بیوی کے فرائض و حقوق
تحریر: ڈاکٹر مفتی محمد عرفان عالم قاسمی
رابطہ: 9826268925
اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ”اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم آرام پاؤ اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کردی یقیناً غور و فکر کرنے والوں کے لئے اس میں بہت نشانیاں ہیں۔“ (ترجمہ: سورہ روم: 21)
ارشاد باری تعالی ہے: مرد عورت پر حاکم ہیں اس وجہ سے کہ اللہ تعالی نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے کہ مردوں نےمال خرچ کیے ہیں۔ نیک فرماں بردار عورتیں خاوند کی عدم موجودگی میں حفاظت الہی نگہداشت رکھنے والیاں ہیں اور جن عورتوں کی نافرمانی اور بددماغی کا تمہیں خوف ہو انہیں نصیحت کرو اور انہیں الگ بستروں پر چھوڑ دو اور انہیں مار کی سزا دو اور پھر اگر وہ تابع داری کریں تو ان پر راستہ تلاش نہ کرو، بے شک اللہ تعالی بڑی بلندی اور بڑائی والا ہے۔(ترجمہ سورہ النساء: 34)
حضرت حصین ابن محصن رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ان کی ایک پھوپھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی ضرورت سے آئی، ضرورت پوری ہونے پر جانے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اپنے شوہر کے ساتھ تمہارا رکھ رکھاؤ کیسا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”میں حتی الامکان کوئی کسر باقی نہیں رکھتی ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کا پورا خیال رکھنا وہی تمہاری جنت بھی ہیں وہی دوزخ بھی ہیں۔“ (مسند احمد) (حاکم نے اس کو مستدرک میں روایت کیا ہے اور صحیح کہا ہے۔)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”جو عورت پانچ وقت نماز ادا کرے، رمضان کے روزے رکھے، اپنی عصمت کی حفاظت کرے اور اپنے شوہر کی فرمانبرداری کرتے ہوئے زندگی گزارے تو اس عورت کو اختیار ہوگا کہ جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہو جائے۔“ (مشکوۃ: 281)
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے دریافت کیا کہ سب سے اچھی عورت کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ عورت کہ جب اس کا شوہر اس کی طرف دیکھے تو یہ اس کو خوش کردے، جب کچھ کہے تو اس کی بات مانے، جان و مال میں کچھ اس کے خلاف نہ کرے جو اس کو ناگوار ہو۔“ (الترغیب والترہیب)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کوئی عورت اس حالت میں دنیا سے رخصت ہو کہ اس کا شوہر اس سے راضی ہو تو وہ عورت جنت میں داخل ہوگی۔“ (ترمذی١/ 219)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: ”اگر میں نے کسی انسان کو سجدہ کرنے کا حکم دیا ہوتا تو بیوی کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔“ (ابوداؤد و ترمذی)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب شوہر اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ (شرعی عذر کے بغیر) اس کے بستر پر جانے سے انکار کر دے جس کی وجہ سے شوہر ناراضگی میں رات گزارے تو فرشتے اس عورت پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔“ (صحیح مسلم: ١٠٥٩)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کوئی شوہر اپنی بیوی کو ہمبستری کے لئے بلائے تو اگر وہ کچن میں بھی ہو تو فورا اس کے پاس چلی جائے۔“ (ترمذی، مسند احمد)
نیک اور فرمانبردار بیویوں کے تعلق سے قرآن مجید کا ارشاد ہے: ”نیک بیویاں اطاعت شعار ہوتی ہیں، شوہروں کی عدم موجودگی میں اللہ کی حفاظت کے ساتھ (اپنی عزت کی) حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں۔“
نیک عورت کے فرائض میں داخل ہے کہ وہ شوہر کے رازوں اور مال کی حفاظت کرے اور یہی خصوصیات ایک خوشگوار ازدواجی زندگی کی بنیاد ہوا کرتی ہیں۔
مذکورہ بالا احادیث سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ میاں بیوی کے درمیان تعلقات کبھی خوشگوار و استواری اور اعلی ظرفی خوش اخلاقی کا برتاؤ اسلامی تعلیمات میں سے ہے۔ جو خاندان کی استواری اور پائیداری اور اس کے بقاء اور تحفظ کی نگہبان ہے، چنانچہ اسلام نے اس ازدواجی تعلق کو محکم و منظم کیا اور شوہر بیوی پر ایک دوسرے کے کچھ حقوق عائد کیے ہیں۔ شوہر کا حق بیوی پر یہ ہے کہ بیوی اپنے خاندان کی فرماں بردار بن کر رہے، اس کی نافرمانی نہ کرے، اس پر بڑائی نہ جتائے، اس کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر قدم نہ رکھے، اس کے گھر میں کسی کو پھٹکنے نہ دے، شوہر اگر موجود ہو تو اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزے نہ رکھے، اس کی مرضی کے بغیر اس کا مال خرچ نہ کرے، وہ کہیں چلا جائے تو اس کی غیر موجودگی میں اپنی عزت و آبرو کی حفاظت کرے، اور اس کے مال و اولاد کی نگہداشت میں مکمل خیر خواہی اور وفاداری کا ثبوت دے، شوہر کا احسان مانے، اس کی شکر گزار رہے، اس کے احسانات اور اس کی کاوش کو کبھی فراموش نہ کرے، اس کی خدمت کرکے خوشی محسوس کرے، اس کے ساتھ فراخ دلی اور خوش طبعی کا معاملہ کرے، اس کے لیے بناؤ سنگھار اور آرائش و زیبائش کا بھی پورا پورا اہتمام کرے، شوہر کے والدین اور رشتہ داروں کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرے، بیویوں کو چاہیے کہ شوہر کی اطاعت و فرمانبرداری کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سمجھ کر اس میں سبقت کرے،اگر انہوں نے یہ کام خلوص اور یکسوئی سے کر لیا تو ان کو نہ صرف ازدواجی زندگی میں خوشگوار اور استواری پیدا ہوگی؛ بلکہ گھریلو زندگی بھی پیار و محبت کی برکت سے مالامال ہوگی۔
Comments are closed.