حالات کا مقابلہ کرنے کی طاقت پیدا کریں!

آسیہ صدیقی
گزشتہ روز ایک ہندو لیڈر سواتی نرسمہا نند کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں اس نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ ہم جلد ہی ایک سبھا منعقد کریں گے جس میں مسلمانوں کے علاوہ تمام مذاہب کے لوگ شریک ہوں گے اس سبھا میں مسلمانوں کے حوالے سے ٹھوس لائحہ عمل بنایا جائے گا تاکہ انہیں ہندوستان سے جلد از جلد نکال باہر کیا جاسکے۔ اس کے دو ہفتے بعد ہی اسی پجاری کے غازی آباد نواحی علاقہ میں موجود مندر جس کے صدر دروازے پر یہ لکھا ہوا ہے کہ یہاں مسلمانوں کا داخلہ ممنوع ہے، اسی مندر میں ایک نابالغ مسلم نوجوان پیاس کی شدت سے مجبور ہوکر اور یہ قیاس کرتے ہوئے کہ پانی تو نعمت خداوندی ہے اس کا تو کوئی مذہب نہیں ہوتا جاکر پانی پی لیتا ہے۔ پانی پی کر جیسے ہی باہر آتا ہے اچانک ایک نوجوان جو کہ بھوپال کے ایک کالج سے بی ٹیک انجینئرنگ پاس کیا ہوا پڑھا لکھا جاہل اور انسانیت سے عاری نوجوان نام پوچھتا ہے جیسے ہی وہ اپنا نام آصف بتاتا ہے اس کے غصے کی انتہا ہوجاتی ہے، ماں بہن کی گالی کے ساتھ اس معصوم کو زدوکوب کرنا شروع کردیتا ہے۔ جس کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولس کارروائی کرتی ہے، اس حوالے سے سوشل میڈیا پر دو طرح کی آراء پائی جاتی ہیں ایک تو ظالم کی حمایت میں حسب روایت ہے دوسرے چنندہ انصاف پسندوں کا ٹولہ ہے جو مظلوم کی حمایت میں ہے، لیکن جو ظالم کی حمایت میں ہیں وہ بے خوف ہیں اور دھڑلے سے اس ظالم کا ساتھ دے رہے ہیں جس میں ہندو سماج کے تمام مکتبۂ فکر کے افراد شامل ہیں۔ یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں نے کہیں اور کسی بھی مسجد یا مدرسہ یا مکتب پر یہ اعلان نہیں لگایا ہے کہ یہاں ہندوں کا داخلہ ممنوع ہے البتہ یہ اعلان ضرور ہوگا کہ یہاں دیوبندیوں کا داخلہ یے، بریلویوں کا ممنوع ہے، وہابیوں کا ممنوع ہے، شیعوں کا ممنوع ہے؛ سنیوں کا ممنوع ہے۔ ہماری اسی نااتفاقی کا فائدہ اٹھاکر انہوں نے ہمارا ناطقہ بند کردیا ہے لیکن اب بھی ہمیں شعور نہیں آیا ہم اب بھی آپس میں لڑ جھگڑ رہے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ اسلام ظلم کا سبق نہیں دیتا وہ محبت، امن، رواداری کا مذہب ہے، برعکس ان لوگوں کے جو اسلام کو دہشت گردی سے جوڑ کر اپنے ناپاک عزائم کو پورا کرنے میں مصروف ہیں، روز دہشت گردی اور فرقہ پرستی میں ملوث ہیں۔
ہم یہاں حکومت سے یہ بھی مطالبہ نہیں کرسکتے کہ سوامی کو گرفتار کیا جائے؛ کیونکہ اس حکومت میں کئی ایسے سوامی اور سادھوی ہیں جن پر دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے ہاں ہم یہ ضرور کرسکتے ہیں کہ ہم متحد ہوکر ان فرقہ پرستوں کا مقابلہ کریں، حالات انتہائی سنگین ہیں، اس لے سنجیدگی سے کام لیتے ہوئے مستقبل کے ہندوستان کا فیصلہ کرنے کا وقت آگیا ہے، ہم ہرگز ظلم کی حمایت نہیں کریں گے اور نہ ہی خاموش رہ کر ظالم کا ساتھ دیں گے؛ لیکن جو ہم پر ظلم کرے گا اتنی قوت تو پیدا کرنی ہوگی کہ ہم اس ظالم کا ہاتھ مروڑ کر اپنی نسل کو فخر سے جینے کاموقع دیں جس طرح ہمارے اسلاف نے ہمیں انگریزوں سے لڑ کر دیا ہے۔

Comments are closed.