیں ہوگا اور احساس کمتری کا شکار بھی نہیں ہوں گے۔خود کو ہر وبا سے محفوظ رکھنے اور دوسرے لوگوں کو محفوظ رکھنے کا ہمارا حق ہے۔ ہم اپنے ساتھ ساتھ دوسرے لوگوں کے دکھ درد کا بھی خیال رکھیں۔ جتنا ہم خود کو محفوظ رکھیں گے اتنا ہی ہم کورونا جیسی وبا سے محفوظ رہیں گے۔ اس موذی مرض سے ملک کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کو بڑی بہادری اور عقل مندی کے ساتھ نمٹایا گیا ہے۔ ہر بات کا حکومت یا دوسرے لوگوں کو دوش دینے کے بجائے خود کو مضبوط کریں۔ اور صحت مند معاشرہ اور قوم بنائیں۔
Comments are closed.