سری لنکا میں نقاب پر پابندی کی حقیقت –
محمد صابر حسین ندوی
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
اس دنیا میں اسلام اور اس کی پرواز کو ہمیشہ ایک چیلینج کے طور پر لیا گیا ہے، اگر کہیں مسلمانوں نے کوئی کمزوری اور لچک دکھائی تو سَدا ہی انہیں نشانہ بنا کر مسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اسی سلسلہ کی ایک کڑی یہ خبر بھی ہے جسے ١٣/ مارچ ٢٠٢١ کو Times of India نے شائع کی ہے؛ کہ سری لنکا سرکاری طور پر برقعے پر پابندی عائد کرنے جارہا ہے، اس سلسلہ میں ضروری کاروائیاں شروع کردی گئی ہیں، کولمبو میں وہاں کے عوامی تحفظاتی سیکرٹری سَرتھ ویراسیکرا نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہاں تک کہا کہ وہ بہت سے مدارس بھی بند کرنے والے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ہر کوئی اپنی مرضی سے جو چاہے وہ نہیں پڑھا سکتا، وہیں برقعے کے متعلق بات کرتے ہوئے اسے قدامت پسندی، تشدد اور نفرت کی علامت قرار دیا، خصوصاً اسے سیکورٹی کے لئے ایک بڑا مسئلہ بھی بتایا۔ برقعہ پر پابندی عائد کرنے والے ممالک میں یہ کوئی پہلا ملک نہیں ہے، یورپ کے کئی ممالک پہلے ہی نقاب پر پابندی لگا چکے ہیں، جنہیں خواتین کی آزادی کا علمبردار سمجھا جاتا ہے اور حقوق انسانی کے محافظ سمجھے جاتے ہیں وہ پہلے ہی خواتین پر اپنی منشا تھوپ چکے ہیں، بہت سے ممالک وہ ہیں جہاں پر اسکول و کالجز میں پابندی لگائی ہے، مگر سری لنکا کا مسئلہ قدرے الگ ہے، یہاں پر برقعہ پر سوال عائد کرنا اور اس پر پابندی لگانا ایشیائی ممالک میں ایک نئی بحث اور تشویش پیدا کرتا ہے، سری لنکا اگرچہ بودھ اکثریت ملک ہے، سیاست اور حکومت پر بھی انہیں کی پکڑ ہے؛ لیکن وہاں ایک زمانے سے اسلام اور مسلمان نفرت کی کھیتی کی جارہی ہے، اقلیتوں کو لگاتار ٹارچر کیا جارہا ہے، سری لنکا کہنے کو ایک جمہوری ملک ہے، مگر وہاں ایک خاص نظام اور سیاسی پارٹی کا ہی راج رہا ہے، سب سے زیادہ بودھ مذہب کے ماننے والے ہیں، ہندو بارہ فیصد سے زائد اور مسلمان نو فیصد سے زیادہ، نیز کرسچن چھ فیصد تک ہیں؛ لیکن اگرچہ قانونی اور دستوری طور پر سب کو ایک ماننے کی بات کی جاتی ہو، اقلیتوں کو ان کے حقوق دینے کی پہل ہوتی ہو؛ مگر پھر بھی بدھ ازم کا ظلم ہمیشہ برقرار رہتا ہے، ایک عرصے تک مسلمانوں کے جنازے کو دفنانے کی بھی اجازت نہیں تھی؛ مگر حال ہی میں خبر آئی تھی کہ پاکستان کی کوششوں سے یہ حق حاصل کرلیا گیا ہے، اسی طرح سری لنکا چین کے بھی قریب ہوتا جارہا ہے، کئی بندرگاہ اور جزیرے ان کے تصرف میں آچکے ہیں، جس سے پڑوسی ممالک خصوصاً ہندوستان بھی پریشان ہے، وہاں پر چینی سامان کی آمد اور ان کا رسوخ بڑھتا جارہا ہے، چین مسلم مخالف کے ساتھ ساتھ ایشیائی ممالک میں اپنی طاقت اور مسلمانوں کو بَلی بکرا بنا کر سبھی ممالک کو افراتفری میں مبتلا کر کے خود گاڈ فادر بننا چاہتا ہے، سری لنکا نے ایک چنگاری چھوڑی ہے، یقیناً اسے شعلہ بنتے دیر نہیں لگے گی، قرب و جوار کے ممالک بڑی سرعت کے ساتھ اسے اپنا نمونہ بنائیں گے اور اپنی مسلم مخالف سوچ کو پروان چڑھائیں گے، ویسے بھی ہندوستان ایک عرصے سے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا ہے کہ کوئی ایشیائی ملک مسلمانوں کو متشدد اور ان کے مذہبی شناخت کو قدامت پسندی کا ٹیگ دے کر پابندی عائد کرے؛ تاکہ اسے ایک اسوہ بنا کر پیش کیا جا سکے اور پھر ملک عزیز میں بھی ایک مختلف فیہ بحث چھیڑ دی جائے، یہاں پر مدارس میں گیتا، رامائن کی شروعات کی جارہی ہے، مسلمانوں کو سی اے اے وغیرہ کے ذریعے گھیرنے کی تیاری ہے، نیز سیاسی طور پر انہیں بے معنی کیا جا چکا ہے، ان حالات میں سری لنکا کا یہ قدم مسلمانوں کے زخموں میں مزید اضافہ کرسکتا ہے۔
حیرت کی بات ہے کہ سری لنکا اور ایران کے مابین دوستانہ تعلقات بتائے جاتے ہیں، ٹھیک عالم عرب سے بھی ان کے سروکار ہیں؛ لیکن اب تک خاموشی کے سوا کوئی جواب نہیں آیا ہے، سچی بات یہ ہے کہ اب تک جن ممالک نے بھی برقعہ پر پابندی عائد کی ہے ان میں سے کسی نے بھی معقول وجہ نہیں دی، قدامت پسندی اگر مذہب کی اتباع ہے تو یہودی اور عیسائی پادری کی مذہبیت اور نَن کے برقعے کیوں قدامت پسندی کا ٹھپہ نہیں پاتے؟ چرچ اور بودھ مندر اور عیسائی کالجز و اسلول کیوں بند نہیں کیے جاتے؟ جو لگاتار اپنی مذہبی رسوخ بڑھانے یا پھر ملحد بنانے اور دین بیزار و خدا بیزار بنانے پر آمادہ ہیں، سیکورٹی اور تحفظ ہی کی بات ہو تو پھر کورونا وائرس کی وجہ سے ماسک لگانا کیونکر لازمی کیا گیا؟ اور پھر اس دوران کوئی تشدد کیوں نہیں دیکھا گیا؟ اگر مذہبی علامت سے ہی چِڑ ہے تو پھر دنیا کے سیکڑوں مذاہب اور ان کی علامات سے کیوں نفرت نہیں دکھائی جاتی؟ خود بدھسٹ ایک خاص رنگ اور طریقے کا لباس پہنتے ہیں جو انہیں قدیم ترین باسی بتلاتا ہے؛ حتی کہ گوتم بدھ کی تعلیمات عام کرنے کی باتیں کی جاتی ہیں جو خود جدید دور میں بے معنی اور بے ثبوت ہیں، آخر کیوں ان پر قدامت اور تشدد کا ٹیگ نہیں لگتا؟ مدارس سے نفرت ہے اور اسلامی مواد انہیں بھیانک لگتے ہیں کہ ہندوازم کی کتابیں، منوسمرتی، بدھوں کی پالی زبان میں لکھی گئی Tripitaka سے کیوں خوف نہیں کھاتے؟ جن سے وہ اتنے متشدد ہورہے ہیں کہ دنیا بھر میں ان کی کارستانیاں مشہور ہیں، چین کی ہٹ دھرمی یا پھر میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کا قتل کرنے کی اجازت وغیرہ آخر کیا ہے؟ کیا دنیا نے نہیں دیکھا کہ بودھ کس قدر خطرناک ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ انہیں صرف اور صرف اسلام کی طاقت، قوت اور اس کی بڑھتی حیثیت سے ڈر لگتا ہے، وہ جانتے ہیں کہ سری لنکا پر ایک تن تنہا شخص نے حکومت کی ہے، انہیں معلوم ہے کہ مسلمانوں کی تعلیمات اور ان کی جہد مسلسل کا اثر جب کبھی نظر آئے گا تو ان کے نام نہاد محل اور قوانین دھرے رہ جائیں گے، ”کلمہ لا الہ“ کی گونج سے ان کے نشیمن خاک ہوسکتے ہیں، خواہشات کی عمارتیں زمین دوز ہوسکتی ہیں، اور اسلام ایک بار پھر انہیں اپنی ماتحتی میں لے سکتا ہے۔
Comments are closed.