"دنیا کی خوبصورتی ہے عورت”

ازقلم، آمنہ جبیں
سوچ پرواز کر رہی ہے کہ کچھ لکھوں مگر دل اجازت نہیں دے رہا کہ اس ہستی پہ کیا لکھوں جس کا نام عورت ہے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا تھا نہ
وجودِ زن سے ہے تصویر ِ کائنات میں رنگ
❤️❤️❤️❤️
اس شعر کے اندر ایک عورت کی مکمل تعریف اور اہمیت چھپی ہوئی ہے۔ عورت بیشک اس دنیا کا حسن ہے اس دنیا کی رنگینی کا باعث ہے
ہم کسی بھی موضوع پہ بات کرتے ہیں تو اس کے تاریک اور روشن پہلوئوں کو دونوں کو زیر بحث لاتے ہیں۔ مگر میں عورت کے صرف مثبت پہلوؤں کی بات کروں گی کیونکہ یہ مثبت پہلو پڑھ کر عورت کو اپنی پہچان ہو گی اور وہ خود بخود اپنی درستگی کی طرف مائل ہو سکتی ہے۔
رنگِ سرخیاں
رنگِ حنا
رنگِ جہاں
رنگِ وفا
کا نام ہے عورت
عورت کا مطلب ” پردہ” چھپنے کی چیز مطلب کیا ہوا عورت ” نایاب” ہے۔ عام چیزوں کو ڈھک سنبھال کر کون رکھتا ہے۔ نایاب چیزیں ہی چھپی ہوتی ہیں۔ دنیا کی نایاب ترین چیز عورت ہے۔ تبی اسے چھپنے کا حکم ہے۔ جیسے صحرا میں ایک پھول کھلتا ہے تو نظریں سکون پاتی ہیں اسی طرح اس صحرائےِ دنیا میں عورت ایک مہکتے پھول کی مانند ہے۔
عورت کے بہت سے روپ ہیں۔ پہلا اور عظیم روپ "ماں” جو مٹھاس والا لفظ ہے جسے بولتے ہی لب مٹھاس پکڑنے لگتے ہیں۔
عورت کا ایک روپ ہے ” بیٹی” جو عزتوں کا جہاں اور فخرِ لامکاں ہے۔
عورت کا خوبصورت ترین روپ ” بیوی” ہے جو مسکن ہے اُڑتی تتلیوں کا جو مسکن ہے خوشیوں اور خوشبوؤں کے جام کا،
عورت کا ایک روپ ” بہن” ہے جو سراپا احساس اور سراپا شفقت ہے۔
عورت کا ہر روپ کمال اور عظیم تر ہے
عورت کا دن یہ بس 8 مارچ نہیں ہر دن عورت کا دن ہے۔ کیونکہ جہاں میں عورت کا ماں جیسا کوئی روپ نہیں ماں نہ ہوتی تو عورت کے دوسرے روپ جنم نہ لیتے ماں ہر روز جب اپنے پھولوں ( بچوں) کو سینچتی ہے۔ تو اس کے لیے ایک دن کیوں؟ بیوی روز فرائض کی ادائیگی کرتی ہے اس کے اعزاز میں ایک دن کیوں؟ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ ہم عورت کے لیے ایک دن مخصوص کر کے روز روز کے بخشے جانے والے اعزاز سے جان چھڑاتے ہیں۔ہر دن ہی عورت کا ہے ہر دن ماں، بیوی ، بیٹی ، بہن کا ہے
زمانے کا ہر انسان یہ مانتا ہے۔ کہ عورت نازک ہے۔ اور اگر سمجھتے ہیں کہ عورت نازک ہے تو پھر نازک چیزوں کو تو بڑے پیار دھیان اور مضبوطی سے تھامنا پڑتا ہے۔ جی ہاں؛ یہ ہمت اور یہ سراہنے کا عمل آٹھ مارچ کو نہیں ہر دن عورت کی ضرورت ہے ہر روپ میں ہی ضرورت ہے۔ ہر روز ماں بچوں کا پیار چاہتی ہے۔ ہر روز بیٹی والدین کا دستِ شفقت چاہتی ہے۔ ہر روز بیوی محبت کا انبار چاہتی ہے۔ نازک چیزوں کو روز ہی مضبوطی سے سراہنا پڑتا ہے۔اس لیے ہر دن ہی عورت کا دن ہے
عورت کو نازک بنایا گیا ہے۔ اس کا مطلب کیا ہے۔ آج ہم عورت کی مضبوطی کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔ لیکن عورت کو نازک کیوں کہا گیا ہے۔ عورت پسلی سے بنی اور یہ بات پھر واضح کی گئی کہ اسے پیار سے رکھو گے تو ہی سہی رہے گی۔ جب نازکی پہلے بتا دی گئی تو پھر آج کی عورت کو مضبوط بننے کی ترغیب کیوں دی جاتی ہے۔ میں خود کہتی ہوں کہ عورت مضبوط بنے ۔ عورت کی نازکی سے مراد وہ بنیاد ہے جو سمجھائی گئی ہے۔ وہ بنیاد ہے محبت
Love is pillar to strengthen the women
عورت نازک ہے اور یہی اس کی خوبصورتی بھی ہے مگر عورت مضبوط بھی ہے ہے سب سے زیادہ آنسو بھی عورت بہاتی ہے سب سے زیادہ صابر بھی عورت ہے کیسے؟ میں بتاتی ہوں۔
اگر کوئی عورت بیوہ ہو جائے تو زمانے کی نظریں اسے کھاتی ہیں۔ اسے دوسری شادی کے لیے چپ رہنا پڑتا ہے۔ کبھی بچوں کی خاطر تو کبھی زمانے کی خاطر بقیا زندگی بیوگی میں گزار دیتی ہے۔ کئی آہوں کو پیتی ہے۔ یہ عورت کی مضبوطی ہی ہے اور مرد کو دیکھا جائے تو وہ کبھی بھی عمر بھر بیوی کے مرنے کے بعد اکیلا نہیں رہے گا مہینوں بعد سالوں بعد وہ اپنی زندگی پھر سے بسا لیتا ہے۔ زمانے اور لوگوں کی طرف سے بغیر کسی دباؤ کے، عورت کو دبایا جاتا ہے اور اسی دباؤ کی وجہ سے وہ عمر بھر بیوہ ہی رہتی ہے۔
ماں دکھوں کی چَکی میں پِستی ہے مگر گھر نہیں چھوڑتی بچے نہیں چھوڑتی ہر مشکل سے لڑ لیتی ہے۔ مگر صبر کا برداشت کا پیکر بن کر رہتی ہے۔ اپنی زندگی کی پرواہ کیے بغیر ہر دکھ برداشت کرتی ہے۔ یہ کیا ہے یہ عورت کی مضبوطی ہی تو ہے اس کا صبر ہمت ہی تو ہے۔ جی ہاں؛ عورت جتنی نازک ہے اس سے کہیں زیادہ مضبوط بھی ہے عورت کے اندر بیک وقت مضبوطی اور نازکی کا مادہ پیوست ہے۔ اکثر عورتیں مردوں کا روپ دھارتی ہیں انہیں شوق ہوتا ہے۔ لیکن وہ کبھی آنکھوں کو بھلی نہیں لگتیں کیونکہ وہ جو ہے اس سے منافی بننا چاہ رہی ہوتی ہے۔ عورت کے اندر نرم ونازکی کا جو مادہ ہے اسے عورت برا نہ سمجھو یہی نازکی عورت کی طاقت اور خوبصورتی ہے۔
عورت نازک ہے تبی چھپی اچھی لگتی ہے۔ بے حیائی پھیلانے والی عورت نعوذباللہ غنڈوں کی مشابہت اختیار کرتی لگتی ہیں۔ اللّٰہ نے آدم کو تخلیق کیا تو ان کے اکیلے پن کو عورت کی تخلیق سے دور کیا۔ عورت کو ضرورت کے تحت پیدا کیا گیا تبی تو بعد میں تخلیق کی گئی اور اسی لیے عورت حسنِ جہاں ہے۔ آج ہم کہتے ہیں کہ عورت باہر نہیں نکلے کام نہیں کرے تو یہاں پر میں ایک بات کرتی ہوں جو بہت اہم ہے
” دائرۂِ پابندی”
دائرہ پابندی اسلام کا دائرہ ہے جس کے اندر کھڑی ہو کر عورت ہر کام کر سکتی ہے۔ آسماں کی بلندیوں کو چھو سکتی ہے۔ اپنے خواب دیکھ اور پورے کر سکتی ہے۔ گھر سے نکل کر کما سکتی ہے۔لیکن ہمارے نبی صلی اللہ ھو علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد بھی یہاں بیاں کرتی چلوں
نبی صلی اللہ ھو علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ
"عورت چھپا کر رکھنے کی چیز ہے۔ بلاشبہ جب عورت گھر سے باہر نکلتی ہے تو شیطان اسے غیر مردوں کے سامنے مزین کر کے دکھاتا ہے۔ اور یہ یقینی بات ہے کہ عورت سب سے زیادہ اللّٰہ کے قریب تب ہے جب وہ اپنے گھر کے اندر ہوتی ہے” (المعجم الکبیر للطبرانی:10115 وصححہ البانی)
مطلب عورت کا گھر رہنا زیادہ سود مند اور فضیلت کا کام ہے۔ مسلئہ یہ ہے کہ آج کی عورت پڑھ لکھ کر گھر میں رہنا معیوب سمجھتی ہے وہ آزادی چاہتی ہے۔
جب کہ ایک عورت کا سب سے افضل کام گھر میں ہے۔ وہ ہے بچوں کی پرورش اپنے گھر کی سلیقہ بندی، اپنے گھر کی خوبصورتی آج گھر بکھرے پڑے ہیں اور عورت کام کر رہی ہے۔ آفیسز میں فیکٹریوں میں بلندیوں تک بھی پہنچ رہی مگر گھر آگ میں جھونک گئی ہے۔ اگر ایک عورت اپنے بچوں کی تربیت کو اپنا خواب بنا لے تو وہ یہ نہ سمجھے کہ اس کی زندگی بے مقصد ہے۔ نہیں عورت کی زندگی کا سب سے اہم فضیلت والا مقصد اولاد کی اچھی تربیت ہے۔ کیونکہ اگر ایک عورت اچھے سے دو بچوں کی تربیت کر دے گی تو وہ دو اچھے معاشرے بنا دے گی۔ جب وہ بچے بڑے ہوں گے تو اپنی تربیت سے مزید مثبت سوسائٹیز ( معاشرے) قائم کریں گے۔ تب قوم اور ملک ترقی پکڑے گا۔ مگر آج عورت پہ مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کی جو دھن سوار ہے اس نے اس سے یہ جذبہ چھین لیا ہے
کہ وہ اولاد کی بہترین تربیت کر سکے۔ نپولین نے ایسے ہی تو نہیں کہا تھا کہ
” تم مجھے تربیت یافتہ مائیں دے دو میں تمیں تربیت یافتہ قوم دے دوں گا”
مگر آج تو عورت پڑھی لکھی ہے پھر بھی قوم پیچھے ہے کیونکہ آج کی عورت خود بھی تربیت سے دور تھی اس لیے وہ آگے بھی تربیت نہیں کر پا رہی ہے۔ آج کا نوجوان جو بے حیائی اور برے حالات کا شکار ہے۔ اس میں ایک قصور تربیت کی کمی ہے اور تربیت کی کمی کی وجہ ماں کی لاعلمی اور عیاشی بھی ہے۔ جو عورت اپنے گھر کو خوش اسلوبی سے نہیں چلا سکتی وہ قوم کی ترقی میں کردار ادا کرنے کے لیے کیا کوشش کر سکتی ہے کامیاب عورت وہ نہیں جو گھر سے نکلتی ہے مردوں کے شانہ بشانہ اکٹر کر چلتی ہے۔
بلکہ کامیاب عورت وہ ہے جو اپنے گھر کے نظام اور اولاد کی تربیت میں شوہر کے ساتھ خوش اسلوبی سے چلنے میں اعلیٰ وعرفہ ہے وہی سب سے کامیاب عورت ہے۔اج ٹی وی پہ اخبارات پی ہر جگہ عورت کو کچھ کرنے باہر نکلنے پائلیٹ بننے ڈاکٹر بننے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ بےشک یہ چیزیں معیوب نہیں لیکن عورت کو اس کے گھر کی طرف توجہ دلائیں ایک آنگن عورت کی کوشش اور خوبصورت انتظام سے پروان چڑھتا ہے۔ ہر عورت اپنے گھر میں اپنا اچھا اور مثبت کردار ادا کرے تو یہ قوم کے لیے اور اس معاشرے کی بہتری کے لیے عورت کی طرف سے فراہم کردہ سب سے اہم تحفہ ہو گا۔ آج کی لڑکیاں بھی خوابوں کے ٹوٹنے سے کچھ بڑا نہ کرنے سے اور لمبی اڑان نہ بھرنے سے پریشان ہے۔ لیکن میں اس ہر عورت سے کہتی ہوں ہر لڑکی سے کہتی ہوں
کہ تمہارا اپنے آپ کو منوانے کا سب سے اہم طریقہ ایک خوبصورت گھر کی تخلیق ہے۔ تربیت یافتہ اولاد اس معاشرے کو دینا اور خود تربیت یافتہ ہونے کے لیے کوشش کرنا ہی تمہاری خود کو منوانے کی طاقت ہے۔ اپنے آپ کو گھر میں قید نہ سمجھو گھر میں تم سب سے اچھی اور محفوظ ہو۔ تم اس معاشرے کے لیے اپنے حقوق پورا کرنا تو چاہتی ہو مگر اپنے گھریلو حقوق سے غفلت برتنے کی طرف جا رہی ہو۔ پہلے گھریلو حقوق اور فرائض پورے کرو پہلے گھر کو خوبصورت بناؤ پہلے اپنے گھر کو جوڑو پھر معاشرے کے لیے کچھ کرنے کو اٹھو پھر اگلے قدم کا سوچو کیونکہ تم وہ صنفِ نازک ہو جس پہ معاشرے کا ستون کھڑا ہے تمہاری ہاتھ سے نکلنے والی تربیت یافتہ شمعیں ہی اس قوم کا روشن مستقبل بن سکتی ہیں
اس معاشرے کو خوبصورت تربیت یافتہ نسل دینے کے لیے خود کو تیار کرو۔ خود می تعمیر کرو وہ نسل جو کئی معاشرے بنائے گی کئی اور معتبر نسلیں جنم دے گی۔ کیونکہ یہی تمہارا اصل فرض ہے اور یہی تمہاری اصل خوبصورتی ہے۔
Comments are closed.