عورتوں کا عالمی دن
از قلم: شیزرا اعظم سیالکوٹ
زمانہ جاہلیت میں عورت کا کیا مقام تھا؟ ازدواجی زندگی کے عنوان پر بات کرتے ہوئے اس پس منظر کو ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ اسلام سے قبل دنیا کی مختلف تہذیبوں اور معاشروں میں اس کی کیا حیثیت تھی؟ اگر ہم تاریخ عالم کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ اسلام سے قبل دنیا کے مختلف ممالک میں عورت اپنے بنیادی حقوق سے بالکل محروم تھی۔ اس کے وجود اور مقام کو تسلیم کرنے سے انکار کیا گیا اور اس بارے میں مختلف مذاہب کی رائے الگ الگ تھی۔ فرانس میں عورت کے بارے میں یہ تصور تھا کہ یہ آدھا انسان ہے؛ اس لیے معاشرے میں تمام برائیوں کے بگاڑ کا سبب بنتی ہے، جب کہ چین والوں کا ماننا تھا کہ اس میں شیطانی روح موجود ہوتی ہے؛ لہذا یہ برائیوں کی طرف انسان کو دعوت دیتی ہے۔ہندوازم میں یہ رواج تھا کہ جب کسی عورت کا خاوند مر جاتا تو اس کو معاشرے میں زندہ رہنے کے قابل نہیں چھوڑا جاتا تھا۔
اس کو اپنے خاوند کے ساتھ جل کر راکھ ہونا پڑتا۔ اگر وہ اس طرح خود کو ختم نہ کرتی تو اس کو معاشرہ عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا تھا۔ جزیرہ عرب میں بیٹی کا پیدا ہونا ہی گناہ تصور کیا جاتا تھا؛ لہذا والدین ”بیٹی“ کی پیدائش ہوتے ہی اس کو زندہ درگور کر دیتے تھے۔ مگر یہ اتنی مظلوم اور بے بس تھی کہ اپنے حق کے لیے کوئی آواز نہیں اٹھا سکتی تھی۔ ایسے ماحول میں جب کہ چاروں طرف عورت کے حقوق کو پامال کیا جا رہا تھا اور اس کے ساتھ برا سلوک روا رکھا جاتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو اسلام کی نعمت دے کر بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی اس دنیا میں تشریف آوری سے جہالت کا اندھیرا دور ہوگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے ہی عورت کے مقام کو نکھارا اور اس کو ذلت و غلامی کی زندگی سے آزاد کروایا۔
۸مارچ کو دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد عورتوں کے مسائل کو اجاگر کرنا اور ان کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ پہلے عورتوں کا عالمی دن منانے کے لیے کوئی دن بھی مقرر نہیں تھا مگر اب باقاعدہ طور پر یہ دن ۸ مارچ کو ہی منایا جاتا ہے۔ اگر تاریخی حوالوں سے دیکھا جائے تو عورتوں کے عالمی دن کے آثار بیسویں صدی کے اوائل میں نظر آتے ہیں۔ 1914ء میں پہلی بار یہ دن منایا گیا مگر جب تاریخ عالم اسلام پر نظر دوڑائیں تو ان کے حقوق کا تحفظ تقریباً ساڑھے چودہ سو سال قبل اسلام نے دیا تھا۔ اسلام نے عورت کو ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کے رتبے سے نوازا۔
دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی خواتین کے درپیش مسائل کے خلاف آواز بلند کی جاتی ہے۔ عالمی دن کے حوالے سے سول سوسائٹی کی تنظیمیں واکس، سیمینار اور ورکشاپس کا اہتمام کرتی ہیں۔ آج سے تقریباً سو سال قبل نیویارک میں کپڑا بنانے والی ایک فیکٹری میں مسلسل دس گھنٹے کام کرنے والی خواتین نے اپنے کام کے اوقات کار میں کمی اور اجرت میں اضافے کے لیے جب آواز اٹھائی تو ان پر پولیس نے نہ صرف وحشیانہ تشدد کیا؛ بلکہ ان کو گھوڑوں سے باندھ کر گھسیٹا گیا مگر اس جبر کے باوجود بھی وہ ثابت قدم رہیں اور اپنے حق کے لیے آواز اٹھاتی رہیں۔ اسلام میں عمل اور اجر میں مرد و عورت مساوی ہیں چنانچہ قرآن میں واضح کر دیا گیا ہے کہ: ”مردوں کو ان کے کاموں کا ثواب ہے جو انہوں نے کیے اور عورتوں کو ان کے کاموں کا ثواب ہے جو انہوں نے کیے اور اللہ سے اس کا فضل مانگتے رہو۔“ (النساء: 32)
انسانی آبادی کا نصف حصہ خواتین پر مشتمل ہے۔ ہمارے معاشرے میں بسنے والی خواتین کو عام طور صنف نازک کہا اور سمجھا جاتا ہے۔ یہ گھر کی زینت تصور کی جاتی ہیں اور گھر کی چار دیواری کے اندر رہتے ہوئے خوبصورت لگتی ہیں۔ قدامت پسند معاشرے میں لوگوں کا خیال ہے کہ ایک عورت کا کام سجنا سنورنا، بچے پیدا کرنا اور گھر کے کام کاج میں مصروف رہنا ہے۔ پاکستان جیسے غریب ملک میں گھریلو حالات، غربت، محرومیوں اور مہنگائی کے ہاتھوں مجبور خواتین جب روزگار کی تلاش میں گھر سے باہر قدم رکھتی ہیں تو معاشرہ انہیں حقارت کی نگاہ سے سے دیکھتا ہے۔
ملازمت کے حصول کے لیے ان کو سو طرح کے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ اگر تھوڑی سی مشقت کرکے ملازمت مل بھی جائے تو سماج میں مردوں کی حاکمیت کے باعث انہیں ہر وقت جنسی تفریق کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
پاکستان میں زیادہ تر غریب اور متوسط گھرانے کے لیے حالات ہر گزرتے دن کے ساتھ مشکل سے مشکل ہوتے جا رہے ہیں جس کی بڑی وجہ گھریلو ماحول کا مجموعی تناؤ ہے جب کہ سماجی رشتے بھی تیزی سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہے ہیں۔دوسری جانب خواتین کے ساتھ ہونے والی جنسی اور اجتماعی زیادتی جیسے واقعات میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ موجودہ صورت حال میں یہ تعداد بڑھ کر 12 فیصد کیسز فی دن تک جا پہنچی ہے۔
اکیسویں صدی میں بھی پاکستان میں کاروکاری، وٹہ سٹہ اور ونی جیسی جاہلانہ رسومات عروج پر ہیں۔ راہ چلتی ہوئی خواتین پر آوازیں کسنا، انہیں برے ناموں سے پکارنا، سوشل میڈیا پر ان کو بلیک میل کرنا اب روز کا معمول بن گیا ہے۔ آج بھی ہم جہالت کے پیروکار ہیں۔ میرے خیال میں خواتین کے عالمی دن کے موقع پر صرف مذمتی الفاظ، ریلیوں اور سیمیناروں سے کچھ نہیں ہوگا بلکہ معاشرے میں خواتین کے مقام کی اہمیت کو کھلے دل اور کھلے ذہن سے تسلیم کرنا ہوگا۔ ان ہاتھوں کو روکنا ہوگا جو خواتین پر تشدد کرتے ہیں۔ جن سے نہ صرف نظام عدل پر انگلی اٹھے گی بلکہ ملک کی سالمیت بھی متاثر ہوگی۔ حکومت کو سنجیدگی سے ان مسائل کی طرف توجہ مبذول کرنا ہوگی اور خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا۔
Comments are closed.