غربت اور تنہائی
سحر نصیر (سیالکوٹ)
یہ ایک تنہا بے سہارا لڑکی فجرکی کہانی ہے۔جس کے ماں باپ بچپن میں ہی فوت ہو چکے تھے۔ آج فجر بڑی بے چین تھی، فجر نے اپنی ساری زندگی تنہائی میں گزاری تھی، ساری زندگی تنہا رہنے کے بعد احمد نامی ایک لڑکا فجر کی زندگی میں آیا، جس سے فجر کا نکاح ہواتھا، وہ اس کا مجازی خدا تھا۔ اس کو بار باراپنے مجازی خدا کا خیال آ رہا تھا، جو کہ اس کے منع کرنے کے باوجود بھی اپنی بیوی کو تنہا چھوڑ کے ملک سے باہر جا چکا تھا؛ حالانکہ وہ فجر سے بے پناہ محبت کرتا تھا۔ وہ اپنی بیوی کو غربت سے نکلنے کے لیے ملک سے باہر گیا تھا؛ لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ اس کی فجر کو صرف اور صرف اپنے شوہر کی ضرورت ہے۔ فجر کو موسم بہت اداس لگ رہا تھا، فجر خود کو بڑی بے بس اور تنہا محسوس کر رہی تھی، ہر طرف اُداسی ہی اُداسی محسوس کر رہی تھی۔ فجر اپنے خاوند سے بے انتہا محبت کرتی تھی۔ وہ احمد کو بس یہ کہتی تھی کہ اس کو اپنی غریبی سے کوئی شکوہ نہیں ہے اسے صرف احمد کی ضرروت تھی۔لیکن احمد کو اپنی غربت کو دور کرنا تھا۔فجر کی ساری زندگی غربت میں بسر ہوئی تھی، کھانے کو دو وقت کی روٹی بھی مشکل سے نصیب ہوتی تھی۔اس کے باوجود وہ چاہتی تھی کہ احمد اس کے پاس موجود ہو۔احمد بھی فجر سے بے انتہا پیار کرتا تھا، اور فجر بھی احمد پر اپنی جان تک قربان کرنے کو تیار تھی، مگر حالات کی ستم ظریفی! آج وہ شخص بھی اس سے دور تھا تو وہ کیوں نہ بے چین ہو تی۔ فجر جس حال میں تھی وہ چاہتی تھی کہ اس کا شوہر اس کے ساتھ ہو۔فجر کے ہاں آج بیٹا پیدا ہوا تھا، آج ایک طرف خوشی اور دوسری طرف اُداسی تھی۔ فجر اِس خوشی کے موقع پر بھی خود کو تنہا محسوس کر رہی تھی۔فجر اس قدر خوشی کے موقع پر بھی بڑی اُداس تھی۔ فجر نے شوہر کو بیٹے کی پیدائش کی خبر دی۔احمد کا دل کر رہا تھا کہ اڑا کر اپنی بیوی اور بچے کے پاس پہنچ جائے؛ لیکن غربت کی چکی میں پسنے کی وجہ سے وہ واپس نہیں آ سکتا تھا اور نہ ہی اپنا علاج کروا سکتا تھا۔ کہتے ہے نہ دل کو دل سے راہ ہوتی ہے فجر کو محسوس ہو چکا تھا کہ اس کا شوہر کسی مصیبت میں ہے، فجر کی بے چینی صحیح تھی، احمد کو کینسر تھا، اور چاہ کر بھی وہ اپنے گھر نہیں آ سکتا تھا، وہ اپنی بیوی کو پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا۔ احمد بھی خود کو تنہا اور بے بس محسوس کر رہا تھا۔احمد آج فجر کی بات نہ ماننے پر خود کو برا بھلا کہہ رہا تھا، احمد کا دل چاہ رہا تھا کہ کاش وہ وقت واپس آ جائے۔ احمد وقت کے ساتھ ساتھ زندگی کی بازی ہار رہا تھا۔
آج احمد کی لاش گھر آئی تو فجر کی تو دنیا ہی اجڑ گئی تھی۔اور اب اس کی زندگی میں غم ہی غم تھا، آج اس کا شوہر اس دنیا میں نہیں تھا۔ فجر کے سکھ دکھ کا ساتھی دنیاںٔے فانی سے جا چکا تھا۔احمد کی موت کی بڑی وجہ غربت تھی۔ فجر نے ہر حال میں اللہ کا ہمیشہ شکر ادا کیا۔ساری زندگی تنہا گزارنے کے بعد جب زندگی میں بہار آئی تو وہ بھی کچھ لمحوں کے لیے تھی، اس نے کبھی بھی اللّٰہ سے شکوہ نہیں کیا تھا۔ لیکن آج وہ اس غربت کا اللّٰہ سے شکوہ کر رہی تھی، جن کی قسمت میں رونا لکھا ہو وہ ساری زندگی روتے ہی ہیں، اور فجر کی زندگی میں غربت، تنہائی اور رونا لکھا تھا۔اب فجر کو ساری زندگی اپنے چاند سے بیٹے کے ساتھ تنہا گزارنی تھی۔ تنہائیاں انسان کو اندر ہی اندر ختم کر دیتی ہیں۔ فجر نے اپنے بیٹے کا نام بھی احمد ہی رکھا اور اب اپنے بیٹے کے لیے زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا، اب فجر نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ غربت اور تنہائی لفظ کو اپنی زندگی سے نکال دے گی۔اور اپنے بیٹے کے لیے زندہ رہے گٸی۔
Comments are closed.