ایسی پیاس اور ایسا صبر’ دریا پانی پانی ہے۔۔۔۔۔۔”
عبدالرحیم ندوی
قلمی نام :تابش سحر
بت پرستوں کو صبح و شام نفرت کے جام پِلائے گئے ہیں، ان کی ذہنیت زہرآلودہ ہے، سینوں میں تعصّب کی آگ بھڑک رہی ہے، ایک پیاسا لڑکا’ اپنی پیاس بجھانے کے لیے مندر کے احاطے میں داخل ہوا تو شیطان صفت وحشی’ بےرحمی کے ساتھ پیٹنے لگا، یہ فقط اس وحشی کی ذہنیت نہیں بلکہ اس کے پیچھے باضابطہ ایک صدی کی محنت ہے، تخریبی سرگرمیاں ہیں، سنتوں اور سادھؤوں نے، نیتاؤں اور غنڈوں نے ہر جگہ نفرت کا بازار گرم کیا ہے، نفرت کا وہ بازار جہاں انسانیت اور تہذیب کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں، نیکی کے ہر کام میں مذہب آڑے آتا ہے، یہ صرف ان ملت فروشوں کو معاف کرتے ہیں جنہوں نے غلامی کا قلادہ اپنے گلے میں ڈال دیا، سوچیں! کیسی تعلیم ان بزدلوں کو ملی ہوگی جو ایک معصوم پیاسے لڑکے کو پانی پِلانے کے بجائے’ پیٹنے لگتے ہیں، سال میں ایک ہزار قومی ایکتا سمّیلن کا انعقاد کرلیں مگر یہ ذہنیت نہیں بدلنے والی، یہ وحشی پن، یہ درندگی، یہ تعصب اور یہ نفرت ان کی عادت بن گئی ہے اور عادت ایک نہ ایک دن فطرت بن ہی جاتی ہے۔ یہ کوئی ایک واقعہ نہیں ہزاروں فسادات، ہجومی تشدّد، سماجی و معاشی بائیکاٹ کی منصوبہ بندی، عدالتوں کا دوہرا رویّہ، پولس کی بربریت اور حکومت کی کینہ توز نظریں سب اسی ذہنیت کا شاخسانہ ہے مگر ان سب کے باوجود قافلے کے حدی خوانوں کی سرگرمیاں بھی کچھ کم مشکوک نہیں، جو انہیں صنم پرستوں کی طرف بلاتے ہیں، انہیں اپنا رہبر و مسیحا تصور کرتے ہیں اور سرعام انہیں نجات دہندہ ثابت کرتے ہیں جبکہ یہ وقت منظم رہنے کا پیغام سناتا ہے، سیاسی اور سماجی بیداری کا تقاضہ کرتا ہے، اپنی ملّت کے لیے قربانی کا مطالبہ کرتا ہے، کسی فرد کا’ نفرت کا جواب محبّت سے دینا یقینا بہترین اخلاق کی علامت ہے مگر بحیثیتِ امّت اسے اپنی عادت بنا لینا ظلم کو فروغ دینے کے مترادف ہے، آج سر جوڑ کر بیٹھنے کی ضرورت ہے تاکہ ان غلطیوں کی اصلاح کی جاسکے جن کے سبب ہماری ہوا اکھڑ گئی، ہمارا رعب و دبدبہ مٹی میں مل گیا، اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ یہ تبلیغِ دین میں کمی کا نتیجہ ہے تو ایسا کہنا ان بےشمار داعی الی اللہ کی توہین ہوگی جو ستر سالوں سے محنت مشقت کررہے ہیں اور لوگوں کو توحید و رسالت کا پیغام سنا رہے ہیں گو کہ ہر کسی کے کام کرنے کا طریقہ مختلف ہے۔۔۔۔
Comments are closed.