بیٹیاں پَرائی نہیں ہوتیں۔

 

 

محمد صابر حسین ندوی

Mshusainnadwi@gmail.com

7987972043

 

 

اس میں تو کوئی شبہ نہیں کہ اولاد بہ نفس نفیس خود ایک رحمت ہے، اسے مذکر و مؤنث کے نظریے سے دیکھنا اللہ تعالی کی تخلیق، قدرت اور اس کی عظمت پر اپنی رائے رکھنا ہے، اسی لئے اولاد کی پیدائش کا پورا پروسیس مخفی ہوتا ہے، دنیا نے ترقی کے نئے معیارات قائم کر لیے ہیں، خصوصاً میڈیکل سائنس نے تقریباً انسان کے ہر پرزہ پر قابو پا لیا ہے؛ لیکن مادر رحم میں پلنے والے بچے کے سلسلہ میں اب بھی قطعی طور پر کوئی بات نہیں کہی جا سکتی، کسی کو بھی اس پر کوئی بَس نہیں ہوتا، اللہ جو چاہے عنایت کرتا ہے، الله تعالی نے اپنے پاک کلام ”قرآن کریم“ میں ارشاد فرمایا: ﴿لِلَّہِ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ یَخْلُقُ مَا یَشَاء ُ یَہَبُ لِمَنْ یَشَاء ُ إِنَاثاً وَیَہَبُ لِمَن یَشَاء ُ الذُّکُورَ،أَوْ یُزَوِّجُہُمْ ذُکْرَاناً وَإِنَاثاً وَیَجْعَلُ مَن یَشَاء ُ عَقِیْماً﴾․(الشوریٰ:٤٩-٥٠)

ترجمہ: ”آسمانوں اور زمین کی سلطنت وبادشاہت صرف الله ہی کے لئے ہے۔ وہ جو چاہے پیدا کرتا ہے۔ جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بیٹے اور بیٹیاں دونوں عطا کر دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے …۔“

تاہم بچیاں اپنے آپ میں اہمیت و فضیلت رکھتی ہیں، خصوصاً اسلام اور مسلمانوں کے لئے وہ آنکھوں کی ٹھنڈک اور جنت کی کنجی ہیں، روایات اور احادیث کی کوئی کمی نہیں جن میں انہیں افضل ترین قرار دیا گیا ہے، سنن و جوامع کے علاوہ مصنفات، مسانید وغیرہ میں بہتیرے روایات موجود ہیں، امام ترمذی رحمہ اللہ نے بچیوں کے نفقہ پر ایک باب باندھا ہے اور اس کے ذیل میں چند روایتیں نقل کی ہیں، انہیں پڑھ لینا ہی کافی ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ ایک عورت اپنی دو بیٹیوں کو ساتھ لے کر ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں آئی، تو انہوں نے اس عورت کو تین کھجوریں دیں، اس عورت نے ایک ایک کھجور دونوں بیٹیوں کو دی اور تیسری کھجور کے (بھی ) دو ٹکڑے کر کے دونوں بیٹیوں کے درمیان تقسیم کردی، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں تعجب کیوں ہے؟ وہ تو اس کام کی وجہ سے جنت میں داخل ہوگئی۔“ (سنن ترمذی: ١٩١٥-ابن ماجہ :٣٦٦٨)

​ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کے پاس تین لڑکیاں یا تین بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو جنت میں ضرور داخل ہوگا ” (سنن ترمذی:١٩١٢)

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:” جوشخص لڑکیوں کی پرورش سے دوچار ہو، پھر ان کی پرورش سے آنے والی مصیبتوں پر صبرکرے تو یہ سب لڑکیاں اس کے لیے جہنم سے آڑ بنیں گی ”۔(ترمذی:١٩١٣)

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”جس نے دو لڑکیوں کی کفالت کی تو میں اور وہ جنت میں اس طرح داخل ہوں گے”، اور آپ نے کیفیت بتانے کے لیے اپنی دونوں انگلیوں (شہادت اور درمیانی) سے اشارہ کیا۔(ترمذی:١٩١٤)

ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”جس کے پاس تین لڑکیاں، یا تین بہنیں، یا دو لڑکیاں، یا دو بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور ان کے حقوق کے سلسلے میں اللہ سے ڈرے تو اس کے لیے جنت ہے”.(ترمذی:١٩١٦)

 

ان روایتوں کو پڑھ کر کیا آپ کو ایسا لگتا ہے کہ بچیاں پَرائی ہوتی ہیں؟ کیا یہ سوچ درست ہے کہ ان کی شادی کردینے کی وجہ سے وہ ماں باپ اور اس کی نسل سے جدا ہوجاتی ہے؟ دراصل ہندوستان میں ہندوانہ تہذیب و رسوم کی لعنت ہے کہ ہم پر یہ فکر مسلط ہوگئی اور ہم نے سمجھ لیا کہ ایک دفعہ بچی کی شادی کردی جائے تو وہ پَرائی ہوجاتی ہے، کہتے ہیں لڑکیاں تو امانت ہیں انہیں دوسرے گھر جانا ہے، شادی بیاہ میں بَس ایک ہی دفعہ خرچ کردو انہیں کونسا دوسری مرتبہ کچھ دینا لینا ہے، ہندوؤں کے یہاں کَنیا دان کا رواج ہے ٹھیک وہی سوچ ہم پر حاوی ہے، ہم بھی شادی کے بعد بچیوں کو پَرایا کردیتے ہیں، نوبت یہاں تک آجاتی ہے کہ ان سے کوئی تعلق نہیں رکھتے، وہ اپنے سسرال میں گھٹ گھٹ کر مر رہی ہوتی ہے تب بھی ماں باپ سے شکایت نہیں کرتی، اپنے بھائی بزرگوں سے نہیں کہتی کہ عزت چلی جائے گی، سماج میں ناک کٹ جائے گی، انہیں دوبارہ پلٹ کر دیکھا نہیں جاتا ہے، خدا نخواستہ اگر طلاق ہوجائے تو پھر مصیبت ہی مصیبت ہے، معاشرہ اسے ملعون گردانتا ہے، ایسا لگتا ہے کہ صرف اسی کی غلطی ہے اور اس نے کوئی گناہ عظیم کر دیا ہے، حالانکہ اسلام میں تو نکاح ایک عقد ہے جو دوگواہوں کی گواہی میں دو لوگ منعقد کرتے ہیں، ظاہر سی بات ہے کہ اگر ذہنی باہمی رضا مندی نہیں بَن پاتی اور زندگی بجائے سکون و اطمینان کے ایک بوجھ بن جائے تو پھر اسے اتار دینے میں کیا حرج ہے؟ کیا ہم نہیں جانتے کہ امہات المومنین میں حضرت عائشہ کے سوا سبھی ثیبہ تھیں، اگر یہ عیب کی بات ہوتی تو نہ خود آپ ان سے شادی کرتے اور نہ ہی اپنے اصحاب کی کرواتے- مگر ہمارے سماج نے بچیوں کو یوں بے گانہ کر دیا کہ انہیں اصلی حق ”میراث“ سے بھی محروم کردیا جاتا ہے، اور اسے اس پر مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ ہمیں بھی ایک اجنبی سمجھے، گویا والدین نے اپنے سر سے بوجھ اتار دیا ہے، آخر جہیز کی لعنت اور پیسوں کے ڈھیر کے بدلے اسے وداع جو کیا ہے، آہ—! مسلمانوں نے یہ کیسا سماج بنا لیا؟ وہ ہندوؤں کی طرح ہوگئے، انہوں نے اسلام کے امتیازات کو مٹی میں ملا دیا، اب جہیز لینا دینا اور بچیوں کو میزان پر رکھ کر اسے فروخت کردینا ہی اپنے سماج کا حصہ بن گیا ہے، نتیجتاً بچیاں بے راہ روی کا شکار ہورہی ہیں، والدین کی نافرمان بن رہی ہیں، اپنی بڑھتی عمر اور والدین کے لئے بوجھ بن جانے کی فکر نے خودکشی کا دروازہ بھی کھول دیا ہے، کتنے افسوس کی بات ہے کہ جو کبھی رحمت تھی اب زحمت بن گئی ہے، کاش! ہم اسلامی نظام اور درست فکر کی طرف رجوع کریں، بچیوں کو پرایا سمجھنے کے بجائے انہیں اپنی دیگر اولاد کی طرح سمجھیں، اور بہتر سوچ و بہتر فکر کے ساتھ اسلامی سماج کی بنیاد رکھیں۔

Comments are closed.