ادھوسرکار کیوں ہے مصیبت میں؟

 

 

شکیل رشید(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)

مہاراشٹر کی اگھاڑی سرکار اگر ’ مصیبت‘ میں آگئ ہے تو اس کی ذمےدار سراسر اگھاڑی سرکار ہی ہے ۔ وزیراعلیٰ ادھوٹھاکرے سے لے کر این سی پی اور کانگریس کے سینئر وزراء تک جِن میں ریاست کے وزیرداخلہ انیل دیشمکھ بھی شامل ہیں ، بی جے پی کے توسیع پسندانہ عزائم سے خوب واقف ہیں ، ا نہیں خوب پتہ ہے کہ اگھاڑی سرکار کے قیام کے اول روز سے ہی ،سابق وزیراعلیٰ دیویندر فڈنویس کی قیادت میں بی جے پی نے ریاست میں شیوسینا ، این سی پی اور کانگریس کے گٹھ جوڑ کے خلاف کام کرنا شروع کردیا تھا۔۔۔ پہلے تو کوشش یہ کی گئی کہ یہ سرکار بن ہی نہ سکے لیکن جب دال نہیں گلی اور مہاراشٹر کی سیاست میں مردِ آہن کہلانے والے شردپوار نے بی جے پی کو چاروں خانے چت کرکے اس کے توسیع پسندانہ منصوبے پر روک لگادی ، تب بی جے پی نے الزامات درالزامات کا ایک سلسلہ شروع کردیا ۔۔ معاملہ چاہے فلم اداکار سشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کا رہا ہو یا ریاچکرورتی کی گرفتاری کا یا پھر ’ ریپبلک ٹی وی‘ کے ایڈیٹر ومالک ارنب گوسوامی کی گرفتاری ورہاٹی اور پھر ٹی آر پی گھوٹالے میں ان کے خلاف لگے الزامات کا ، بی جے پی نے ہر موقع پر یہ کوشش کی کہ کسی طرح سے ریاستی سرکار کو گٹھنے ٹیکنے پر مجبور کردیا جائے ۔۔۔ افسوس ناک اور شرمناک بات یہ بھی ہوئی کہ ادھو ٹھاکرے کے بیٹے آدتیہ ٹھاکرے کو ،سشانت سنگھ راجپوت کی سکریٹری دشاسالیان کی خودکشی معاملے میں ملوث کرنے اور سارے معاملے کو ’ عصمت دری‘ ثابت کرنے کے لئے ہر طرح کا حربہ آزمایا گیا ، ارنب گوسوامی کوہر طرح کا تعاون دیا گیا ، سینئر سیاست داں نارائن رانے نے بغیر کسی ثبوت کے آدتیہ ٹھاکرے کو کٹگھڑے میں کھڑا کرنے اور ریاستی سرکار کو متزلزل کرنے کی پوری کوشش کی ، لیکن ادھو ٹھاکرے اور این سی پی وکانگریس کے سارے وزراء ان حملوں کا بھرپور جواب دیتے رہے ۔۔۔ اور شردپوار کی رہنمائی میں ادھوسرکار ہر مصیبت سے کامیابی کے ساتھ باہر نکلتی رہی ۔ حتیٰ کہ ادھوٹھاکرے کی اورنگ آباد کے نام کی سنبھاجی نگر کے طورپر تبدیلی کے مطالبے اور بابری مسجد کی شہادت میں شیوسینکوں کے کردار کی تعریف میں زمین وآسمان کے قلابے ملانے کی ’بڑ‘ بھی ، شردپوار کی سیاسی بصیرت اور تدبیر کے نتیجے میں دَم توڑگئی ، بی جے پی اس کا کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکی ۔۔۔ لیکن بی جے پی نے حوصلے نہیں ہارے ، جیسے اس نے ایم پی ، گوا، اور کرناٹک میں خریدوفروخت اور سازش کے دم پر اپنی حکومت بنائی ہے اسی طرح مہاراشٹر پر قبضے کے لئے اس کی کوشش ہنوز جاری ہے ۔ اس پس منظر میں ضروری تھا کہ وزیراعلیٰ ادھوٹھاکرے اور ان کے وزراء محتاط رہتے اور بی جے پی کو کھیل کھیلنے کا کوئی موقع نہ دیتے، مگر ایسا ہوا نہیں۔۔۔

نہ جانے ادھو سرکار کو ،اور وزیرداخلہ انیل دیشمکھ کو خواجہ یونس قتل معاملے میں معطل اسسٹنٹ پولس انسپکٹر سچن وازے کو بحال کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ یہ ایک ایسا قدم تھا جس کا انجام بدتر ہی نکلنا تھا۔ یہ بی جے پی کو موقع دینا تھا کہ وہ منصوبے بنائے اورسچن وازے کی ایک چوک یا غلطی سے پوری اگھاڑی سرکار کو کٹگھڑے میں لاکر کھڑا کردے ۔ وزیراعلیٰ اور وزیر داخلہ نے حیرت انگیز طور پر سچن وازے کو ، جوکہ سینئر افسر نہیں ہیں ، کرائم برانچ کی ایک یونٹ کے سربراہ کی حیثیت دی اور پھر مکیش امبانی کی رہائش گاہ کے باہر ملی دھماکہ خیز مواد سے بھری کار کی تفتیش ان کے ذمے کی ۔۔۔ وازے کا ’ٹریک ریکارڈ‘ صاف ستھرا نہیں ہے ، انہیں ایک حساس معاملے کی تفتیش سونپنا اپنے پیروں پر خود کلہاڑی مارنا تھا۔۔۔ افسوس تو یہ ہے کہ من سکھ ہیرن کی خودکشی یا قتل کے بعد ،اس کی بیوہ کے الزام پر توجہ نہ دے کر کوشش یہ کی گئی کہ پولس محکمہ پر کوئی داغ دھبّہ نہ لگ سکے۔ یہ بھی بی جے پی کو ایک سنہرا موقع دینے کے مترادف ہی تھا۔ نتیجہ سامنے ہے ، ادھوسرکار بی جے پی کے حملے سے سکتے میں ہے ، وازے کو گرفتار کرکے معطل کیا جاچکا ہے اور ممبئی پولس شک وشبہے کے گھیرے میں آگئی ہے ۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا ہے کہ حکومت مصیبت میں پڑ گئی ہے ، وزیر داخلہ اور پولس کمشنر پرم بیرسنگھ کو ، جو پہلے ہی سے ارنب گوسوامی معاملے کی وجہ سے بی جے پی کے نشانے پر ہیں ، ہٹانے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے ۔ ادھوسرکار ، اس کے تمام وزراء سرجوڑ کر بیٹھیں اور شردپوار کی رہنمائی میں اس مصیبت سے باہر نکلنے کا حل ڈھونڈیں ۔ مرکز کی مودی سرکار کی نیت کی خرابی این آئی اے کو ایک مقامی معاملے میں مداخلت کی اجازت دینے سے خوب واضح ہے ۔حل یہی ہے کہ کسی کو بچانے کی کوشش نہ کی جائے ، کوئی دباؤ کسی پر نہ بنایا جائے ، اگر وازے اور پولس کمشنر قصوروار ہیں تو انہیں برطرف کیا جائے ۔۔۔

بی جے پی کے توسیع پسندانہ عزائم کو ناکام بنانے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت عوام میں اپنی صاف ستھری تصویر پیش کرے اور یہ بتائے کہ اس نے ’اسکارپیوکار‘ کے معاملے کو نیک نیتی سے حل کرانے کی کوشش کی تھی لیکن اگر اس میں کسی طرح کی سازش کی گئی ہے ، کسی طرح کی گڑبڑ ہوئی ہے تو سرکار اس کی ذمے دار نہیں ہے بلکہ وہ ان تمام ، جنہوں نے گڑبڑکی ہے ، کے خلاف کارروائی کرے گی ۔۔۔ اور یہ بھی واضح کرے کہ بی جے پی کا دامن صاف نہیں ہے ، وہ ریاستی سرکار کو سازشوں اور منصوبوں سے متزلزل کرنے کے لئے کوشاں ہے ، اس کی ایسی ہر کوشش ناکام بنادی جائے گی ، شیوسینا ، کانگریس اور این سی پی ، بی جے پی کے خلاف یکجٹ ہیں۔۔۔

Comments are closed.