کہانی (سستے لوگ مہنگے سبق)

 

قراۃالعین خالد (سیالکوٹ)

 

"پڑھ کر کیا کرنا ہے،” "پڑھ کر کیا کرنا ہے،” "پڑھ کر کیا کرنا ہے”۔اس جملے کی بازگشت اس کے کانوں میں دیر تک گونجتی رہی اور وہ اس کے گرد گھومتے ہوئے یہ فقرے بولتا ہوا فریج سے پانی لینے چلا گیا اور وہ ان جملوں کی بازگشت کے ساتھ پورے انہماک سے اپنے امتحانات کی تیاری کرتی رہی۔

ہماری زندگیوں میں افراد کے دو طرح کے رویے منظرِ عام پر آتے ہیں، ایک مثبت اور دوسرا منفی اور ان سے نظر آنے والے نتائج بھی مختلف ہوتے ہیں۔انسانوں کی اقسام بھی الگ الگ ہوتی ہیں۔ کچھ انسان ایسے ہوتے ہیں جو کسی دوسرے کے منفی رویے اور تکلیف دہ الفاظ کو برداشت نہیں کر سکتے اور ذہنی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اور کچھ انسان ایسے ہوتے ہیں جو کسی دوسرے کے منفی رویوں اور الفاظ کو خاطر میں نہیں لاتے اور انہیں لوگوں کے یہ دل چیر دینے والے الفاظ مزید آگے بڑھنے کا راستہ دکھاتے ہیں، کچھ کرنے کا راستہ کچھ بننے کا عزم و حوصلہ، ایسے لوگوں کا اللہ پر توکل مضبوط اور تقدیر پر کامل ایمان ہوتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ مسلسل محنت ان کو کامیابی سے ہمکنار کر دے گی کیونکہ محنت میں عظمت ہے، ان کو یقین ہوتا ہے کہ محنت کرنے والا اللہ کا دوست ہوتا ہے اور اللہ کسی کی محنت کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔

ہماری زندگیوں میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ؛ جب وہ گرتے ہیں تو سنبھل نہیں سکتے، دوبارہ اٹھ نہیں سکتے مگر عینا کا شمار دوسری قسم کے لوگوں میں ہوتا ہے جو اگر قسمت سے گرتے ہیں توپھر نئی توانائی کے ساتھ دوبارہ اٹھتے ہیں۔نئی امنگ کے ساتھ نئے عزم و بلند حوصلے کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔عینا کا شمار ایسی لڑکیوں میں ہوتا ہے جن پر لوگوں کے رویے وقتی طور پر تو اثر انداز ہوتے ہیں لیکن ان کے عزائم اور مسلسل جدوجہد میں کوئی رکاوٹ نہیں آتی بلکہ وہ اپنے خوابوں کی وادی میں ایک قدم اور آگے بڑھ جاتے ہیں۔ عینا بھی ایسی ہی تھی وہ ایک منفی فقرہ کہ ” پڑھ کر کیا کرنا ہے” اس کے دل و دماغ میں رچ بس گیا اور اس کے آگے بڑھنے کی وجہ بن گیا۔جس رشتے نے عینا سے یہ سستے الفاظ کہے تھے وہ فرد آج دس سال کے بعد بھی اسی جگہ کھڑا ہے اور آج بھی بس ایسے ہی ہارے ہوئے الفاظ بول رہا ہے کچھ لوگوں کی فطرت واقعی نہیں بدلتی۔ انسانی رویوں میں فطرت اور تربیت دونوں کا عمل دخل ہوتا ہے فطرت تو کم ہی بدلتی ہے لیکن تربیت کی کمی کو کوئی چیز پوری نہیں کر سکتی۔تعلیم و تربیت آپ کو زندگی میں آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ اسی بنا پر آج عینا اپنی زندگی میں بہت آگے بڑھ گئی ہے۔ آج اس کا ایک پر سکون گھرانہ ہے، اس کے بچے اس کا شوہر وہ سب خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔گریجویشن کے فوراً بعد عینا کی شادی ہوگئی لیکن اس کے تعلیم حاصل کرنے کے شوق میں کوئی حائل نہ ہوسکا۔ عینا نے شادی کے بعد نہ صرف اپنی تعلیم مکمل کی بلکہ منفی رویوں کو اپنے پیروں تلے روندتی چلی گئی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ شعبہ درس و تدریس سے منسلک ہے الحمدللہ اپنی تعلیم کے ذریعے اللہ کے فضل و کرم سے وہ انسانیت کے لیے سود مندی کا کام سرانجام دے رہی ہے۔

عینا ایک شادی شدہ لڑکی ہے عام لڑکیوں کی طرح اس نے بھی آنکھوں میں نئی زندگی اور نئے رشتوں کے ہزاروں خواب سجائے سسرال کی دہلیز پار کی۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس کا پالا اتنے سستے اور کم ظرف لوگوں سے پڑنے والا ہے جو کہ یہ کہنا درست ہوگا کہ انتہائی احساسِ کمتری میں مبتلا لوگ ہیں۔ ایک اچھے خاندان کی لڑکی کو بہو کی صورت پا کر خوش ہونے اور شکر ادا کرنے کی بجائے احساسِ کمتری میں مبتلا لوگ عینا کو نیچا دکھانے کے منصوبے بناتے رہے۔ پتہ نہیں کیوں لوگ پہلے پڑھی لکھی بہو کو گھر لانا چاہتے ہیں پھر اس کو اپنے طریقے سے بدلنا چاہتے ہیں اپنے جیسا بنانا چاہتے ہیں ہونا تو یہ چاہیے کہ لڑکی اپنے جیسے ماحول سے ڈھوننا چاہیے اور اس کی ذات کو بدلنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ مگر عینا مثبت سوچ رکھنے والے والدین کی با حوصلہ اور جرأت مند بیٹی تھی۔ سسرال والوں کے سستے رویے اس کی ہمت کو نہ توڑ سکے اور اس کی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکے۔ ان کے رویوں نے اس کو مذید مضبوط بنا دیا۔ایک لڑکی کے خواب تب چکنا چور ہوتے ہیں جب وہ سسرال کے کسی رویے کی شکایت گھر کی سربراہ ساس کو کرے اور وہ حق بات کرنے کی بجائے صرف اپنی اولاد کا ساتھ دیں اور توقع رکھیں کہ ان کا رویہ کیسا بھی ہو بہو بیٹی بن کر رہے۔گھروں کو جنت بنانے میں بڑوں کا بہت ہاتھ ہوتا ہے اور اگر بڑے سمجھداری اور انصاف سے کام نہ لیں تو گھروں کے شیرازے بکھر جاتے ہیں ان تمام منفی رویوں کے باوجود عینا کے والدین کی تربیت جیت گئی اور اس کی مثبت سوچ نے اس کو کامیابی کی راہ پر گامزن کر دیا۔کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ ہم اردگرد کی باتوں کو نظر انداز کر کے اپنے مقاصد کی طرف دھیان دیں اور یاد دکھیں راہِ حق میں دشمنِ جاں تو ملتے ہیں۔زندگی میں عینا نے یہ سیکھا کہ جو لوگ آپ کی کامیابیوں سے خوش نہیں ہوتے وہ کبھی بھی آپ کے دوست نہیں ہو سکتے چاہے وہ بظاہر آپ کے اپنے ہی کیوں نہ ہوں۔عینا نے ان لوگوں کے رویوں سے سیکھا کہ کسی پہ بھروسہ نہیں کرنا چاہیے، محبت کرنے والی ایک ہی ہستی ہے وہ ہے رب کی ذات اسی پر توکل کرنا ہے اسی سے مانگنا ہے، مسلسل محنت کرنی ہے، اللہ کسی کی وسعت سے زیادہ اس پر بوجھ نہیں ڈالتا اور جو کچھ آپ کے مقدر میں لکھ دیا گیا ہے وہ کوئی آپ سے چھین نہیں سکتا اور نہ کسی کی کم ظرف باتیں آپ کو ہرا سکتی ہیں۔ اگر آپ کا ظرف بڑا ہے تو اس میں سب کچھ سما سکتا ہے لوگوں کے رویے بھی، ان کی چھوٹی سوچ بھی، ان کی کم ظرفی بھی، اور ان کا احساسِ کمتری بھی۔ بس ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ سوچ لیں کہ دنیا فانی ہے۔ ہر چیز کو فنا ہے ہر رشتے کو زوال ہے باقی رہ جانے والی ذات رب کی ہے اور ساتھ دینے والے اعمالِ صالح ہیں۔ اعمالِ صالح کی کوشش کریں اور نیکیوں میں سبقت لے جانے والے بنیں، دنیا والوں کی باتوں سے بے رغبتی اختیار کرنے میں ہی عافیت ہے۔ عینا نے اپنی زندگی میں ان باتوں کو پلو سے باندھ لیا ہے اور اب وہ کامیابی کی راہ کی مسافر ہے الحمداللہ۔واقعی کبھی کبھی کچھ لوگ ہمیں اپنی کم ظرفی کی بنا پر زندگی کے بڑے اعلیٰ سبق دے جاتے ہیں۔ عینا آج ان سب لوگوں کی تہہ دل سے شکر گزار ہے کہ اگر یہ لوگ نہ ہوتے تو آج اس کو اپنی ذات کی پہچان نہ ملتی اللہ پاک ہم سب کو ہدایت اور راہِ حق عطا فرمائے۔(آمین)

Comments are closed.