ابھی وقت ہے۔
قرۃالعین خالد (سیالکوٹ)
”کرونا وائرس“ کا نام سنتے ہی قلب و ذہن خوف کی لپیٹ میں آجاتے ہیں ابھی یہ خطرہ دنیا سے مکمل طور پر ٹلا نہیں تھا کہ کرونا کی ایک اور لہر دوبارہ آنے کو تیار ہے اور تمام دنیا خوف و ہراس میں مبتلا ہے۔ کس طرح اس چھوٹے سے نہ نظر آنے والے وائرس نے دنیا کے ایک حصّے کو موت کی آغوش میں سلا دیا کہ کسی کو توبہ کی مہلت بھی نہ ملی کہ جب تک بنی نوع انسان اپنی بیماری کو سمجھتا تب تک وہ موت کی آغوش میں جا چکا ہوتا۔ انسان وہ مخلوق ہے جسے ربِ کائنات نے خود بہت محبت سے تخلیق کیا جس کے لیے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا جس کے لیے جنت اور آسائشیں تخلیق کیں اسی انسان کی تعظیم کی خاطر ابلیس کو راندہ قرار دیا۔ یہ وہ ابنِ آدم ہے جس سے ربِ کائنات ستّر ماؤں سے بھر کر محبت کرتا ہے جس کے بارے میں رب نے فرمایا کہ میرے فرماں بردار بندوں کو تو ابلیس راہِ ہدایت سے ہٹا نہ سکے گا یہ وہ ابنِ آدم ہے جسے دنیا میں ان گنت نعمتوں سے نوازا گیا وہ نعمتیں کہ انسان شمار کرنا چاہے تو شمار کر نہ سکے۔ دنیا میں سب سے مضبوط رشتہ خالق و مخلوق کا ہے کیوں کہ اگر مخلوق کو تخلیق نہ کیا جاتا تو آج ہمارا وجود نہ ہوتا۔ اللہ کا احسانِ عظیم جو ہم کو تخلیق کیا ہم کو زندگی بخشی ہمیں مسلمان بنایا ہمیں امتِ محمدی بنایا۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ ہماری جان پہ سب سے پہلا حق بھی ربِ کائنات کا ہے اور آج کا انسان اپنے رب کو ہی فراموش کر بیٹھا دنیا کی رنگینیوں میں ایسا کھویا کہ اپنے مقصدِ حیات کو ہی فراموش کر بیٹھا۔ آج تمام دنیا کرونا سے خوف ذدہ ہے اس کی ویکسین بنانے میں کوشاں ہے مگر انسان یہ بھول گیا ہے کہ جب تک میرا رب نہیں چاہے گا تب تک انسان بھی کامیابی سے ہمکنار نہ ہو گا۔ انسان کی کوششیں رب کی چاہ کے بغیر بیکار ہیں اگر آج ہم اپنی تھوڑی سی طاقت اپنے رب کو منانے میں لگا دیں تو وہ ذاتِ باری تعالٰی جو اپنے بندوں سے ستّر ماؤں سے بڑھ کر محبت کرنے والا ہے اس کے ” کُن ” کہنے سے ”فیکُن“ ہو جانا ہے۔ انسان خود کو بہت صاحبِ عقل و فہم سمجھتا ہے مگر اپنے خالق کی معرفت نہ حاصل کر سکا۔ ربِ کائنات فرماتے ہیں "ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے؛ بھوک سے، خوف سے، مال سے جانوں کے نقصان سے۔“؛ لیکن اس فرمان میں بھی نشانیاں تو صاحبِ عقل وفہم والوں کے لیے ہیں۔ آج ہم رب کی طرف سے آئی آزمائش کو نہیں پہچان سکے کہ آزمائشیں تو آتی ہی ہمارے گناہوں کو دھونے کے لیے ہیں مگر ہم نے اس آزمائش کو اپنے لیے خود سزا بنا لیا ہے۔ کیسے آج کا مسلمان احکام اسلام کی دھجیاں بکھیر رہاہے کیسے وہ شعائر اللہ کا تمسخر اڑا رہا ہے کیسے وہ خواہشاتِ نفس کی خاطر حدود اللہ کو پامال کر رہا ہے کیسے وہ دائرہ اسلام کو اپنے لیے تنگ گردانتا ہے۔ حکمِ ربِ رحمان ہے کہ”نماز قائم کرو”کہاں ہیں آج نمازی؟ مسجدیں ویران اور محافلِ رنگ و بو آباد۔ اللہ کے گھر سونے پڑے ہیں اور بازار عورتوں کی زینتوں سے آباد۔
حکمِ ربی سے انحراف کیا تو پھر کیوں عذابِ الٰہی کا خوف۔نگاہوں کو جھکانے کا حکم رب کعبہ نے صادر فرمایاتو ہر کوئی اپنی نگاہوں پہ اپنا اختیار سمجھ بیٹھا ہے کہ جہاں جی چاہے وہاں ٹکا دیتا ہے ” نماز تمام برائیوں اور بے حیائیوں سے روکتی ہے” ایسا محبوبِ ربِ کائنات نے فرمایا آج ہم برائیوں اور بے حیائیوں کو نہ روک سکے تو قابلِ غور بات یہ ہے کہ ہمیں اپنی نمازوں کی ادائیگی پر نظرِثانی کی ضرورت ہے۔آج کرونا وائرس سے بچنے کے لیے ماسک تو چہرے پر سجا لیے مگر افسوس آج بھی متعدد خواتین کا سر اور جسم نیم برہنہ ہے۔فرمانِ الٰہی ہے”اے مومنو! تم شیطان کے نقشِ قدم کی پیروی نہ کرو اور جو شیطان کے نقشِ قدم کی پیروی کرے گابلاشبہ وہ اسے برائی اور بے حیائی کا حکم دے گا” شیطان، رحمان کے بندوں کا خیر خواہ ہو ہی نہیں سکتا وہ چاہتا ہے کہ جہنم کی گہری کھائی میں ابنِ آدم کو اپنے ساتھ لے ڈوبے۔ خدارا شیطان جو انسان کا ازلی دشمن ہے اپنے دشمن کو پہچانیں اور اپنا راستہ تبدیل کر لیں ابھی وقت ہے ابھی قیامت کی تیز آندھی نہیں چلی ابھی آفتاب نے اپنا راستہ نہیں بدلا اپنے رب کو منالیں اس سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کر لیں وہ رب اپنے بندوں کے لیے بہت مہربان ہے ضرورت اس امرکی ہے کہ ہم اپنے رب کو کیسے راضی کریں۔حکم ربی ہے کہ اے مومن عورتو! اپنی اوڑھنیاں اپنے اوپر ڈال لو افسوس آج کرونا کے خوف نے موت کے ڈر نے ہمیں ماسک پہننے پر تو مجبور کر دیامگر خوفِ الٰہی ہمارے سروں اور جسموں کو نہ ڈھانپ سکا آج موت کے خوف نے ہمیں چہرہ ڈھکنے پر مجبور کر دیا مگر حدود اللہ کی پامالی ہمیں ذرا نہ ڈراسکی آج ہم کرونا کے خوف سے باربار ہاتھ دھوتے ہیں مگر خوفِ الٰہی سے نماز کے لیے وضو کرنا محال ہے ہم نے آج کرونا کے خوف سے سماجی فاصلےقائم کر لیےمگر خوفِ الٰہی کی بنا پر مخلوط نظام زندگی کو نہ چھوڑ سکے۔کیسا ہے آج کا مسلمان ایک نہ نظر آنے والے وائرس سے اتنا خوف زدہ کہ مسجدوں میں جانا چھوڑ دیا مگر زندگی کا اتنا حریص کہ بازاروں میں ہوٹلوں میں سیر گاہوں میں جانا نہ چھوڑا زندگی کا اتنا حریص کہ لاک ڈاؤن میں اشیاءخوردونوش کی ذخیرہ اندوزی سے بھی گریز نہ کیا اللہ پر توکل کی اتنی کمی کہ سوچ وہاں تک پہنچتی ہی نہیں کہ جس رب نےابھی تک عطا کیا ہے آگے بھی وہی عطا کرنے والا ہے۔آج تعلیم وتربیت کے اداروں میں کرونا کا داخلہ ہے اورکھانے پینے کی منڈیوں میں کرونا کا داخلہ منع ہے مجھے حیران کر دیتا ہے جبکہ ” اللہ سے اس کے علم والے بندے ہی ڈرتے ہیں۔” غور طلب بات ہے آج حصول علم کے راستوں میں بیٹھا کرونا تو سب کو نظر آتا ہے مگر پیٹ کی آگ بجھانے کی خاطر منڈیوں میں کرونا غائب ہو جاتا ہے۔آج تعلیمی اداروں میں احتیاطی تدابیر لاگو نہ کرنے پر اداروں کو سیل کر دیاجاتا ہے تو صاحبانِ اقتدار سے گزارش ہے کہ وہ منڈیوں اور بازاروں کا بھی رخ کریں۔بدلتے موسم کے پیشِ نظر کرونا کی دوسری لہر متوقع ہے اوراس نے تیزی سے تعلیمی اداروں کا رخ کر لیا ہے کرونا کو بس میرے وطنِ عزیز کے طلبہ سے دشمنی ہے اور وہ بازاروں اور منڈیوں کو سخت ناپسند کرتا ہے۔ایک بار پھر والدین اپنے بچوں کو تعلیمی اداروں میں نہیں بھیجیں گے مگر ان کو بازاروں میں لے لے کر گھومیں گے سکولز کی چھٹیاں سیرگاہوں میں لطف اندوز ہوتے ہوئے گزریں گی۔کرونا کا خوف تو امتِ مسلماں پر تلوار بن کر لٹکے گا مگر جو ہستی اس وبا پر قابو پانے کی طاقت رکھتی ہے اس کو ہم راضی کرنے میں اپنا وقت کیوں لگائیں۔ کیوں کہ ہم منہ سےتو کہتے ہیں کہ قیامت آنے والی ہے مگر قابلِ غور بات ہے کہ ہم نے قیامت کے لیے کیا تیاری کی ہے آج موت کے ڈر سے گھروں میں چھپ کر بیٹھ جائیں گے تو موت تو تم کو مضبوط قلعوں میں بھی آ دبوچے گی۔پھر کیا کریں گے۔مگر اے ابنِ آدم ابھی وقت ہے کہ ہم اپنے خالق کو راضی کر لیں جتنا خوف اس وبا سے ہے اتنا خوف ہم رب سے کر لیں اور احکام الٰہی کو مان لیں احکام شریعت کو تھام لیں ابھی وقت ہے کہ موت جو برحق ہے اس کے آنے سے پہلے اپنے گناہوں کی معافی طلب کر لیں ابھی درِ رب کھلا ہے توبہ کے طلب گار بن جائیں میرے جسم میری مرضی کو چھوڑ کر میرا خالق اور اس کی مرضی کو جان جائیں ابھی وقت ہے ابھی وقت ہے۔
Comments are closed.