تذکرہ سلطان العلماء، کتاب کی دید

 

 

ابو معاویہ محمد معین الدین ندوی قاسمی

خادم تدریس

جامعہ نعمانیہ ویکوٹہ آندھرا پردیش

 

عالمی تالابندی میں جہاں بے شمار حالات اور مصائب و آلام سامنے آئیں، تو وہیں عالم اسلام کی کئی یگانہ روزگار ہستیاں بھی بچھڑ گئیں یا ہم ان سے محروم ہوگئے۔

انہیں میں سر فہرست ایک نمایاں نام سلطان العلماء، فخر اہلسنت والجماعت، دارالعلوم دیوبند کے عظیم سپوت، یادگار اسلاف، رئیس المحدثین حضرت اقدس مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری قدس سرہٗ (حضرت رح:سے بارہا یہ سننے کو ملا تھا کہ جب آپ درمیان درس اکابر علماء دیوبند کا نام لیتے جیسے حجۃ الاسلام مولانا قاسم نانوتوی، فقیہ النفس مولانا رشید احمد گنگوہی اور حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہم اللہ وغیرہ تو آپ سابقہ میں "حضرت اقدس” اور لاحقہ میں "قدس سرہٗ” کہا کرتے تھے) کا بھی ہے، حضرت رح عین تالا بندی میں، عروس البلاد ممبئی میں 25/رمضان المبارک 1441/ھ کو ہمیشہ ہمیش کے لئے داغ مفارقت دے گئے۔

اللہ تعالیٰ ان کی تربت کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے۔ (آمین)

حضرت رح کے انتقال کے دن ہی کاتب السطور نے ایک مضمون بعنوان "عالم اسلام ایک گوہر نایاب سے محروم” لکھا تھا جو دوسرے دن ہی "فاروقی تنظیم” (اردو روزنامہ، پٹنہ) اور دیگر اردو نیوز پورٹل میں شائع ہوا تھا۔

پھر بعد میں جب ماہنامہ "السعید، برقی مجلہ” کے ذمہ داروں نے خصوصی شمارہ شائع کیا تو اس میں مزید اضافہ کے بعد شائع ہوا۔

حضرت قدس سرہ کے وفات کے بعد ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے آپ کے سینکڑوں شاگردوں نے اپنے اپنے طور پر مضامین و مقالات لکھے، ہم عصروں نے تعزیتی کلمات لکھا، بعض مختصر تو بعض طویل مضامین و مقالات سامنے آئے تو بعض کتاب چہ کی شکل میں بھی منظر عام پر آئیں۔

راقم السطور کی معلومات کے مطابق اب تک ہارڈ کاپی میں حضرت رح کی تابندہ نقوش زندگی سے متعلق دو کتابیں شائع ہوچکی ہیں، ایک "تذکرہ سلطان العلماء”

اس کے مرتب حضرت مولانا خلیل الرحمن قاسمی برنی(صدر ادارہ علمی مرکز وامام و خطیب مسجد الفاروق ،ولیمس ٹاؤن،بینگلور) صاحب زادہ حضرت قاری شفیق الرحمٰن صاحب دامت برکاتہم (استاذ:دارالعلوم دیوبند)

جب کہ دوسری کتاب "ذکر سعید” کے نام سے ہے، اس کے مرتب "حضرت مولانا صفوان صاحب پالن پوری دامت برکاتہم (امام و خطیب:مدینہ مسجد، یاری روڈ، ورسوا، اندھیری، ویسٹ ممبئی) ہیں۔

احقر نے اس کتاب کی بھی خریداری کروالی ہے تاہم ہنوز دید نہیں ہوئی ہے، جبکہ اول الذکر کل گذشتہ ہمارے رفیق تدریس حضرت مولانا نیاز احمد صاحب رحیمی کے توسط ، مرتب کی جانب سے ہم تک پہنچی، مرتب نے کتاب پر مندرجہ کلمات تحریر فرمایا!

"بخدمت عالی جناب مولانا مفتی محمد معین الدین ندوی قاسمی زید فضلہ/

/

خلیل الرحمن قاسمی برنی

"11/03/2021

ہم مرتب کو اس عظیم کاز پر دل سے مبارک باد پیش کرتے ہیں، اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو شرف قبولیت بخشے، اور ان کے لئے ذریعہ نجات ہو۔(آمین)

کتاب کی ابھی صرف دید ہوئی ہے یہ دیدہ زیب اور دلکش ہے،اور تقریباً ساڑھے سات سو صفحات پر مشتمل ہے، مطالعہ کے بعد تبصرہ بھی لکھا جائے گا ۔ ان شاءاللہ

Comments are closed.