کہاں گئی سوساشن کی اخلاقیات پر دہائی!

 

عاقل حسین
موبائل۔9709180100
میل ۔aaquilhussain2013@gmail.com
بہار میں پچھلے 16 سالوں سے ضمیر شناسی اور اخلاقیات کی سیاست جاری ہے۔ ان 16؍ سالوں میں ضمیر اور اخلاقیات کی سیاست نے حکومت گرانے اور بنانے کے ساتھ ساتھ وزراءکو استعفیٰ دینے کے لئے مجبور کیا۔ لیکن پچھلے کچھ سالوں میں ضمیرشناسی کی سیاست کا ضمیر گرتا ہوا نظر آرہا ہے۔ یا یوں کہیں کہ ایک سیاسی جماعت کے سامنے ضمیر اور اخلاقیات کی سیاست دم توڑ چکی ہے! اگر ایسا نہیں ہے تو پھر بدعنوانی کے مدعے پر  2005 میں بہار کی سیاست کا ایک بڑا چہرہ بن کر نتیش کمار حکومت میں آئے، بی جے پی کے ساتھ مل کر 2013؍ تک حکومت چلائی لیکن موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی کو سال 2014 کے لوک سبھا انتخابات کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی کی انتخابی مہم کمیٹی کا سربراہ بنانے کے بعد جنتا دل یونائیٹڈ کے سربراہ نتیش کمار نے این ڈی اے اتحاد سے علیحدگی کا فیصلہ کیا تھا۔ انہیں قانون ساز اسمبلی میں اعتماد جیتنے کے لئے 121؍ ممبران اسمبلی کی حمایت کی ضرورت تھی لیکن ان کے پاس 117؍ نمبر تھے۔ اسمبلی میں اعتماد ووٹ کے دوران کانگریس، آزاد امیدواروں اور بائیں بازو کی حمایت ملی جس کی بدولت نتیش کمار نے حکومت بچالی۔ لیکن مئی 2014 کے لوک سبھا انتخابات کے نتائج آنے کے ایک دن بعد نتیش کمار نے اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے وزیر اعلی عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔ تب نتیش نے وزیر اعلی عہدہ کے لئے جیتن رام مانجھی کا انتخاب کیا۔ اور پھر بہار میں 9؍مہینوں کی افراتفری کا دور شروع ہوا۔ نتیش کمار پردے کے پیچھے رہ کر حکومت چلانا چاہتے تھے۔ جبکہ جیتن رام مانجھی کو یہ پسند نہیں تھا۔ اس کے بعد نتیش کمار اور جیتن رام مانجھی کے حامیوں میں عوامی طور پر ’تو تو میں میں‘ کا دور شروع ہوگیااور آخر کار جیتن رام مانجھی کو بھی اقتدار سے باہر کا دروازہ دکھایا گیا۔ فروری  2015 کے آخری ہفتے میں نتیش کمار ایک بار پھر سے بہار کے وزیر اعلی بن گئے۔ اس 9؍مہینے میں جیتن رام مانجھی نے نتیش کمار پر کرپٹ ٹھیکیداروں کو تحفظ فراہم کرنے کا کھل کر الزام لگایا۔ مانجھی کے مطابق یہ ٹھیکیدار بہار کو لوٹ رہے تھے۔ انہوں نے بہار حکومت میں چل رہے بہت سے سنگین گھوٹالوں کی توجہ مبذول کروائی۔ نتیش نے جب دیکھا کہ ان کی شبیہ گہرے داغ لگ رہے ہیں تو انہوںنے لالو یادو کے ساتھ ہاتھ ملالیا۔ وہ جانتے تھے کہ لالو یادو کے پاس ووٹ بینک ہے لیکن عدالت کے ذریعہ سزا سنائے جانے کے بعد وہ وزیر اعلی نہیں بن سکتے۔ آر جے ڈی سپریمو سیاسی طور پر ایک بار پھر فعال ہونے کیلئے بے چین تھے اور لالو پرساد کو ایک بار پھر سے اس کا موقع مل گیا۔ اس کے بعد آر جے ڈی، جے ڈی یو اور کانگریس کے مابین عظیم اتحاد ہوا اور بہار کی243؍ سیٹوں میں سے 178؍ سیٹیں ملی۔ 20؍ نومبر 2015 ؍کو نتیش کمار نے پانچویں مرتبہ وزیر اعلی کے عہدے کا حلف لیااور اپنے دوست لالو پرساد یادو کے بیٹے تیجسوی یادو کو نائب وزیر اعلیٰ اور لالو کے بڑے بیٹے کو وزیر صحت بنایا۔ لیکن انھیں اپنے نائب وزیر اعلی سے انہیں محض ایک ایف آئی آر ہونے کی وجہ سے دقت ہوگئی اور بدعنوانی کا الزام لگاتے ہوئے بی جے پی رہنما سوشیل مودی نے پریس کانفرنس کرنا شروع کردیا۔ جس کے بعد نتیش کمار نے تیجسوی سے استعفیٰ طلب کیا۔ استعفیٰ نہیں دینےکے بعد نتیش کمار کی ضمیر سے آواز آئی اور انہوں نے اخلاقیات کی بنیاد پرسرکار بھنگ کرنے کی سفارش گورنردسے کر دیا۔
جس کے بعد حکومت گر گئی اور نتیش کمار کی این ڈی اے میں واپسی ہوگئی۔ انہوںنے 27؍ جولائی 2017؍ کو چھٹی مرتبہ بہار کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے حلف لیا۔ اس کے بعد نتیش کمار نے پھر این ڈی اے کے ساتھ مل کر سال 2020 کا الیکشن لڑا ،اور اس میں این ڈی اے کو اکثریت ملی۔ نتیش کمارنے ساتویںمرتبہ بہار کے وزیر اعلیٰ بنےکا موقع ملا۔ لیکن کچھ سالوں میںایسا لگ رہا ہے کہ بی جے پی کے سامنے نتیش کمار کی ضمیر اور اخلاقیات سوگئی ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو، پھر نئی حکومت میں جے ڈی یو کے کوٹے سے میوہ لال بہار کے وزیر تعلیم بنائے گئے۔مگر جب ان پرایک پرانے معاملے کا الزام لگا ،تو نتیش کمار نے میوہ لال سے استعفیٰ مانگ لیا۔ لیکن کرونا دور میں وزیر صحت منگل پانڈے پر کئی الزامات عائد کیے گئے۔ لیکن نتیش کمار نے اخلاقی بنیادوں پر کبھی ان سے استعفیٰ کا مطالبہ نہیں کیا۔کیونکہ وہ بی جے پی کوٹہ سے وزیر ہیں۔ اسی طرح بی جے پی کوٹہ سے پی ایچ ای ڈی وزیر رام پرت پاسوان کے بیٹے منصوبہ کی جانچ کرنے بہار کے پورنیہ ضلع کے روپولی بلاک علاقے میں پہنچ جاتے ہیں۔ وہیں ماہی افزائش وزیر مکیش سہنی کے بھائی سرکاری پروگرام میں وزیر کی جگہ پر پہنچ جاتے ہیں اور سرکاری افسران کی نگرانی میں منظم سرکاری پروگرام کا عمل مکمل کرتے ہیں۔ تاہم اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی کے بعد وزیر اعلیٰ نے ایوان میں وزیر مکیش سہنی کے ذریعہ عہدہ کے غلط استعمال کی تحقیقات کی بات کہی۔ حیرت مجھے اس وقت ہوئی جب سیاست کی مندر کہلانے والی اسمبلی کے ایوان میں اسپیکر کوپنچایتی راج وزیر سمراٹ چودھری سے محکمہ سے متعلق ریورٹ وقت پر بھیجنے کو کہا،تو وزیر سمراٹ چودھری نے اسپیکر سے کہا کہ اتنا ویاکل کیوں ہو رہے ہیں!جبکہ اس وقت ایوان میں وزیراعلیٰ بھی موجود تھے۔لیکن سمراٹ چودھری بی جے پی کوٹہ سے وزیر ہیں۔ بعد میں بھلے ہی وزیر سمراٹ چودھری نے معافی مانگ لی۔لیکن جمہوری نظام میں کسی بھی پارلیمٹ،راجیہ اسبھا یا پھر اسمبلی کا ایوان ہو،ہر ایوان کے اسپیکر کے عہدہ کی عزت ہوتی ہے۔لیکن بی جے پی لیڈران کو ایوان کی عزت سے کیالیانا ہے! وہیں مظفر پور میں وزیر رام سورت رائے کے رشتہ دارکے اسکول سے شراب برآمد ہوئی۔جس کو لیکر تو اپوزیشن نے وزیر پر الزام عائد کرتے ہوئے ہنگامہ آرائی کیا اوربی جے پی کوٹہ کے وزیر رام سورت رائےکے استعفیٰ کا مطالبہ کررہی ہے۔اب سوال اٹھتا ہے کہ بہار میں عظیم اتحاد کی حکومت میں تیجسوی یادو کے خلاف بدعنوانی کے الزامات میں صر ف ایک ایف آئی آر درج ہو تی ہے تو اس وقت اپوزیشن کا کردار ادا کررہے بی جے پی کی جانب سے سوشیل مودی نے پریس کانفرنس کر نائب وزیر اعلیٰ سے استعفیٰ کا مطالبہ کیاتھا اور سوساشن بابو اس وقت کے نائب وزیر اعلی تیجسوی یادو سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ تیجسوی کے استعفیٰ نہیں دینے پر سوساشن بابو  اخلاقیات کی بنیادوں پر خود گورنر سے ملاقات کر کابینہ کو تحلیل کرنے کی سفارش کرتے ہیں۔ لیکن آج سوساشن کے ضمیر سے اخلاقیات کا لفظ نہیں نکل رہا ہے۔ کیونکہ رام سورت رائے بی جے پی کوٹہ سے وزیر ہیں۔ ایسے حالات میں اگر نتیش کمار کے ضمیر سے اخلاقیات کی بنیاد پر بی جے پی کوٹہ کے وزیر کیلئے استعفیٰ کی آواز نکل گئی تو کہیں ان کی حکومت گر نہ جائے! جس کا خوف سوساشن بابو کو ہراساں کررہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نتیش کمار کے ضمیر سے اخلاقیات کا لفظ نہیں نکل رہا ہے! پھر بہار میں نافذ شراب بندی قانون پر عمل کرنے کا ناٹک سوساشن بابو کیوں کر رہے ہیں؟ شراب بندی کے تحت اب تک کتنے کی جائیداد ضبط کی گئی اور کتنے لوگوں کو کارروائی کر جیل بھیجا گیا؟ اتنا ہی نہیں‘ بلکہ کتنے پولیس افسران سے لے کر کتنے پولس اہلکاروں پر شراب بندی قانون کے تحت کارروائی کی گئی ہے؟ کیا یہ دکھاوا ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر وزیر رام سندر رائے سے اخلاقیات کی بنیاد پر سوساشن بابو نے استعفیٰ کیوں نہیں مانگا ہے؟ اگر بی جے پی کوٹہ کے وزیر سے استعفیٰ نہیں مانگ سکتے ہیں تو بہار میں یہ کیسی اخلاقیات اور کیسا گڈ گورننس ہے؟

Comments are closed.