بیچاری لڑکی
از قلم :مخدومہ کرن
وہ مانتی تھی کہ روپیہ پیسہ کچھ بھی نہیں ہے۔ رشتے ، دوست ، محبت پیسے سے نہیں خریدے جا سکتے۔
ہاں مگر !
پھر ایک وقت آیا ۔
اور وقت نے اس "بیچاری لڑکی” کو یہی سمجھایا” پیسہ سب کچھ نہیں ہے پیاری، پر پیسہ ہی سب کچھ ہے ،
” تمہارے ہاتھ میں اگر نوٹووں کی گڈی ہے ناں تو دنیا کا ہر قانون تمہارا ہے ، یہ لوگ تمہارے ہیں، دوست تمہارے ہیں۔
"اس دنیا میں سب سے بڑی اور تلخ حقیقت پیسہ ہی تو ہے۔۔۔”
پھر اس نے اپنے خاندان کی روایات کو توڑا ، خود کو غربت کی بھٹی سے نکالنے کی لیے دن رات محنت کی۔
خود کی پرواہ کیے بغیر اس نے ہر وہ کام کیا جو عزت کے ساتھ ساتھ اسے اور اس کے گھر والوں کے لیے دو وقت کی روٹی بھی لائے۔۔
جس وقت میں لوگ اپنی بچیوں کی لئیے گڑیا خرید کر لاتے ہیں اس وقت میں اس” بیچاری لڑکی” نے اپنے بیمار باپ ، غربت سے لڑتی ماں، سات سالہ بہن اور دو سالہ بھائی کے اخراجات اٹھا کر خود کو ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دبا کر گھر کا سربراہ سمجھ لیا۔۔
"ایسا سربراہ کی جس کی عمر نے اسے وقت سے پہلے اپنی عمر سے کئی گنا بڑا اور سمجھوتوں کے تحت زندگی گزارنے والا بنا دیا ”
” ایسا سربراہ کہ جس کے نرم ہاتھوں کی زخمی پوریں رات گئے درد کے باعث اسے سونے نہیں دیتی تھیں”
صدموں کا بوجھ لیے زندگی گزرتی جا رہی تھی۔
یونہی اسے اک خیال سجھائی دیا۔
"اگر مجھ کو یہ روزی روٹی کے مسائل درپیش نہ ہوتے تو میں فقط شاعرہ ہوتی ،، زندگی کے ہر ہر نقش پر اک اک دہائی میں اس پر کتاب لکھتی!”
اب گر لکھا بھی تو فقط درد لکھوں گی ، ضبط لکھوں گی، خوابوں کو بھلانے کا ہنر ڈھونڈتی بنجارن کی بیچارگی لکھوں گی ،
لکھوں گی کہ سر پہ سایہ نہ ہو تو بےسر و سامانی کیسی ہے؟؟
لکھوں گی کہ” ہمہ وقت مسکراہٹ چہرے پہ سجائے ہر ایک کی بات کو سننے والی، سب کے دکھوں میں کندھے سے کندھا ملائے پیش پیش،” پر جب بھی کبھی اس "بیچاری لڑکی” پہ مشکل آئی اس نے ہمیشہ خود کو تنہا پایا ”
"خدا و ماں کی محبت کے باوجود وہ چاہتی تھی کہ اس کہ محبوب چہرے بھی اسے محبت بخشیں ”
وہ چاہتی تھی اس پوری کائنات میں کوئی ایک وجود تو ایسا ہو نا جو اس کے دکھ میں اسے تسلی کے دو جملے کہے کہ وہ خود کو "بیچاری” نہ سمجھے۔
ہائے کاش! کہ ایسا ممکن ہوتا۔۔
ارے نہیں نہیں ایسا بھی نہیں کہ وہ بلکل تن تنہا ہے ۔ اس کے ارد گرد بے شمار لوگ ہیں جو اسے جانتے ہیں ، پہچانتے ہیں
بہت سے دوست ہیں جن کے سنگ وہ قہقہے لگاتی ہے۔ بہت سے ایسے ہیں جن کو ایسے وقت میں اس نے سہارا دیا جب ان کے اپنوں نے بھی انکا ساتھ چھوڑ دیا تھا اور وقت آنے پر انہوں نے اس” بیچاری لڑکی” سے ایسے دامن جھاڑا کہ جیسے وہ کوئی بوجھ ہو۔۔
ایسے میں وہ کیسے کسی پر اعتبار کر پائے؟
اس اکیلے پن نے اس "بیچاری لڑکی” کو ذہنی مریض بنا ڈالا تھا۔
2020 کی اک شام یونہی اس کے ہاتھ میں موجود قلم نے بے ربط جملے لکھے ۔
جملے عبارتوں میں تبدیل ہونے لگے۔
وہ سمجھی تھی کہ”” شاید برسوں پہلے دیکھا گیا خواب حقیقت کا روپ دھارنے کو یہیں کہیں موجود ہے” سو وہ دل کو جھکائے اک بار پھر سے خوابوں کے نگر کو چل پڑی یہ سوچے سمجھے بغیر کہ جن خوابوں نے پہلے اسے زخمی کیا اب کی بار کیسے ممکن ہے کہ اسے خواب نگر جانے کا ہرجانہ نہ بھرنا پڑے۔۔”
اپریل 2020 سے فروری 2021 تک کا یہ سفر ایسا تھا کہ وجود کے ساتھ ساتھ اس کی روح تک زخمی ہوئی۔۔
پڑھنے والوں نے خوب سراہا
مگر اس کا دل تھا کہ بجھتا چلا گیا۔
پھر آخر ایک دن فروری کی اک ڈھلتی ہوئی سرمئ شام کے ساتھ ہی اس” بیچاری لڑکی "نے قلم توڑ کے کچرے کے ڈبے کی نظر کر ڈالا کہیں کوئی اس کو پڑھتے پڑھتے اس کے ٹوٹے خوابوں کی کرچیاں چنتے چنتے اس کے بجھے دل کے کواڑوں کو کھولنے کی ضد نہ کرے ۔۔
وہ سمجھتی ہے کہ اب کی بار اگر وہ بکھری تو مر کر بھی سنبھل نہ پائے گی۔۔
ہائے وہ بیچاری لڑکی!!!
Comments are closed.