قانونِ الٰہی

 

قراۃالعین خالد (سیالکوٹ)

نبیﷺنے فرمایا! ” نکاح میری سنت ہے اور دوسری روایت میں فرمایا جو میری سنت سے اعراض کرے گا وہ مجھ میں سے نہیں ۔” (ابنِ ماجہ)

بہت تکلیف دہ احساس ہے۔ جب ہم کوئی خبر پڑھتے یا سنتے ہیں کہ آج پھر ایک بنتِ حوا کی عصمت کو تار تار کر دیا گیا۔معصوم کلیاں جھنہوں نے ابھی کھل کر گلاب ہونا تھا۔کسی ابنِ آدم کے آنگن کو اپنی مسحورکن خوشبو سے مہکانا تھا۔آنے والی نسلوں کی امین بننا تھا؛ مگر یہ کیا وہ کلی تو اپنے بابا کے آنگن میں ہی مرجھا گئی ۔نہیں نہیں؛ بلکہ مَسل دی گئیں ،کُچل دی گئیں. ان کا معصوم بچپن ان سے چھین کر ان کی آنکھوں میں ویرانیاں بھر دی گئیں۔۔۔ان والدین کے دل کا حال تو ناقابلِ بیاں ہے۔کیا یہ امت سو رہی ہے؟۔کیسے خوابِ غفلت میں سو رہی ہے؟ جیسے شیطان نے اس کو چھو کر سست کر دیا ہو۔کاش کہ کوئی اقبال اٹھے اور اس بے حس قوم کو جھنجھوڑ کر خوابِ غفلت سے بیدار کرے۔کاش کہ کوئی محمد بن قاسم آجائے جو بہن کی عصمت کی حفاظت پہ قربان ہو جائے۔ آج کہاں گئیں وہ مائیں جو مجاہدوں کو جنم دیتی تھیں ؟آج کا مسلمان اپنے بھائی کی تکلیف پہ روتا کیوں نہیں ؟۔جبکہ نبیﷺ نے فرمایا! ” مومن کی مثال آپس میں ایک جسم کی مانند ہے ۔ جب اس کا کوئی عضو درد کرتا ہے تو اس کا سارا جسم درد کرتا ہے۔” (صیح البخاری :226/3)۔ ہم کیسے مسلمان ہیں کہ ہمیں اپنے دوسرے مسلمان بھائی کی تکلیف میں تکلیف ہی نہیں ہوتی۔ ہمیں اپنے ایمان اور اسلام کے جائزے کی ضرورت ہے۔آج کے مسلمان والدین تکلیف میں مبتلا ہیں، اپنی اولاد کی خفاظت کو لے کر؛ لیکن کبھی ہم نے سوچا کہ ہم ” امتِ محمدیہ ” جس امت کے لیے میرے نبی روتے رہے وہ اتنی پستی و ذلت کا شکار کیوں ہے۔؟ کیونکہ آج ہم نے رب کے پیغامات کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ اللہ کی بتائی ہوئی حدود سے تجاوز کر لیا ہے۔حلال و حرام کے فرق کو فراموش کر دیا ہے پھر وہ رزق کی صورت ہو یا رشتوں کی صورت۔ہر گزرتے دن کے ساتھ بے راہ روی بڑھتی جا رہی ہے ۔اور بے حیائی بھی اپنی انتہاؤں کو چھو رہی ہے۔اب کسی کو گناہ ، گناہ لگتا ہی نہی۔ بہت سے افراد ان مسائل کو اجاگر کرتے ہیں کہ فلاں فرد نے چار سالہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا؛ لیکن کبھی اس بات کی طرف توجہ کیوں نہیں کی کہ اس نے ایسا کیوں کیا؟ ۔۔دو پہلو ہیں اس بات کے ۔پہلا ! ہمارے معاشرے میں تربیتِ اولاد کا فقدان پایا جاتا ہے۔ بیٹی اور بیٹے میں آج بھی بہت سے لوگ فرق کرتے ہیں۔بہت سے والدین اب بھی بیٹوں کی ضروریات اور خواہشات کو بیٹیوں پر مقدم رکھتے ہیں۔ اولاد میں مساوات نہیں رکھتے۔خرابیوں کا آغاز بچپن سے ہی ہو جا تا ہے پھر چاہے وہ بیٹے ہوں یا بیٹیاں۔ جو انسان بھی زنا جیسے گناہ میں مبتلا ہوتا ہے اس کا قصور کسی حد تک والدین پہ بھی آتا ہے۔ والدین آغاز سے ہی غفلت نہ برتتے تو اولاد ایسے گناہ میں مبتلا نہ ہوتی۔آج کی ماں سوشل میڈیا میں مصروف ہے، آج کا باپ اپنے کاروبار میں مصروف ہے ۔آج کی ماں اچھے اچھے کھانے بنانے میں مصروف ہے ۔آج کا باپ اولاد کی جسمانی ضروریات کو پورا کرنے میں مصروف ہے۔ وہ دونوں یہ فراموش کر بیٹھے ہیں کہ اولاد کے معاملے میں تربیت ان کا اولین فریضہ ہے۔اولاد کی صرف جسمانی ضروریات کا خیال نہیں رکھنا؛ بلکہ ان کی روح کی پاکیزگی کا سامان بھی کرنا ہے۔آج کے والدین اگر یہ سمجھ جائیں کہ یہ اولاد ان کے لیے صدقہ جاریہ ہے، ان کے جنت میں جانے کا سبب ہے تو وہ اپنی تمام تر مصروفیات کو پسِ پشت ڈال کر اپنی اولاد کی تربیت کا اہتمام کریں اور اگر تربیتِ اولاد میں کمی واقع ہوئی تو یہی اولاد جھنم کے گڑھے میں گرنے کا سبب بنے گی۔دوسرا پہلو اس بات کا میرے حکمتوں والے رب نے خود بتا دیا کہ زانی کی سزا کیا ہے۔شادی شدہ اگر زنا کرے تو اسے سنگسار کر دیا جائے ۔غیر شادی شدہ اگر زنا کرے تو سو کوڑوں کی سزا دی جائے۔افسوس صد افسوس میرے ” اسلامی جمہوریہ پاکستان ” میں دونوں پہلوؤں کا فقدان ہے ۔نہ والدین اولاد کی تربیت پہ توجہ دیتے ہوئے نظر آتے ہیں اور نہ حکومتِ وقت قانونِ الہیٰ کو نافذ کرتی نظر آتی ہے۔یہ وطن میرے قائد نے اسلام کے نام پر حاصل کیا تھا۔بزرگوں کا خون ، ماؤں کی دعائیں ، بھائیوں کی شہادتیں ، بہنوں کی عصمتوں کے عوض گھروں سے بے گھر ہوئے تھے ہمارے آباء؛ مگر آج کی نسل ان قربانیوں کو فراموش کر چکی ہے ۔قصور اس نسل کا نہیں ، اس نسل کے بڑوں کا ہے۔اب وہ وقت آ گیا ہے کہ ہم حکومت کی طرف نظریں لگانا چھوڑ کر صرف اپنی آنے والی نسل کی پرواہ کریں۔اپنی نسل کو ان دجالی فتنوں سے دور رکھیں۔ان کی تربیت میرے پیارے رب کے بتائے اصولوں کے مطابق کریں۔ میرے نبی ﷺ کی سنتوں کا گلدستہ ان کے ہاتھوں میں تھما دیں، پھر دیکھیں کیسے میرے رب ِ عظیم کی مدد آتی ہے ۔کیسے رب اس امت کو پستیوں اور گناہوں کی دلدل سے باہر نکالتا ہے۔ بس ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم کب ایک قدم رب کے راستے کی طرف بڑھاتے ہیں۔ اللہ کا وعدہ ہے ان لوگوں کے لیے ” جو ہماری خاطر مشقت اٹھائیں گے ، انھیں ہم ضرور اپنے راستے دکھائیں گے۔اور یقیناً اللہ نیک لوگوں کے ساتھ ہے۔” ( سورہ العنکبوت:69)

Comments are closed.