انتخابی مہم میں مسلمان حاشیہ پر-
محمد صابر حسین ندوی
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
جمہوری ملک میں سب سے بڑی طاقت حق رائے دہندگی کی ہے، خواہ ملک کا باسی اقلیت میں ہو یا پھر اکثریت میں ہو، مظلوم ہو یا پھر ظالم ہو بہرحال پانچ سالوں میں ایک موقع ضرور ملتا ہے جہاں ایک مظلوم اپنی ووٹنگ اور متحدہ کوشش کے ذریعہ جمہوری مفسد عناصر کو اکھاڑ پھینکتے ہیں، نظام بدل دیتے ہیں، فاسد خون نکال پھینکتے ہیں، امن و امان کے دشمنوں کو سبق سکھاتے ہیں، اسے عملی طور پر دیکھنا ہو تو ا سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حالت دیکھ لیجیے۔ وہ اس وقت تازہ نمونہ ہیں، جنہیں دنیا کا سب سے طاقتور شخص سمجھا جاتا تھا وہ گمنامی کی طرف بڑھ چکا ہے، بلکہ دھکیلا جاچکا ہے، مگر ہندوستانی پس منظر میں دیکھا جائے تو حیرت کی بات یہ ہے کہ جمہوری نظام کے اس ڈھانچہ کو یوں زَک پہنچائی گئی ہے؛ کہ اقلیت اور کمزور ظلم بھی برداشت کرے اور اپنی رائے دہندگی استعمال کر کے بھی ان کا کچھ نہ بگاڑ سکے، ایک عرصے سے دَلتوں کو اسی منصوبہ بندی کے تحت پیچھے دھکیل دیا گیا، ملک کی ایک بڑی آبادی؛ لیکن اپنی فکر و تہذیب کی بنا پر سیاست کی آنکھوں کا کانٹا بننے والوں کو دودھ سے مکھی کی طرح نکال باہر کیا گیا، ان کے بعد مسلمانوں کی باری تھی، جو ملک میں دوسری سب سے بڑی آبادی، طاقت اور تہذیب و ثقافت کے مالک ہیں، تاہم مسلمان جس کی اعلی قیادت اور مذہبی پیشواؤں نے طفیلی کردار ادا کیا، سیاست کو شجر ممنوعہ سمجھ کر وہ اس ڈالی تو کبھی اس ڈالی بھٹکتے رہے، دیکھتے ہی دیکھتے اب وہ سیاست کے حاشیہ پر بھی دکھائی نہیں دیتے، ٢٠١٩ لوک سبھا کے انتخابات نے مہر ثبت کردی تھی کہ اب مسلمانوں کو چناوی سبھاؤں میں شامل کرنا ان کے مدعے کو بیان کرنا یا پھر ان سے ہمدردی دکھا کر ووٹ حاصل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اب انہیں ڈرایا جائے، دھمکایا جائے بلکہ بہترین پالیسی یہ اختیار کی کہ ان کے مقابلہ میں ہندوؤں کو بھڑکایا گیا، انہیں یہ باور کرایا گیا کہ ہندو خطرے میں ہے، مسلمان دیش پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، وہ کلمہ کی بنیاد پر متحد ہو کر پورے ملک کو اپنے تصرف میں لینا چاہتے ہیں، وہ بچے زیادہ پیدا کر رہے ہیں؛ تاکہ ان کی آبادی آنے والے دنوں میں زیادہ سے زیادہ ہوجائے اور ہندو اقلیتوں میں سے ہوجائیں، جس کیلئے مَن گھڑت کہانیاں بھی گڑھی گئیں، جھوٹ بولا گیا اور پورے لائحہ عمل کے ساتھ ملک کی مختلف ایجنسیوں اور پرزوں کا استعمال کر کے اپنے منصوبے کو کارآمد بنایا گیا؛ لیکن بات بہرحال کان پر پڑنے والی تھی، کچھ تو وہمی تاثیر ضرور تھی؛ کیونکہ مسلمانوں نے یہاں ہزاروں سال حکومت کی ہے، ان کا رعب و دبدبہ رہا ہے، وہ اب بھی اس گئے گزرے دور میں بہت حد تک حمیت و غیرت رکھتے ہیں، ایمان و قرآن کے تئیں جذبہ شہادت پایا جاتا ہے، چنانچہ تیر نشانے پر لگا اور ہندو اپنے مابین تمام تر اختلافات کے باوجود ایک ہوگئے، ایک ہی محاذ پر کام کرنے لگے؛ بالخصوص آر ایس ایس نے کلیدی کردار دا کرتے ہوئے لالچ اور دھمکی دونوں ہتھیار استعمال کیے اور اب حال یہ ہے کہ جس پارٹی نے مسلمانوں کی بات اٹھائی، ان کے کسی بھی مدعے کو سبھاؤں میں بیان کیا، اس نے شکست کھائی، اس پر کمیونل ہونے کا الزام لگا، سیکولرازم جو کہ ملک کی اساس ہے اسے بدنام کر کے صرف مسلم حامیوں کیلئے استعمال کیا گیا، چنانچہ اس طرح بی جے پی نے اپنی قوت مزید بڑھائی، وہ کرسی پر براجمان ہوئے اور اسی ہندو کارڈ پر وہ سب کچھ کرتے گئے جس کی اجازت ملک کی بنیاد سے نہیں ملتی۔
ان دنوں بنگال، آسام، تامل ناڈو، پوڈیچری اور کیرلا کے انتخابات کا دور ہے، خصوصاً بنگال اور آسام بی جے پی کیلئے ناک کا مسئلہ بن چکے ہیں، سی اے اے، کسان اور اب بینک ورکرس کے آندولن کے درمیان اسے یہ ثابت کرنا ہے کہ ملک میں سب کچھ ٹھیک ہے اور رواں حکومت ترقی کی راہیں براق کی رفتار سے عبور کر رہی ہے، اسی لئے کسی بھی حال میں انہیں ان دونوں صوبوں میں سرکار بنانی ہے، نتیجتاً تمام مرکزی حکومت کے رہنما اس وقت بنگال اور کچھ آسام میں پیر توڑ کر بیٹھ گئے ہیں، خود وزیراعظم نے کمان سنبھالی ہوئی ہے، سینکڑوں ریلیاں آرگنائز کی جارہی ہیں، تقریریں ہورہی ہیں، بولی اور گولی دونوں ہی استعمال ہورہے ہیں، ویسے ان تمام صوبوں میں بہت سے مسائل ہیں، مہاجرین کا مسئلہ تو بہر کیف ہے، بے روزگاری، غریبی اور نوکری کے ساتھ ساتھ مہنگائی نے کمر توڑ رکھی ہے، ان میں خود مسلمان بھی شامل ہیں؛ لیکن سی اے اے وغیرہ جن سے مسلمان زیادہ متاثر ہونے والے ہیں اور جن صوبوں میں اس کا اثر دکھنے والا ہے وہ بھی یہی ہیں؛ نیز تقریباً پانچ کروڑ مسلمانوں کی آبادی ان صوبوں میں پائی جاتی ہے، مگر ان سب کے باوجود اب تک آپ نے ایک آواز بھی نہیں سنی ہوگی جو مسلمانوں کے مسائل اور ان کی زندگی کی نمائندگی کرتی ہوں؛ بلکہ ہر کوئی اپنے آپ کو سب سے بڑا ہندو دکھانے اور ثابت کرنے میں لگا ہوا ہے، ممتابنرجی ان دنوں مندروں میں چکر لگارہی ہیں، ان کی چناوی ریلیوں میں مذہبی نعرے لگائے جارہے ہیں، وام پنتھی اور دیگر پارٹیاں بھی پیچھے نہیں ہیں، کانگریس تو پہلے ہی ہندو، ہندو کی رٹ لگانے کی راہ پر ہے، اویسی صاحب مسلمانوں کو جمع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؛ بالخصوص ان صوبوں میں یہ ایسا ہی ہے کہ اکثریت کے سامنے اقلیت کو مہرا بنا کر کھڑا کردیا جائے، اب آپ خود فیصلہ کر لیجیے کہ جب ووٹنگ کی بات ہوگی اور فاشزم کا عنصر بھی موجود ہوگا تو کس کی فتح ہوگی؟ (یہ بات واضح رہے کہ اویسی صاحب کی نیت، خلوص اور لگن سے کوئی انکار نہیں اور نہ ہی مسلم اتحاد سے کوئی بیر ہے، یہ بات ایک خاص سیاسی پیرائے میں کہی گئی ہے۔) بہر کیف ان سب سے آخر کیا سمجھا جائے کہ کیا مسلمانوں کا ہندوستان میں سیاسی مستقبل ختم ہے، بالکل! لگتا تو کچھ ایسا ہی ہے؛ لیکن مستقبل کی بات نہیں کہی جاسکتی، اس وقت نوجوانوں کی قیادت اور زور انقلاب کا دور ہے، ایک بڑی تعداد اسے محسوس کر رہی ہے، لگاتار یہ پایا جارہا ہے کہ مسلمانان ہند بیداری کی طرف بڑھ رہے ہیں، ان میں سکوت ضرور ہے؛ لیکن ناراضی اور موقع کی تلاش کرتی ہوئی خموشی ہے، وقت ہے کہ سر جوڑ کر بیٹھا جائے اور اس چنگاری کو استعمال میں لایا جائے، اپنے سیاسی مستقبل کی فکر کی جائے اور ملک کی ترقی میں حصہ دار بنا جائے۔
Comments are closed.