اکابر پرستی کا جنون صحیح نہیں –
محمد صابر حسین ندوی
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
عصر حاضر میں مسلمانوں کے ساتھ ایک بڑی پریشانی یہ بھی ہے کہ انہوں نے غورو خوض کا مادہ کھودیا، تدبر اور فکر کی صلاحیت ختم سی ہوگئی، کسی بھی چیز میں انہماک سے کام لینا، تحقیق و تفتیش کرنا اور جدید پیرائے میں چھان پھٹک کرنا وہ گویا بھول گئے ہیں، اپنے دماغ کو ایک نیا زاویہ دینا، ترقی یافتہ دور کی نئی نئی ایجادات سے استفادہ کرنا اور ان سے ایک نئی راہ بنانا گویا آتا ہی نہیں، پڑھے لکھے اور ذہین ترین اشخاص کا حال یہ ہے کہ وہ ہمیشہ کسی پرانی لکیر پر ہی لکیر پھیرنا چاہتے ہیں، قدامت پرستی کا الزام اگرچہ کلیتاً درست نہیں؛ لیکن اس سے انکار کرنا بھی محال ہے، عقیدہ و رسالت کی بات نہیں ہے؛ بلکہ ان احوال و اقوال اور پیرائے فکر کی بات کی جارہی ہے جنہیں کبھی کسی زمانے میں مصلحتاً، ثقافتاً اور تہذیبی زندگی کے طور پر اختیار کیا گیا تھا، یا پھر اسلام کی بلندی، اسلامی سلطنت و سطوت اور پرچم ہلالی کی سرخروئی کے زمانے میں اپنایا گیا تھا، انہیں بھی اقلیتی، جمہوری اور سامراجیت (معنوی و حقیقی معنوں میں بھی) کے دور میں اپنانے پر نہ صرف ضد کی جاتی ہے؛ بلکہ عصبیت اور تشدد سے کام لیا جاتا ہے، اجتہادی صلاحیت اب عنقا سمجھی جاتی ہے، بَس کچھ خاندانوں اور علمی رسوخ رکھنے والے اصحاب کو چھوڑ دیا جائے تو دین کی تشریح کرنے والے سبھی خطا پر ہیں، حیرت ہوتی ہے کہ قرآن و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اجماع و قیاس کو حجیت ماننے والی یہ امت اب نہ جانے کن خیالوں میں گم ہے، ایسا لگتا ہے کہ وہ صرف عامیانہ اقتدا کو ہی ترجیح دیتے ہیں، یہ سچ ہے کہ گزشتہ ائمہ کی خدمات ناقابل فراموش ہیں، ان سے استفادہ ناگزیر ہے، مگر انہیں کی حد تک فہم و فراست کو مقید کردینا تو ظلم ہے، یہی وجہ ہے کہ اب اس امت کے لئے مستند ذرائع میں سے ایک اکابرین کا قول و فعل ہی بطور دلیل کافی ہے، یہ ضروری نہیں کہ ان اکابرین کا تعلق ماضی سے ہی ہو بلکہ یہ بھی کافی ہے کہ وہ اس دور میں اپنی خاص حیثیت رکھتے ہوں، حیران کن امر یہ ہے کہ اسے دلیل کہتے ہوئے ان کی زبانیں گنگ نہیں ہوتیں، ان کا دل نہیں کانپتا، وہ قرآن و حدیث پر جبر کرتے ہوئے اپنے ایمان کی بھی پرواہ نہیں کرتے، ان کا قلم رُکتا نہیں اور ناہی ان کی بحثیں ختم ہوتی ہیں، یہ ایک ایسا جال ہے جس میں پوری قوم؛ بالخصوص ہندوستانی مسلمان کلی طور پر نہ سہی مگر عمومی طور پر ملوث ہے، تحقیقی کتابوں میں اکابرین کی باتیں، مجلسوں اور صبح و شام کی بیٹھکوں میں اکابرین کے ہی چرچے___ خدا جانے یہ جمود اور یہ تعطل کس فکر کی دَین ہے؟ اور اس سے اکیسویں صدی کے چیلنجز کا کیسے سامنا کیا جائے گا؟ نہ جانے کس نے یہ علم کُش نظریہ پیش کیا؟ اکیسویں صدی سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی اور نیرنگ عروج کیلئے جانی جاتی ہے، اس کا ہر رنگ مختلف اور سنہرا ہے، اس صدی کا عیب بھی اب ہنر اور کمال ہے، نیز عروج کے اس عالم میں بھی ان سب شعبہ ہائے جات پر پورا یوروپ اور غیر مسلم قوموں نے زور لگا رکھا ہے؛ لیکن جس امت نے دنیا کو تعلیم سے روشناس کرایا، جس سے عالم انسانی نے جانا کہ تعلم و تادیب انسان کی بنیادی ضرورت اور اس کا حق اصلی ہے، وہ اب بے بودہ اقوال اور تقدس کے ہالہ میں قید ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر اس وقت ہمارے نوجوان، نئی نسل بیدار مغزی کا بھی مظاہرہ کریں اور اپنے اکابرین کی غلط روش، فکر، اقدام اور عملی تحریک پر نقد و تبصرہ کردیں تو بھی زہر بن جاتا ہے، اعلی سند کے مالکان بھی ذہنی توازن کھو بیٹھتے ہیں اور حق و ناحق کا موازنہ کرنے کے بجائے صاحب قلم کی حوصلہ شکنی شروع کر دیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اسلامی علوم، دینی خدمات اور ملی قیادت چند مٹھیوں میں سمٹ کر رہ گئی ہے، ایک طرف ملک میں جہاں ہر روز نئی تبدیلیاں اور پالیسیاں متعارف ہورہی ہیں اور اسلام و مسلمانوں کو آخری مقتل کی طرف دھکیلا جارہا ہے، وہاں محض چند آوازیں (وہ بھی شکستہ اور مرجھائی ہوئی) ہی رہ گئی ہیں، جس نئی نسل کو قوم کا مستقبل کھڑا کرنا تھا وہ خود انہیں کمزور سہاروں پر تکیہ کیے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں، یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ کسی کی تحریک و تجدید اور ہر وہ عمل جس سے انسانی زندگی نے فائدہ اٹھایا وہ قابل تحسین ہے، اور بہت حد تک نمونہ بھی ہے، ان کی اچھی باتیں قبول کرنی چاہیے، ان کے ساتھ ادب کا مظاہرہ، حسن سلوک اور بہتر رویہ رکھنا چاہیے، تعصب سے دور انہیں سراہنا بھی چاہیے؛ لیکن پرستش کرنے لگ جانا، انہیں سر آنکھوں پر بٹھا کر ان کی پوری نسل کو تقدس کا جامہ پہنا دینا، اور ان کے علاوہ سبھوں کی صلاحیتوں پر سوالیہ نشان لگا کر علم و تحقیق کا جنازہ نکال دینا درست نہیں، ہندوستان کی عمومی تحریکیں اور اداروں پر غور کیجیے! یہ مرض کینسر بن کر ان پر مسلط ہے، اچھی اچھی صلاحیتیں ضائع ہورہی ہیں، پرستش کی حد تک شخصیتوں کو پوجا (معنوی طور پر) جارہا ہے، نئی کونپلیں نکلتی ہی نہیں کہ انہیں قدیم شاخوں کی آڑ ختم کردیتی ہے، یہ دینی تحریکات کو گھن کی طرح چاٹ رہا ہے، امت کی میراث ضائع ہورہی ہے، قرآن کریم نے تو ان سے کہا تھا:کہ جب ان کے سامنے اپنے رب کی آیتیں اور نشانیوں کا تذکرہ کیا جاتا ہے تو وہ اندھے اور بہرے ہو کر ان پر نہیں گرتے:وَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْہَا صُمًّا وَّ عُمْیَانًا – (فرقان:٧٣)غور کرنے کی بات ہے کہ آیات ربانی پر بھی عامیانہ گر پڑنے سے منع کیا گیا ہے، غور و فکر اور سوچ کو خیر باد کہہ کر ہاں میں ہاں ملانے سے روکا گیا ہے، پھر یہ کیوں اکابرین کی باتوں پر آنکھیں بند کیے رہتے ہیں، ایک عام شخص کو معصومیت کا درجہ دیتے ہیں، گناہوں سے دور مانتے ہیں، اور اس امت کو داغدار کرتے ہیں، قدامت کی بھٹی میں جھونک کر ان کی جدید صلاحیتوں پر تیشہ چلاتے ہیں، ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں اور پوری امت کے لئے باعث ننگ بنتے جارہے ہیں۔
Comments are closed.