زندگی

 

طاہرہ لیاقت

 

زندگی کیا ہے؟ زندگی کا نام سنتے ہی ذہن میں زندہ رہنے اور اس میں سرانجام ہونے والے کام آتے ہیں۔ زندگی پیدائش سے لے کر موت تک کے درمیان کے سفر کا نام ہے اور اس سفر کی منزل قبر ہے۔ زندگی سفر، آزمائش، کشمکش، الجھن، دکھ، ملال، مسرت، حسرت، جذبات، تفکرات اور اعتراضات؛ سے ملے جلے الفاظ کا مجموعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں پیدا کیا، زندگی عطا کی، لیکن؛ اس نے ہمیں یہ سب بغیر کسی مقصد کے نہیں دیا بلکہ ایک خاص مقصد کے تحت یہ زندگی ہمیں عطا کی گںٔی ہے۔ لیکن آج ہم اپنے مقصدِ حیات کو پسِ پشت ڈالے ہوئے زندگی بسر کرتے جارہے ہیں۔ زندگی ایک غیر متوقع حقیقت کا نام ہے، جس کا ہر دن نںٔے سے نیا پیغام لے کر آتا ہے۔ یہ ایک ایسی الجھن ہے جس میں نت نئے انکشافات اور ملال پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ یہ رشتوں میں بندھی ایک خوبصورت ڈور بھی ہے اور غموں سے بھری اندھیری رات بھی ہے۔اس میں نئے رشتے جڑتے بھی ہیں اور پرانے ٹوٹتے بھی ہیں۔ یہ غیر یقینی چیز ہے جس میں کچھ پتہ نہیں کب کیا ہو جائے کیونکہ انسان سوچتا کچھ ہے ہو کچھ جاتا ہے۔ یہ رنگ برنگی چیزوں اور انسانوں سے بھری پڑی ہے، ہر انسان الگ سوچ کا مالک ہے۔ہمارا اچھوں سے سامنا بھی ہوتا ہے اور بروں سے ٹکراؤ بھی۔ زندگی بھی قسمت کی مانند ہے جو کبھی بھی بدل سکتی ہے۔ مشکلات اور آسانیاں ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ ہم اس دنیا کی رنگینیوں کی طرف اس قدر مائل ہو چکے ہیں کہ اس کا اصل مقصد ہی فراموش کر بیٹھے ہیں۔ خدارا زندگی کو پہچانیں اور اس بات کو سمجھیں کہ آخر اللہ نے ہمیں اس دنیا میں زندگی گزارنے کیوں بھیجا ہے۔ اس کو صحیح معنوں میں گزارو نہیں بلکہ جیو اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو کہ اس نے ہمیں اس نعمت سے نوازا ہے کہ ہم اس کی عبادت کریں، اس کی کائنات کی سیر کر سکیں، اس کی بنائی ہوئی چیزوں کو دیکھ سکیں، اس کے احسانات اور مہربانیوں کا شکر بجا لا سکیں۔ اتار چڑھاؤ تو زیست کا حصہ ہیں لیکن ہر گز اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم اس کے اصل مقصد سے ڈگمگا جائیں۔زندگی حسین احساسات و جذبات کا امتزاج ہے، اس میں خواب دیکھے جاتے ہیں، کچھ پورے ہوتے ہیں اور کچھ بیچ رستے میں ٹوٹ جاتے ہیں، تو خواب دیکھیں ضرور مگر ان کے پیچھے اپنی زندگی داؤ پر مت لگائیں کیونکہ؛ اس سے سوائے آخرت برباد ہونے کے اور کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اپنی زندگی کو خدا کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق گزاریں۔ کبھی بھی اس فانی دنیا کے پیچھے مت بھاگیں کیونکہ یہ سب ادھر ہی رہ جانا ہے ہمارے ساتھ صرف ہمارے نامہ اعمال جائیں گے تو بہتر یہی ہے کہ ہم اپنی زندگی اللہ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق گزاریں تاکہ دنیا و آخرت دونوں سنوار سکیں۔

Comments are closed.