جہیز کی تکلیف دہ خبروں کے بعد امید افزاء اقدامات
شکیل رشید
(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)
تکلیف دہ خبروں کے بعد امیدافزاء خبریں بھی آنے لگی ہیں۔
جہیز کے معاملے میں عائشہ کی خودکشی اور اس کے بعد مزید کئی بچیوں کی اموات کی خبروں نے امت مسلمہ کو بری طرح سے دہلاکر رکھ دیا تھا اور ہر طرف سے یہ آواز اٹھنے لگی تھی کہ اس سلسلے میں علماء کرام اور دانشوران عظام کو کوئی نہ کوئی اقدام کرنا چاہیئے۔ بالخصوص مذہبی جماعتوں ، تنظیموں اورآل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کو۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ نے لگ رہا ہے کہ سنجیدگی کے ساتھ اصلاحِ معاشرہ کے لیے طریقۂ کار پر غوروفکر کرنا شروع کیا ہے ۔ گجرات اور کرناٹک سے بورڈ کے ذمے داران کی کئی امید افزاء خبریں ملی ہیں جن سے پتہ چلا ہیکہ علماء کرام نے باقاعدہ یہ اعلان کیا ہے کہ نہ وہ جہیز لیں گے اور نہ دیں گے ۔ یہ بڑا ہی اہم اعلان ہے ۔ حالانکہ بورڈ نے تلنگانہ ، مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش میں بھی نشستیں کی ہیں لیکن وہاں سے عملی اقدام کی خبریں نہیں آئی ہیں ۔ آج ہی بورڈ کی اصلاح معاشرہ کمیٹی کی طرف سے ۲۰ تا ۲۲ مارچ سہ روزہ آن لائن کانفرنس کے انعقاد کا اعلان بھی آیا ہے ۔ کانفرنس کے ذریعے نکاح کو آسان بنانے اور بیجا رسومات ورواجوں کو مٹانے کے لئے بیداری مہم چلائی جائے گی ، بورڈ کا یہ بہت ہی اہم فیصلہ ہے ، عام مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ بورڈ کی اس آن لائن کانفرنس سے جڑیں اور آسان نکاح کی ،اور رسومات ورواجوں کو مٹانے کی ضرورت کو سمجھیں ۔۔۔ جب تک نکاح آسان نہیں کیا جائے گا تب تک نہ رسومات کا خاتمہ ہوگا اور نہ ہی رواجوں کا ۔۔۔ اور یہ جہیز جو ہمارے معاشرے میں رائج ہے ایک شرمناک رسم اور بدترین قسم کا رواج ہی ہے ۔۔۔ نکاح کو مشکل بنانے کا مطلب ہی شادی بیاہ پر فضول خرچی اور جہیز کی ناپاک ترین طلب ہے ۔۔۔ جہاں بورڈ کے یہ اقدامات لائقِ تحسین ہیں وہیں امروہہ سے ملنے والی یہ خبر کہ مفتی عفّان منصور پوری نے ، جو جمعیۃ علماء ہند کے صدر قاری عثمان منصور پوری کے صاحبزادے ہیں ، امروہہ میں ایک نکاح پڑھانے سے اس لئے انکار کردیا کہ شادی میں ڈی جے دھوم دھام سے بج رہا تھا۔حالانکہ بعد میں کسی دوسرے عالم نے ’لعنت ملامت‘ کرکے نکاح پڑھ دیا لیکن مفتی عفّان منصور پوری نے خطبۂ نکاح نہ پڑھانے کا فیصلہ کرکے اس ملک کے ان بے شمار علمائے کرام کے سامنے ، جو شاہانہ شادیوں میں شرکت کرتے ، مرغن کھانے کھاتے ، جہیز کا سامان دیکھ کر واہ واہ کرتے اور ایسی شادیوں میں نکاح پڑھانے کو قباحت نہیں سمجھتے ہیں، ایک بہترین مثال پیش کی ہے ، ایسی مثال جس کی تقلید لازمی ہے ۔ بورڈ کی آن لائن کانفرنسوں سے ایک بیداری تو ضرور آئے گی لیکن مفتی صاحب نے جو عملی قدم اٹھایا ہے اگر اس پر دیگر علمائے کرام نے عمل کیا تو نکاح بھی آسان ہوجائے گا اور رسومات ورواجوں کابڑی حد تک خاتمہ بھی ممکن ہوسکے گا ۔ جو تنظیمیں اور جماعتیں ، جیسے جمعیۃ علماء ہند ، جماعت اسلامی اور سنّی جمعیۃ العلماء وغیرہ ، اصلاح معاشرہ کے پروگرام چلاتی ہیں انہیں چاہیئے کہ وہ اصلاح و تبلیغ کے لیے جانے والے اپنے علماء کرام کو یہ ہدایت دیں کہ تقریر تو وہ کریں لیکن اگر کہیں شادی ونکاح کا معاملہ آئے تو وہاں عملی قدم بھی اٹھائیں ، خرافات سے خود بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں ۔۔۔ ایک بات مزید کہنے کی ہے ، اصلاحِ معاشرہ کے پروگراموں میں ایسے علماء کرام بھی شامل ہوتے ہیں اور اسٹیج سےدھواں دار تقریریں کرکے لوگوں کو جہیز نہ لینے اور نہ دینے اور رسومات کو اختیار نہ کرنے کی تلقین کرتے ہیں ‘ جو خود جہیز لیے ہوئے بھی ہیں اور دیئے ہوئے بھی۔ ان کی باتوں کا اثر عوام پر اس لیے نہیں ہوتا کہ لوگ انہیں خوب جانتے ہیں۔ ضروری ہے کہ اصلاحِ معاشرہ کی کانفرنسوں اور سمیناروں میں ایسے علماء کرام کو نہ بھیجا جائے، یا اگر بھیجا جائے تو ان سے اسٹیج پر ہی اور ان کے ساتھ ہی سارے مجمع سے بھی یہ عہد لے لیا جائے کہ نہ وہ جہیز لیں گے نہ دیں گے‘ رسومات سے بچیں گے اور نکاح کو آسان بنائیں گے۔ ایک ضروری بات یہ بھی ہے کہ وہ عام مسلمان اور امراء جو جہیز لینے اور دینے پر زور دیں ،علماء بھی اور عام لوگ بھی یہ کہہ کر ان کی دعوت میں شرکت سے اور علماء نکاح کا خطبہ پڑھنے سے انکار کردیں کہ غیر شرعی عمل میں ہم تمہارے ساتھ نہیں ہیں۔ ان شاء اللہ جماعتوں ‘ تنظیموں اور بورڈ کی کوششیں اگر صحیح سمت میں جاری رہیں تو مسلم سماج میں اصلاح کا عمل بھی تیز ہوگا اور خرافات کا خاتمہ بھی ہوگا۔
Comments are closed.