"عورت غفلت میں ڈوبی”

 

آمنہ جبیں (بہاولنگر)

ہر سال عالمی سطح پر آٹھ مارچ کو عورتوں کا دن منایا جاتا ہے۔ روس میں کچھ عورتیں ظلم وستم کا شکار ہوئیں تو 1917 میں اس دن کا آغاز ہوا۔ اس دن کو منانے کے پیچھے جو نظریہ تھا وہ یہ کہ عورت کو تحفظ اور بنیادی حقوق فراہم کرنے کی طرف لوگوں کو راغب کیا جائے۔ اور تب سے اس لیے یہ دن ہر سال دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ لیکن حیرانگی کی بات تو یہ ہے کہ اسلام نے تو پہلے ہی ہر نفسِ انسانی کو جینے کے اور رہن سہن کے حقوق دیے ہیں۔ ہمارے مذہب اسلام میں تو پہلے ہی عورت کے لیے تمام حقوق واضح طور پر موجود ہیں۔ مگر پھر ہم اور ہماری قوم ہر سال آٹھ مارچ کو یہ دن کیوں مناتے ہیں۔ آخر اس دن کی ترویج کا مقصد کیا ہوا۔ جیسے کئی سالوں سے چلتا آیا ہے بلکل اسی طرح اس سال آٹھ مارچ دو ہزار اکیس کو بھی یہ دن جوش وخروش سے منایا گیا۔ کالج، یونیورسٹیز اور کئی دوسروے شعبوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیاں اور گھریلو شادی شدہ خواتین سڑکوں پہ نکل آئیں۔ طرح طرح کے بینرز جن پہ فحش جملے لکھے گئے تھے ہاتھ میں لیے لمبی لمبی ریلیاں نکالتی نظر آئیں ہیں۔ ہر طرف گہما گہمی اور عورتوں کی چہل پہل تھی۔ وہ باہر گلی کوچوں میں نکل کر اپنے حق کی بات کرتی نظر آئیں ہیں۔ اپنے لیے آزادی اور آزاد جینے کا حق مانگ رہی تھیں۔ احتجاج کرتی عورت کا یہی جملہ تھا کہ میں مرد کے برابر ہوں۔ مجھے مرد جتنی آزادی چاہیے۔ مجھے اپنے جسم پہ اپنا حق چاہیے۔ اس دفعہ آٹھ مارچ پہ عورت کا کہناتھا کہ میرا یہ فرض نہیں کہ میں مرد کے لیے کھانا بناؤں اور بینرز پہ یہ بات واضح لکھی گئی کہ ” کھانا میں گرم کر دیتی ہوں بستر تم خود گرم کر لینا” یہ کتنا فحش جملہ ہے۔ عورت اس طرح اپنا حق تو مانگتی دیکھی مگر شاید وہ اپنے فرائض بھول گئی ہے۔ جہاں تک کھانا گرم کرنے اور بنانے کی بات ہے تو رسول اکرم صلی اللہ ھو علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے!

"اگر کوئی عورت اپنے شوہر کا مقام(حق) جان لے تو وہ اس وقت تک نہیں بیٹھے گی (خدمت میں لگی رہے)جب تک وہ کھانے سے فارغ نہیں ہو جائے گا”(طبرانی 333: مسند احمد 2665: صحیح الجامع 5259)

 

اس ارشاد سے یہ بات ایک حد تک واضح ہے کہ مرد کی خدمت اور اسے کے کھانے کا خیال رکھنا عورت کا فرض ہے۔ لیکن ایک بات بہت حیران کن ہے۔ کہ اگر عورت شوہر کے لیے کھانا بھی نہیں بنانا چاہتی تو کیا وہ صرف باہر اپنی نمودونمائش کرے گی،بلاشبہ عورت نے جاب کا اور آزدی سے گھومنے پھرنے کا حق طلب کیا ہے۔ بلکہ نہایت سنگین حالات میں روڈ پر اس بات کا ڈھنڈورا پیٹا ہے۔ کہ اسے مردوں کے شانہ بشانہ چلتے ہوئے ہر شعبے میں حق چاہیے لیکن کیساحق؟ عورت جو حقوق اسلام نے دیے ہیں انہیں پسِ پاش ڈال کر کونسے حقوق طلب کر رہی ہے۔ پردے اور حیا کا گلا گھونٹ کر کونسے حقوق ہیں جو عورت مانگ رہی ہے۔ اس دفعہ آٹھ مارچ کو لڑکیاں پینٹ،جینز، اور فحش کپڑوں میں بازار میں نکل کر صرف اپنے بے ڈھنگے حقوق اور آزادی مانگتی نظر نہیں آئیں بلکہ آج عورت نے خود کو اس دن اتنا آزاد تصور کیا ہے کہ آٹھ مارچ کو ںاہر نکل کر مردوں کے سامنے دھمال ڈالتی، فحش ناچ گانے کرتی بھی نظر آئی ہیں۔ کیا یہ حقوق ہیں جس پہ عورت خوش ہو رہی ہے۔ اور مزید حقوق طلب کر رہی ہے۔

حقوق مانگنے والی وہ عورت کیاحق مانگے گی جب اس کے سر پہ دوپٹہ نہیں ہو گا۔ اور آدھے بازو اور ٹانگیں کپڑوں سے ننگی ہوں گی۔ یہاں تک کہ یہ جملہ بھی بینرز پہ لکھا گیا تھا کہ ” دوپٹہ اتنا پسند ہے تو آنکھوں پہ باندھ لو” کتنے افسوس کی بات ہے جب ایک مسلمان عورت یہ بات کرتی ہے۔ اور اس طرح کے اسلام کے منافی حقوق طلب کرتی ہے۔ اسلام نے عورت کو حیا کا پیکر کہا ہے اور عورت کا تو مطلب ہی پردہ ہے۔ اور وہ بےپردگی کا حق مانگ رہی اور اس حق کے نہ ملنے پہ سوگ منا رہی ہے۔ قوم کی عورت آخر آج جا کدھر رہی ہے کیا سوچ رہی ہے۔ "میرا جسم میری مرضی” آخر یہ جملہ اس دفعہ آٹھ مارچ کو اتنا بڑھتا کیوں نظر آیا۔ کیونکہ عورت اپنے جسم پہ حق بھی چاہتی ہے۔ بھئی کونسا جسم کونسی مرضی میڈیا پہ عورتوں نے اس جملے کی تصدیق یوں کردی ہے۔ کہ شادی کے بعد مرد کا نہیں عورت کا اپنے جسم پہ خود حق ہے کہ جب چاہے جیسے چاہے اسے استعمال کرنے دے ورنہ ہتھیار اٹھا لے۔ لیکن مسلم عورت یہ بھول گئی ہے۔ کہ جب رشتہ ازدواج ہی بندھ گیا تو اب دو فرد ایک ہو چکے ہیں۔ اب آپ کے ایک دوسرے پہ حقوق اور فرائض ہیں۔ عورت کے جسم پہ مرد کا اور مرد کے جسم پہ عورت کا مکمل حق ہے۔ بغیر کسی عذر کے اگر عورت یہ جملہ استعمال کرتی ہے تو ایسی عورت پہ لعنت ہے یہ میں نہیں اسلام کہتا ہے۔ امام صادق (ع) فرماتے ہیں۔”کہ جو عورت اپنے شوہر کو بسترِ خواب پر معطل کرے۔ اور مباشرت کرنے پر راضی نہ ہو یہاں تک کہ مرد کو نیند آ جائے ۔ تو جب تک مرد حالتِ نیند میں ہوتا یے۔تو فرشتے اس عورت پہ لعنت بھیجتے رہتے ہیں”

اس کے علاؤہ عورت میرا جسم میری مرضی کو اس بات پہ لاگو کرتی نظر آئی ہے کہ وہ شادی سے قبل یا شادی کے بعد بھی اپنا جسم جہاں چاہے جیسے چاہے استعمال کرے یہ کونسا حق ہوا؟ یہ کس کتاب میں لکھا ہے۔ مرد اور عورت کی دوستی کا حق مانگتی عورت سے میں سوال پوچھتی ہوں کہ اگر اسلام نے مرد عورت کی دوستی کا حق دیا ہے مرضی سے جسم استعمال کرنے کا حق دیا ہے۔ تو عورت اور مرد کی شادی کا حکم کیوں دیا گیا ہے؟عورت شادی کا حق مانگتی کم نظر آئی ہے۔ جب کہ اپنے جسم پہ آزادی کا حق اس کے حواس پہ طاری تھا۔ کیا عورت اپنی وجہِ تخلیق نہیں جانتی۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے۔ ” پھر ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورت پھیلائے” (سورتہ النساء؛) اسی طرح ایک اور جگہ ارشاد ہے کہ "تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں” یعنی کھیتی سے محبت اور فصل حاصل کرنا انسان کا فطری جذبہ ہے۔ تبی یہ دونوں آیات یہ ظاہر کر رہی ہیں۔ کہ عورت کی وجہِ تخلیق مرد کا سکون اور نئی نسل کی بڑھوتی ہے۔ پھر یہ عورت آج میرا جسم میری مرضی والا جملہ حاملہ نہ ہونے کے لیے اور مباشرت سے بچنے کے لیے کیوں استعمال کرتی نظر آ رہی ہے۔ جب کہ اس کی اصل وجہِ تخلیق ہی یہ ہے۔ عورت نے تو آٹھ مارچ کو جو کیا وہ کیا لیکن ساری قوم سارے علماء جو دین کی پختگی اور سلامتی پہ فقط اپنا ہی حق سمجھتے ہیں۔ وہ کہاں سوئے رہے ہیں۔ ملک بھر میں صرف جماعت اسلامی کی باپردہ خواتین اسلامی دائروں میں رہ کر باہر نکلیں ہیں۔ اور ایسی عورتوں کے خلاف آواز اٹھائی ہے جو غلط طریقے سے غلط حقوق مانگ رہی ہیں۔ جماعت اسلامی کی خواتیں نے بہت ہی اچھے انداز میں عورتوں کے حقوق بھی واضح کیے اور یہ بات بھی سمجھائی کہ ایسے روڈ پہ نکل کر اپنا حق مانگنا عورت کو زیب نہیں دیتا۔ ان کے بینرز پہ کتنا پیارا جملہ لکھا تھا۔ "عورت مرد کے مقابل نہیں بلکہ عورت اور مرد ایک دوسرے کے لیے معاون ومددگار ہیں ” اس طرح کے مثبت جملے اور مثبت حقوق کو جماعت اسلامی نے واضح کیا اور پروان چڑھایا۔ جبکہ ہر جگہ آٹھ مارچ کو عورتوں نے فحاشی پھیلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ اور منفیت کا رحجان بڑھایا ہے لیکن اس سارے پس منظر میں جماعت اسلامی کی خواتیں نے اپنے لباس اور طریقہ احتجاج سے یہ بات ثابت کی کہ حقوق کیا ہیں۔کیسے طلب کیے جاتے ہیں۔ اور برائی کو کیسے روکا جاتا ہے۔ مگر کہاں ہیں تمام باقی اسلام کے دوست اور مددگار علماء جو اتنی تقاریر اور اسلام کے فروغ کی بات کرتے ہیں۔ ایک دن میں ملک میں عورتوں نے بھونچال بھرپا کر دیا اور سارے علماء سوئے رہے۔ غلط باتیں ہو گئیں غلط طریقے اپنائے گئے مگر جماعت اسلامی کے سوا سب اسلام کے نام لیوا گہری نیند سوئے نظر آئے ہیں۔ قارئین اکرام! ہمیں جاگنا ہو گا……..کیونکہ ایک عورت نسلوں کے ساتھ نیکی ہے۔ اور عورت کی طرف سے معاشرے کو دیے جانے والا خوبصورت ترین تحفہ اولاد ہے۔ تربیت یافتہ اولاد ایک خوبصورت معاشرے کو تشکیل دیتی ہے۔ اور وہ نیک اور صالح اولاد مستقبل میں کئی نئے معاشرے اور سوسائٹیز بنائیں گے۔ جو عظیم کام عورت گھر کی چار دیواری میں کرسکتی ہے۔ وہ باہر گلی کوچوں میں صدیوں میں نہیں کر سکتی ۔آج کی عورت آزادی نہیں قید چاہتی ہے۔ کیونکہ جو قوم اپنی تہذیب کو بھول کر دوسروں کی تقلید کی خواہاں ہو وہ قید کی لپٹ میں جینا چاہتی ہے۔ عورت کو اپنے ذہن سے عیاشی اور آزادی کے بھوت کو اکھاڑ پھینکنا ہو گا۔ کیونکہ جس آزادی کے ساتھ مسلمان عورت جی رہی ہے۔ اس سے بڑھ کر آزادی بربادی کے سوا کچھ نہیں دے سکتی۔ہمیں بچوں کی پیدائش اور پرورش دونوں کے لیے دل تھام کر اٹھنا ہو گا۔ کیونکہ ایک عورت کا معاشرے کے لیے اچھی اولاد سے بڑھ کر کوئی تحفہ نہیں ہو سکتا۔ اور ایک عورت کا مقصدِ تخلیق بھی یہی ہے۔ عورت آج بھول میں ہے کہ وہ مردوں کے ساتھ چل کر ان کا ہاتھ بٹا کر پتہ نہیں کونسا تیر مار رہی ہے۔ یہ عورت کی غلط فہمی کے سوا کچھ بھی نہیں پہلے گھر کو سنوارو، گھر کو اکھٹا کرو، پہلے اپنے فرائض پورے کرو پھر دوسرے کاموں کی طرف نظر دوڑاؤ۔ جب ایک عورت اپنا فرض نہیں نبھا سکتی تو وہ معاشرے کے لیے ملک وقوم کے لیے کبھی بھی کچھ نہیں کر سکتی۔

اللّٰہ ہم سب کو توفیق دے کہ ہم صحیح اور حق بات کا ساتھ دینے کا حوصلہ رکھ سکیں اور غلط کو غلط ثابت کرنے کے لیے اُٹھ سکیں۔ کیونکہ اسی میں ہماری اور ہمارے دین کی بقا ہے۔

Comments are closed.