ایک انمول تحفہ زندگی’
سارہ یوسف زئی حیدرآباد
زندگی اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے دیا ہوا دلکش تحفہ ہے۔ ایک تخلیق کار زندگی کو جتنے زاویوں اور جتنی صورتوں میں دیکھتا ہے وہ ایک عام شخص کے دائرے سے باہر ہوتا ہے۔ زندگی حسن اور بد صورتی کا ایک گہرا امتزاج ہے، زندگی اتنی سادہ نہیں جتنی بظاہر نظر آتی ہے، اس میں بہت پیچ ہیں اور اس کے رنگ بہت متضاد ہیں، وہ بہت ہمدرد بھی ہے اور اپنی بعض صورتوں میں بہت سفاک بھی۔ ہر دکھ، ہر عذاب کے بعد زندگی آدمی پر اپنا ایک راز کھول دیتی ہے۔
زندگی ایک دوڑ ہے جس میں ہر شخص اپنی اپنی صلاحیت، اپنی اپنی قسمت، اور اپنی اپنی خواہش کی رفتار سے بھاگ رہا ہے۔ ہمیں ملنے والی محبتیں، شفقتیں، راستے میں آنے والے سنگِ میل اور حوصلہ افزائی کرتے مہربان اجنبیوں کی طرح ہوتی ہیں۔ ایک پل کا ساتھ نئی توانائی دے جاتا ہے اور ہم پھر رواں دواں ہو جاتے ہیں۔ زندگی کے لیے زندہ رہنے کی خواہش بنیادی شرط ہے۔ جب زندگی سے مزید کچھ پانے کی طلب نہ رہے اور کھونے کا خوف ختم ہو جائے تو زندگی اور زندہ رہنے کی تمام کشمکش قرار پا جاتی ہے۔ ہماری مایوسی کی انتہا بس یہی ہوتی ہے کہ روتے ہوئے آنا اگر زندگی کا پہلا احساس ہے تو تقدیر سے لڑتے چلے جانا زندگی کے آخری سانس کی داستان ہے۔ ساری عمر زندگی سے دست وگریباں تو رہتے ہیں لیکن پھر بھی اسے چھوڑنا نہیں چاہتے۔ ہم ہمیشہ جینے کی خواہش رکھتے ہیں۔
ہمیں اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزارنے کا موقع کبھی نہیں ملتا۔ ہماری زندگی ہمارے ساتھ جڑے رشتوں کے حصار میں اور ان کے رنگ میں رنگتی گزر جاتی ہے۔ ہم اپنے آپ کو تسلی دینے کے لیے تقدیر کا لکھا کہتے ہوئے گزار دیتے ہیں۔ زندگی کی آخری سانس تک انسان خوب سے خوب تر کی تلاش کے سفر پر گامزن رہتا ہے اور اِسے ایک کامیاب زندگی کا فلسفہ بھی کہتا ہے کہ زندگی ٹھہرنے کا نام نہیں بلکہ آگے بڑھنے اور ترقی کرتے رہنے سے ہی مکمل ہوتی ہے۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم زندگی کی حقیقت جانتے تو ہیں لیکن دانستہ حقیقت سے نظریں چرا لیتے ہیں زندگی کی حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیتے ہیں لیکن حقیقت تو حقیقت ہے جب سامنے آتی ہے تو پھر انسان حیران و پریشان ہو جاتا ہے اگر ہم اپنے اندر حقیقت کو جاننے کے ساتھ ساتھ ماننے کا ظرف بھی پیدا کر لیں اور زندگی کی حقیقت سے نظریں نہ چرائیں تو پھر ہر قسم کے حقائق کا بڑی بہادری سے سامنا کر سکتے ہیں۔ دُنیا میں زندگی کی حقیقت یہ ہے کہ وہ بے وفا ہے، ساری دُنیا کے لوگوں کو دھوکہ دے چُکی ہے اور نہ جانے کون سے راستے پر ہماری زندگی آہستہ ہو جائے اور موت ہم تک پہنچ جائے۔ اس سے پہلے یہ حقیقت ہم تک پہنچے ہمیں چاہیے کہ اپنی اصل زندگی یعنی موت کے بعد کی زندگی کے لیے کچھ ایسا کرلیں جس سے ہم اپنے رب کے سامنے سرخرو ہو سکیں۔ جس نے ہمیں زندگی جیسے قیمتی تحفے سے نوازا ہے۔
اکثر مسلمان دنیا کی محبت میں اندھے ہو چکے ہیں اور دنیا کی آسائشوں کے بدلے جہنم کے عذاب کا سودا کر چکے ہیں اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ اصل کامیابی دنیا کی دولت اور شہرت ہے۔ دنیا کی محبت نے اکثریت کو آخرت سے بے خبر اور بے پروا کر رکھا ہے۔ دنیا کی حقیقت اس وقت سمجھ آتی ہے جب فرشتے روح قبض کرنے آتے ہیں اور آخرت سے غافل انسان خوف سے چیختا ہے اے میرے رب! ہم سب کو توفیق عطا فرما کہ ہم اس فانی دنیا کی رنگینیوں میں اپنی آخرت کی زندگی کے لیے اور اپنی بخشش کے لیے کام کریں۔ (آمین)
Comments are closed.