سوشل میڈیا پر کیا ہورہا ہے۔۔۔ خود کو بچاؤ!
محمد قاسم اوجھاری
آج کل سوشل میڈیا پر ہمارے نوجوانوں میں ایک رجحان پیدا ہوا ہے کہ وہ ثواب کی نیت سے اسلامی طرز کے ہر آنے والے میسج کو بغیر کسی رکاوٹ اور غور وفکر کے آگے بھیج دیتے ہیں۔ نہ خود غور کرتے ہیں اور نہ کسی عالم دین سے تحقیق کرنے کی زحمت گوارا کرتے ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: يا ايها الذين آمنو ان جاءكم فاسق بنبأ فتبينوا أن تصيبوا قوما بجهالة فتصبحوا على ما فعلتم نادمين۔ اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی سے کچھ لوگوں کو نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کئے پر پچھتاؤ۔
مذکورہ آیت کریمہ اگرچہ کسی خاص پس منظر میں نازل ہوئی ہے لیکن قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ اس کی آیتیں چاہے کسی خاص موقع پر نازل ہوئی ہوں اکثر ان کے الفاظ عام ہوتے ہیں۔ تاکہ ان سے ایک اصولی حکم معلوم ہو سکے، چنانچہ یہ حکم عام ہے کہ کسی بھی فاسق کی خبر پر بغیر تحقیق کے اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔ آیت کے عموم کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ ہر طرح کی خبر کی پہلے تحقیق کرنی چاہیے۔
آج تحقیق کا کہیں نام و نشان نہیں ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بے سند اور من گھڑت باتیں عام ہوگئیں، اور بہت سی جھوٹی روایات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرکے بیان کی جانے لگیں، جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: من كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار (رواه البخاري 1229، ورواه مسلم في مقدمة صحيحه) جو آدمی میری طرف کوئی من گھڑت بات منسوب کریگا تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔
کس قدر وعید ارشاد فرمائی ہے پیغمبر علیہ السلام نے۔ لہٰذا اپنے آپ کو ان وعیدات سے بچانے کی کوشش کریں، اور جو بھی روایت یا کوئی حدیث پاک آپ کو سوشل میڈیا پر ملتی ہے پہلے اس کی خوب تحقیقات کرلیں کہ آیا وہ صحیح ہے یا نہیں؟ جس روایت کے بارے میں صحیح تحقیق ہو وہ آگے بھیجیں ورنہ ایسے پیغامات آگے بڑھانے سے گریز کریں، الله ہم سب کا حامی وناصر ہو، آمین
Comments are closed.