وسیم رضوی دماغی خلجان اور اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہے۔
محمد قمر الزماں ندوی
اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ چند بے غیرت، بے ضمیر اور ایمان فروشوں کی ایک فہرست تیار کی جارہی ہے، اس میں ہندوستان میں سر فہرست کس کو رکھا جائے تو میرا سیدھا سا اور ایک ہی جواب ہوگا؛ وسیم رضوی۔ یہ شخص کئی سالوں سے عہدے اور دولت و پیسے کے لالچ میں اور سستی شہرت کے لیے ہفوات بک رہا ہے ، یہ مسلمانوں کے خلاف زہر اگل رہا ہے اور معدہ مادہ، مال و دولت اور عہدہ و منصب کے لیے اپنے ایمان اور ضمیر کا سودہ کر چکا ہے۔ یہ شحص ذھنی توازن کھو چکا ہے، دماغی خلجان کا شکار ہے،اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہے، دولت اور عہدہ کا اتنا حریص ہے کہ اس کے لیے یہ شخص ایمان کا سودا کرچکا ہے، اس سے زیادہ تک گرنے کے لیے بھی تیار ہے۔ ابھی کل اس ناہنجار نے بیان دیا اور سپریم کورٹ میں چھبیس آیتوں کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی کہ ان آیتوں کو قرآن پاک سے نکال دیا جائے ، کیوں کہ اس سے دہشت گردی کو فروغ اور بڑھاوا ملتا ہے، اس نے اپنی دریدہ دہنی کا ثبوت دیتے ہوئے یہاں تک کہا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی طرف سے تحریف کرکے اس کو قرآن مجید میں داخل کر دیا ہے یہ آیات من جانب اللہ نہیں ہیں۔ اس دماغی مریض نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نام نہیں لیا، تو کیا سمجھا جائے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اس تحریف پر راضی تھے اور انہوں نے اپنی خلافت کے دنوں میں بھی اس کو نہیں ہٹایا۔ تو پھر اس عیار شخص کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نام بھی لے لینا چاہیے تھا نعوذ باللہ وہ بھی اس میں شریک تھے،کس قدر گمراہ بد دین اور بد قماش ہے یہ شخص۔
ضرورت ہے کہ اس ملعون انسان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے، قانونی اعتبار سے بھی اس کو مجرم ٹھہرانے کے لیے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرکےاس پر شکنجہ کسوایا جائے، شیعہ برادری سے مل کر(کیوں کہ وہ سب بھی اس ناپاک و ناہنجار شخص سے نالاں ہیں) اس کا سماجی بائکاٹ کیا جائے۔ اس کے بیانات پر زیادہ دھیان اور توجہ نہ دی جائے، اس لیے کہ وہ اس کے ذریعے سستی شہرت اور پبلیسٹی بھی چاہتا ہے اور اپنے آقاووں کو خوش کرنا چاہتا ہے۔ میں اس شخص کے ہفوات اور مغلظات سے اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ آدمی ذہنی اور نفسیاتی بیمار ہے، مجرمانہ نفسیات کا حامل آدمی ہے، یہ اپنے مجرمانہ بیک گراؤنڈ اور سطحی اور گھٹیا ذہنیت کے ساتھ آر ایس ایس کے دامن کو تھام کر اپنے کو اس کا وفا دار بنانا چاہتا ہے اور اپنے کو صاف شفاف شبیہ کا دکھانا چاہتا ہے جب کہ اس کا کردار بہت ہی مشتبہ ہے اور مالی بدعنوانی میں ملوث ہے۔
جتنی تنظیمیں، جمعیتیں، بورڈ اور کونسل ہیں سب کے ذمہ داران کو سر جوڑ کر بیٹھنا ضروری ہے اور اس شخص کو اس کے جرم کی سزا دلانا ضروری ہے۔ ورنہ یہ شخص مزید زہر اگلے گا اور مسلمانوں کے خلاف باطل کی پشت پناہی کرے گا۔
اس وقت مسلمانوں کو دو کام کرنا انتہائی ضروری ہے، ایک آپسی اتحاد میل جول اور دوسری چیز قرآن کی تعلیمات پر عمل اور اس کو سب تک پہنچانا۔
آئیے ہم سب طے کریں کہ اس راہ میں ہر طرح کی قربانی پیش کریں گے اور ملت اور شریعت کی بقا کے لیے آخری سانس تک جہد و جہد کرتے رہیں گے۔
Comments are closed.