ظالم ہی ظالموں کا قتل کرنے لگے۔
محمد صابر حسین ندوی
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
میانمار کی سڑکوں پر لوگوں کا ریلا بہہ رہا ہے، ہاتھوں میں جھنڈے، زبان پر تاناشاہی کے خلاف نعرے، نام نہاد جمہوری نظام کی بحالی اور لوک تنتر کی باتیں ہیں، عوام اور پولس آپس میں گتھم گتھی کی حالت میں ہیں، فوج ان پر مسلح کارروائی کر رہی ہے، آنسو گیس، واٹر کینن کے علاوہ گولیاں بھی چلائی گئی ہیں، اب تک سیکڑوں مارے جا چکے ہیں، گزشتہ ماہ فوج کے ذریعے آنگ سانک سوکی کا تختہ پلٹ کرنے کے بعد مسلسل فوج برہمی، درندگی اور خوفناکی کا مظاہرہ کر رہی ہے، اس نے وعدہ کیا ہے کہ اس سال کے اخیر تک انتخابات کروائے گی؛ لیکن سبھی جانتے ہیں کہ یہ بس ظاہری ایک چال ہو سکتی ہے، ورنہ فوج کبھی نہیں چاہے گی کہ ان کی قوت کم ہو، چناں چہ اگر سرکار بنتی بھی ہے تو متفرق اور کمزور اپوزیشن کے ساتھ بنے گی، ٢٠٠٨ کا قانونی مسودہ ہی قبول کیا جائے گا، جس کے اعتبار سے فوج کو دیوان اعلی پر زیادہ قابو حاصل رہے گا، مگر یہ بھی ضمانت نہیں کہ فوج انتخابات کرواہی دے، ایسا لگتا ہے کہ اب وہاں جمہوری نظام جس کی پاداش میں روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام ہوا تھا، اپنی آخری سانس لے رہا ہے، وہ ظالم ہیں جو اپنے آپ کو مارنے لگے ہیں، عبرت کی نگاہ سے دیکھنے والے سمجھ سکتے ہیں کہ اگر کہیں ظلم بڑھ جاتا ہے اور اللہ تعالی کی ناراضگی عام ہوجاتی ہے تو عالم یہ بھی ہوجاتا ہے؛ کہ ظالموں کو ظالموں کے حوالے کردیا جاتا ہے، میانمار نے ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام کیا، جمہوریت کا سہارا لیکر اور سرکاری تقویت کے ساتھ معصومیت کا گلا گھونٹا، نہ جانے کتنے بے گھر ہوئے اور کتنے ہی بھاگتے ہوئے سمندر کے حوالے ہوگئے، آج خدا کا کرنا یہ ہے کہ وہ خود ایک دوسرے کی گردن کاٹ رہے ہیں، جس نے ظلم کی پشت پناہی کی تھی وہی آنگ سانگ سوکی خود نظر بند ہے، صدر بھی بدتر حالت میں ہے، فوج کی کارروائی پر ماہرین کا ماننا ہے کہ چین بھی ان کے ساتھ ہے، بی بی سی کی رپورٹس بتلاتی ہیں کہ اگر ایسا ہے تو پھر قتل عام اور بھی ہوگا، لوگوں کی جانیں اور بھی جائیں گی، یہ بدھسٹ جو اپنے آپ کو امن و آشتی کا پیکر اور ہتھیار سے کوسوں دور بتاتے ہیں، اور یہ کہتے ہیں کہ دنیا میں صرف روحانیت عام کرنے اور ریاضت کرنے کی جگہ ہے، وہ خود خون کی ہولی کھیل رہے ہیں، پہلے عام مسلمانوں، اقلیتوں کا خون سستا کیا گیا، اب اللہ تعالی نے انہیں کا خون ایک دوسرے پر آسان کردیا ہے، آئے دن عالمی خبر رساں ادارے ایسی ویڈیوز اور خبریں پوسٹ کرتے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ اب میانمار کے لئے جمہوریت دِلّی دُور ہے، وہاں کے لوگ پھر سے تاناشاہی، ڈکٹیٹر شپ کے زیر سایہ رہنے پر مجبور ہیں، بہرحال اس سلسلے میں ایک چشم کشا تحریر ”ظالموں کے ہاتھوں ظالموں کا قتل“ کے عنوان سے سینئر صحافی ایم ودود ساجد (دہلی) کی نظروں سے گزری جو پڑھنے اور عبرت حاصل کرنے سے تعلق رکھتی ہے، آپ بھی پڑھتے جائیے:
”میانمار یعنی برما میں فوج اور عوام کئی دنوں سے برسر پیکار ہیں۔ فوج نے پچھلے دنوں بغاوت کے ذریعے آنگ سانگ سوکی کی جمہوری طور پر منتخب حکومت کو ختم کرکے سوکی کو گرفتار کرلیا تھا۔ اب سوکی کے حامی فوج کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں اور فوج ان کے خلاف طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔ تازه اطلاعات کے مطابق فوج اور عوام کے تصادم میں اب تک 50 مظاہرین ہلاک ہوچکے ہیں۔ 2 ہزار کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ یہ سب وہ بدھشٹ ہیں جو روہنگیائی مسلمانوں کا قتل عام کرتے رہے ہیں۔ 25 اگست 2017 کو حکومت نے روہنگیائی مسلمانوں کے خلاف ”آپریشن کلیرنس“ شروع کیا تھا۔ 11 دسمبر 2019 کے نیویارک ٹائمز میں شائع صحافی مارلائز سائمن اور حنّا بیچ کی رپورٹ کے مطابق اس آپریشن میں اگست 2018 تک 24 ہزار مسلمان شہید کردیے گئے تھے۔ اس آپریشن میں فوج کے ساتھ مقامی بدھشٹوں نے بھی حصہ لیا تھا۔ 2019 میں جب یہ معاملہ ہیگ میں واقع اقوام متحدہ کی عالمی عدالت میں پیش ہوا تو آنگ سانگ سوکی نے پوری طاقت کے ساتھ اس نسل کشی کا دفاع کیا تھا۔ انہوں نے اسے نسل کشی تسلیم کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ ”دہشت گردوں“ کے خلاف یہ کارروائی ضروری تھی۔ اللّٰه کا نظام بھی بڑا پُر اِسرار ہے۔ میانمار کی یہی فوج تھی جس نے جمہوری تحریک چلانے کی پاداش میں آنگ سانگ سوکی کو 1989 میں نظر بند کردیا تھا۔ سوکی کم وبیش 20 سال تک نظر بند رہی۔ یہاں تک کہ وہ 2010 میں جزوی جمہوریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔ انہیں 1991 میں نوبیل امن ایوارڈ بھی ملا۔ ان کی نظر بندی کے دوران برما کے مسلمانوں نے ان کا ساتھ دیا۔ انہیں اپنا ہمدرد جانا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جس فوج نے ان کی جوانی کے 20 قیمتی سال قید وبند کی مشقتوں میں برباد کیے اقتدار میں آنے کے بعد وہ اسی فوج کے مسلم کش گناہوں کا دفاع کرنے لگیں۔ یہی نہیں انہوں نے بدھشٹوں کو مسلمانوں کے خلاف مزید برگشتہ کیا۔ مسجدوں میں آگ لگوائی اور مسلمانوں کے گھروں میں لوٹ پاٹ کرائی۔ آج یہی فوج ان کے حامی بدھشٹوں پر طاقت کا استعمال کر رہی ہے اور دھوکے باز آنگ سانگ سوکی سلاخوں کے پیچھے سے مسلمانوں کے قاتل بدھشٹوں کو سڑکوں پر فوج کے ہاتھوں مرتا ہوا دیکھ رہی ہیں۔ قرآن کا وعدہ سچا ہے: لنھلکن الظالمین۔۔۔ ہم ظالموں کو ہلاک کردیں گے۔۔۔(سورہ ابراھیم:13) یہاں ظالم کے ہاتھوں ظالم مارے جارہے ہیں ۔۔ بارِ الہا! ہم بھی منتظر ہیں ۔۔”
Comments are closed.