ہدیہ سے محبت اور تعلقات میں مضبوطی آتی ہے۔

 

محمد قمر الزماں ندوی

 

ہدیہ کے معنی تحفہ اور گفٹ کے ہیں، تحفہ معمولی ہو یا قیمتی کسی انسان کی محبت میں اور اس سے اظہار تعلق کے لیے اس کو کچھ دینا ہدیہ کہلاتا ہے اور کسی محتاج کو اللہ سے تقرب کی نیت سے کوئی چیز دینا صدقہ نافلہ کہلاتا ہے ۔ (المغنی لابن قدامہ کتاب الھبة و العطیة / قاموس الفقہ: جلد ۵)

 

ہدیہ دینا سنت اور مسنون عمل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی عنہم کو ہدیہ دیا کرتے تھے، آپ نے ہدیہ کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا: کہ ایک دوسرے کو ہدیہ دیا کرو۔ کہ یہ باہمی محبت و الفت کا باعث ہے۔ تھادوا تحابوا۔ (مؤطا امام مالک: ۳۶۵)

ہدیہ کے آداب میں علماء نے لکھا ہے کہ جو چیز ہدیہ کی جائے خواہ وہ مقدار میں کم اور کیفیت کے اعتبار سے معمولی ہو، پھر بھی پوری رغبت اور دل داری کے ساتھ اسے قبول کیا جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر کوئی شخص مجھے بکری کے کُھر پر بھی دعوت کرے گا تو میں اسے قبول کروں گا۔( بخاری)

 

ہدیہ واپس کرنا کسی طرح مناسب نہیں کہ اس سے ہدیہ کرنے والے کی دل آزاری ہوتی ہے۔ لیکن خاص طور پر تین تحفوں کو واپس کرنے سے آپ نے منع فرمایا۔ تکیہ، خوشبو اور دودھ۔۔(شمائل ترمذی)

جس طرح عام لوگوں کے لیے ہدیہ لینا جائز ہے وہیں واعظ اور مفتی کے لیے بھی ہدیہ قبول کرنا جائز ہے۔ اگر پہلے سے لوگ انہیں ہدیہ لے دے رہیں ہوں، اور اس سے یہ خطرہ نہ ہو کہ فیصلے اور افتاء پر فرق پڑے گا۔

غیر مسلموں کو بھی ہدیہ دینا اور ان سے لینا جائز ہے، احادیث اور پیارے نبی ﷺ کے عمل سے اس کے ثبوت ملتے ہیں۔

ایک موقع پر حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کی والدہ آئیں، وہ مشرک تھیں، حضرت اسماء نے پوچھا کیا ان کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے؟ آپ نے اثبات میں جواب دیا۔

مشرکین کو ہدیہ دینے پر اس آیت سے استدلال کیا ہے، جس میں امن پسند مشرکین کے ساتھ حسن سلوک اور عدل و انصاف کا حکم دیا گیا ہے۔ (سورہ الممتحنہ)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایلہ کے خچر اور چادر کا تحفہ قبول کیا، دومتہ الجندل کے موقع پر ایک غیر مسلم نے ایک ریشمی جبہ دیا آپ صلی اللہ علیہ نے اسے قبول کیا۔

کن صورتوں میں ہدیہ لینا درست اور کس صورت میں نادرست ہے۔ علماء نے لکھا ہے کہ کسی کے پاس کُل آمدنی حرام ہو ایسے آدمی کا ہدیہ لینا درست نہیں ہے۔

اگر آمدنی کا زیادہ تر حصہ حرام ہو اور اس کی تفصیل نہ ہو کہ ہدیہ میں جو مال دیا جارہا ہے، وہ حرام ہے یا حلال؟ تو ایسے شخص کا بھی ہدیہ قبول کرنا درست نہیں ہے۔ جن کے پاس مال مشکوک ہو اس کے ہدیہ کو بھی لینے سے پرہیز کرنا چاہیے، اگر کسی کے پاس مال مخلوط ہو، حلال حرام دونوں، لیکن حلال کا حصہ غالب ہو تو اس کا ہدیہ قبول کرنا جائز ہے۔ لیکن معلوم ہی نہ ہو کہ کون سا مال غالب ہے تو ایسی صورت میں بھی احتیاط لازم ہے۔

ہدیہ دینے کے بعد احسان جتانا، اس کو دوسرے سے بتانا، تذکرہ کرنا اور بیان کرنا انتہائی غلط اور نازیبا بات ہے، ایسے لوگوں کو شریعت میں پسند اور بہتر نہیں مانا گیا ہے، اس سے بچنا چاہیے ورنہ سارا کیا، بے کار ہوجاتا ہے ، ثواب کے بجائے گناہ ہوتا ہے۔

ہدیہ لے کر واپس مانگنا انتہائی بری بات ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کسی آدمی کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی کو تحفہ دے اور پھر اپنے تحفہ کو واپس لے، البتہ باپ اپنے بیٹے کو ہدیہ دے کر واپس لے سکتا ہے، جو شخص ہدیہ دے کر واپس لیتا ہے اس کی مثال اس کُتّے کی سی ہے جو خوب کھا کر قے کرتا ہے، اور دوبارہ اپنی قے چاٹ لیتا ہے۔ (ترمذی)

بعض مخصوص صورتوں میں شریعت میں ہدیہ واپس لینے یا کرنے کی گنجائش ہے جس کی تفصیل پھر کبھی آئے گی۔۔۔

سب سے برا احسان جتانا یہ ہے کہ کوئی اپنے والدین کو کچھ دے یا گھر میں خرچ کرے اور پھر باپ کو جتائے کہ ہم نے یہ کیا ، وہ کیا،ہم نے آپ کے لیے یہ کیا۔ پوری زندگی بھی اگر کوئی ماں باپ کے لیے قربان کر دے، اپنی ساری کائنات لٹا دے،تب بھی وہ والدین کے احسان کا ادنی حق ادا نہیں کرسکتا۔۔ ہدیہ سے متعلق یہ چند تعلیمات ہیں جس کو میں نے ذکر کردیا ہے، سفر کے دوران یہ تحریر احقر نے ضبط کی ہے؛ اس لیے حوالے کا التزام نہیں ہوسکا ہے۔ خدا تعالیٰ ہم سب کو ان تعلیمات و ہدایات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

 

۱۱/ مارچ بروز جمعرات بوقت دس بجے بمقام، شاہ ارزاں کالونی، سلطان گنج پٹنہ بہار

9506600725

Comments are closed.