کتابوں کی دنیا
کومل یونس (خانیوال)
ویسے تو بہت سی ترجیحات کو سامنے رکھ کر کتابوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ لیکن! اگر اس کے دوسرے پہلوؤں کی طرف دیکھا جائے اور عصر حاضر کی طرف نگاہ دوڑائی جائے تو اس مطالعہ کے تین اہم مقاصد نظر آتے ہیں۔ جو ہمیں کتابوں کی دنیا کی طرف کھینچ لاتے ہیں۔ اس کا پہلا مقصد: اچھے سے اچھے لائف اسٹائل کے لیے کتابوں کا سہارا لیاجاتا ہے۔
دوسرا مقصد: اپنے علم میں اضافے کی غرض سے کتابوں کا مطالعہ کیاجاتا ہے ۔جہاں روز مطالعہ کرنے سے بہت سےایسے راز عیاں ہوتے ہیں، اور بہت سی ایسی چیزوں کی کھوج لگائی جاسکتی ہے جن سے انسان کبھی لاتعلق ہوتا ہے۔ اور پھر آتا ہے تیسرا مقصد: جو اپنے اندر بہت سی گہرائیاں لیے ہوئے ہے۔ جب کبھی انسان کی سوچوں پر شور برپا ہوتا ہے تو اس شور کو کم کرنے کے لیے انسان سکون کی تلاش میں نکل پڑتا ہے اور اس کی پہلی ترجیح کتابیں ہوتی ہیں۔ اور وہ ان کا سہارا لیتا ہے۔تو اس بات کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ کتابوں سے بہترین ساتھی کوئی اور نہیں۔ جیسے ہی انسان اپنے غموں کا بوجھ کم کرنے کے لیے ان کا رخ کرتا ہے تو اس کو بہت سی ایسی چیزوں سے چھٹکارا مل جاتا ہے جو کہ اس کے لیے تکلیف کا باعث بن رہی ہوتی ہیں اور نئی تخلیقات کا سمندر امڈ آتا ہے۔ جو انسان کی سوچوں کو بہت ہی وسیع کر دیتا ہے۔ اور یہ کتابیں ہی ہوتی ہیں۔ جو انسان کو عزت و وقار بخشتی ہیں۔ کتابوں کو اس حسین وادی سے بھی تشبیہ دیا جا سکتا ہے جہاں جا کر دل خوش ہوجائے، جہاں بے قرار روح کو سکون مل جائے، جہاں بکھری سوچیں ایک ہی جگہ پر محوِ رقص ہو جائیں، یہ وہ کتابوں کی دنیا ہے جہاں انسان مر کر بھی زندہ رہتے ہیں۔ ان کتابوں کی بدولت؛ اور جیسے جیسے یہ الفاظ دماغ کے دریچوں سے ہوتے ہوئے روح کے اندر پیوست ہوتے ہیں، تو پھر نہ چاہتے ہوئے بھی وہاں سے بے چین دنیا کو رخصت ہونا ہی پڑھتا ہے، اور وہ دنیا غموں کے سیلاب بھی اپنے ساتھ بہا لے جاتی ہے، اور پھر اس خلا کی کمی کو پورا کرنے کے لیے اس وادی کا سہارا لیا جاتا ہے جو کتابوں کی صورت میں بھٹکتی سوچوں کے لے جان ادا بن جایا کرتی ہے۔ جو دل و دماغ پر چڑھے اس دنیا کے زہر کو اپنی روشنائی سے ایسا جام پلاتی ہیں کہ؛ اس موت کی وادی میں لے جانے والے مرض سے بہت حد تک چھٹکارا مل جاتا ہے، جہاں بے ہنگم سوچوں پر نئے خیالات کا رنگ چڑھایاجاتا ہے۔ تو پھر کیوں نہ کتابوں سے اپنا رشتہ اتنا مضبوط کر لیا جائے کہ جب کبھی بھی سکون کی تلاش ہو تو ان کے صفحات پر بکھری سیاہی کی خوشبوں سے اپنی روح کو تروتازہ کر لیا جائے۔ اس امید کے ساتھ کہ یہ ہمیں کبھی اکیلا نہیں چھوڑیں گی۔
Comments are closed.