اسی جوشیلے پَن نے ہمیں رُسوا کیا ہے۔
محمد صابر حسین ندوی
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
قوموں کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ وہ سنجیدگی، لائحہ عمل اور منصوبہ بندی سے پروان پاتی ہیں، انہوں نے ہمیشہ دشمنوں کو سوچی سمجھی بندشوں کے ذریعے باندھا ہے، ان کے گلے میں طوق ڈالے اور انہیں اپنا اسیر بنایا ہے، تہ بہ تہ تاریکیوں کو چھانٹ کر ایک نئی شمع جلائی ہے، نفرتوں کی ہواؤں میں اپنا چراغ روشن رکھا ہے، بغض و حسد اور عناد کی وادیوں میں محبت کا گُل کھِلایا ہے، ذرا نبی پاک علیہ الصلوۃ والسلام کی حیات طیبہ ہی دیکھ لیجیے! پوری سیرت اس بات پر گواہ ہے کہ آپ نے منصوبہ بند طرز پر امت مسلمہ کو اُٹھان، پروان اور ترقی کی ڈَگر پر گامزن کیا، ان میں جوش و جذبات اور بے جا غصہ و غم کو مار کر صبر وضبط، قوت و استقامت کا عنصر پیدا کیا، مکہ مکرمہ کی تیرہ سالہ تربیت کا مرحلہ ہمیں بتلاتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اپنے ہاتھ روکے رکھنے کا حکم دیا گیا، دعوتی پہلو اور قلبی اصلاح و تربیت کے لئے انہیں یہ سبق دیا گیا کہ پہلے اپنے آپ پر قابو پانا سیکھو، اگر دنیا کے بہاؤ میں بہتے جاؤگے، دشمنوں کی دشمنی اور ہر بات بے بات کا جواب دیتے جاؤگے، عناد و عصبیت سے بھرپور لوگوں کو اپنی صفائی پیش کرتے جاؤگے تو اپنے نصب عالی سے بھٹک جاؤگے، تمہارا دامن ان خاردار جھاڑیوں میں الجھ جائے گا، صحراؤں میں بادیہ پیمائی کرتے رہ جاؤ گے اور تم مقاصد اصلیہ سے یوں بھٹک جاؤگے کہ گویا تمہارا کوئی مقصد تھا ہی نہیں، آپ غور کریں کہ جب تیرہ سالہ ضبط کا باندھ ٹوٹا، تربیت و محنت کا ثمرہ پانے کا موقع ملا تو پھر دنیا نے دیکھا کہ چند سالوں میں ہی پورا عرب مسلمانوں کے قدموں تلے تھا، اسلام کے خلاف منہ بسوڑنے والے اور اپنی جان پر اسلام دشمنی کو ترجیح دینے والے پرچم امن تلے ٹھکانہ پا چکے تھے، ایسا نہیں ہے کہ مدنی دور میں تربیت کے اس نہج کو بھلا دیا گیا ہو؛ بلکہ اس زمانے میں بھی جب کبھی نوجوانوں کی جانب سے یا پھر کسی زعم میں جذبات کے شعلے ہوش مندی پر غالب آنے لگتے، ایسا محسوس ہونے لگتا کہ اب پھر سے وہ ایمان کی پختگی و صلابت اور توکل کی جگہ پر وقتی جوش کو بھی بٹھا دیا گیا ہے، اور ان میں ان موجوں کی اٹھان پائی جانے لگی ہے جن سے ایمان کو نقصان ہوتا ہے، منصوبہ بندی کو ٹھیس پہنچتی ہے تو پھر انہیں اللہ تعالی کی جانب سے تنبیہ ہوتی، غزوہ احد اور حنین دراصل اس سبق کو دہرانے کا ذریعہ بھی تھے، اور امت اسلامیہ کو یہ پیغام دینا تھا کہ زمانہ خواہ کوئی بھی ہو، تم مغلوب ہو، ہر طرف سے دشمان اسلام تم پر ٹوٹ پڑے ہوں، کسی پَل اور کسی کروٹ تمہیں چین نصیب نہ ہوتا ہو یا پھر وہ دور بھی آجائے جب تمہاری تلواروں کی جھنکار میں ہر کوئی تمہارے سامنے سر خم کرنے لگے، تمہاری برتری تسلیم کریں، اسلام کا جھنڈا بلند ہوجائے، لوگوں میں اس کی عظمت بیٹھ جائے تب بھی منصوبہ بندی سے دور نہ جانا، جوش و جذبات اور احساسات کے طوفان میں سب کچھ بھول کر ان اعمال پر تکیہ نہ کرنے لگنا جس سے تمہاری جڑیں اکھڑ جائیں، تمہاری ہوائیاں اڑ جائیں اور تم رسوائی کے بازار میں تنہا کھڑے رہ جاؤ۔
مسلمانوں نے جب تک اس نسخے کو تعویذ بنائے رکھا، اسے حرز جاں سمجھا تب تک انہیں خوب سربلندی نصیب ہوئی؛ لیکن پھر یہی ہوا کہ وہ جذبات کے سمندر میں غوطہ لگانے لگے، ہر آنے جانے والے پر لعن طعن کرنے لگے، کتوں کے بھونکنے پر اپنی منزل چھوڑ بیٹھے، کوئی اور دشمن نہ ملا تو اپنے ہی بھائیوں میں دشمن ڈھونڈ نکالا اور اس کے خلاف علم بغاوت تھام بیٹھے، عجب عالم ہے کہ عالم اسلام میں جن کے پاس وسائل ہیں، جو حکمی طور پر مدنی دور میں ہیں، جہاں اللہ تعالی کی نعمتوں اور نوازشوں کی بارش ہورہی ہے، وہ لوگ اپنے اپنے ڈربوں میں دُبک کر بیٹھے ہوئے ہیں؛ لیکن جنہیں خصوصی طور پر دعوتی نہج پر کام کرنا ہے، اپنے اندر منصوبہ بندی لانی ہے، وہ لوگ جوش اور جذبات میں دہکتے اور بھٹکتے جارہے ہیں، حتی کہ قرآن عظیم کے سلسلہ میں کیے گئے اعتراضات کو بھی "انا نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحافطون” کے نظریے سے دیکھنے کے قائل نہیں، بعض ناہنجار، خبیث اور منافقت کے ستائے ہوئے جب اپنی شہرت و ناموری کے لئے ایسے حربے استعمال کرتے ہیں تو افسوس ہم خود انہیں کامیاب بناتے ہیں، ان کی دلی مراد پوری کرتے ہیں، دفاع کرتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ اس سے فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہے، وہ یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ علم کا جواب علم ہوتا ہے، قانون کا جواب قانونی چارہ جوئی ہوتی ہے، نیز جمہوریت میں رہنے والے خاص طور پر جب حکومت فاشزم کی شکار ہو اور وہ علی الاعلان مسلمانوں کو درکنار کرتی ہو اور انہیں میں سے دشمنان اسلام پیدا کر کے اسلام کی بدنامی کا کام انجام دیتی ہو اس دور میں اپنی ہیکڑی دکھانا اور یہ ظاہر کرنا کہ ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں، سڑکیں بھر سکتے ہیں، اور حکومت ڈگمگا سکتے ہیں، یہ محض خام خیالی اور سیاسی پہلوؤں سے لاپرواہی والی بات ہے؛ دراصل اس طرح قرآن و حدیث کو نشانہ بنانے کا مطلب ہی یہی ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو مشتعل کیا جائے، انہیں ورغلایا جائے اور یہ ثابت کیا جائے کہ مسلمان ایک جذباتی قوم ہے، ان میں سوجھ بوجھ نام کی کوئی چیز نہیں ہے، خدارا بات سمجھنے کی کوشش کیجیے! اس ملت میں درمندوں کی کمی نہیں ہے، اہل علم اور دانشوروں کی کوئی قلت نہیں ہے، سیکڑوں اکیڈمیاں اور آرگنائزیشن ہیں، اگر سرجوڑ کر بیٹھا جائے اور لائحہ عمل بنا کر قانونی کارروائی کی جائے تو بلاشبہ اس کا اثر ہوگا، اہل علم علمی جواب دیں، وُکلا عدالتوں میں پیروی کریں، اصحاب خیر قانونی چارہ جوئی سے کام لیں، ان شاء اللہ دشمن منہ کی کھائے گا، اور عبرتناک انجام سے دوچار ہوگا۔
Comments are closed.