"بچوں کی تربیت کیسے کریں "؟
قراۃالعین خالد (سیالکوٹ
"ماں کی گود بچوں کی پہلی درس گاہ ہے”۔اور کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ” تم مجھے اچھی مائیں دو میں تمھیں اچھی قوم دوں گا۔”ان باتوں سے تو لگتا ہے کہ ماں کا کردار بچے کی زندگی، اس کی پرورش ،اس کی تربیت میں سب سے اہم ہے؛ لیکن ہم یہ بھی سنتے ہیں کہ میاں اور بیوی ایک ہی گاڑی کے دو پہیے ہیں اور یہ پہیے ایک ساتھ چلیں گے تو ہی زندگی کی گاڑی بھی اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہو گی۔ماں کے ساتھ ساتھ بچے کی زندگی میں باپ کا کردار بھی بہت اہمیت کا حامل ہے ۔اور تربیتِ اولاد کی ذمہ داری والدین پر دینِ اسلام نے ڈالی ہے؛ لیکن آج معاشرے میں تربیتِ اولادکی تمام ذمہ داری ماں کے کندھوں پر ڈال کر باپ کو بری الزمہ کر دیا گیا ہے۔کہا جاتا ہے کہ باپ کا کام تو اولاد کے لیے کمانا ہے، اس کی ضروریاتِ زندگی کو پورا کرنا ہے پھر چاہے اولاد کا رشتہ باپ سے صرف ضروریات اور پیسوں کی حد تک کیوں نہ ہو جائے۔یہ دراصل ایک غلط رویہ ہے؛ کیونکہ بچے کی زندگی میں ماں اور باپ دونوں کا کردار بہت اہم ہے اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ جن والدین کے گھر ٹوٹتے ہیں ان کے بچوں کی زندگی میں ان کے کردار میں کہیں نہ کہیں کوئی کمی رہ جاتی ہے، والدین کا صحت مند تعلق بچوں کی زندگی میں مثبت اثرات ڈالتاہے۔
جتنا والدین رب کے قریب ہوں گے اتنی ہی بچے کی تربیت اچھی ہو گی، بچے کا تعلق باللہ والدین کی وجہ سے مضبوط ہو گا پھر جس نے رب کو پا لیا اسے اور کیا چاہیے۔جیسے کہ اللہ رب العزت نے سورہ التحریم :۱۱ میں فرمایا ! "اے مومنو! اپنے اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں ۔” یعنی والدین کی پہلی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کو شعور دیں اور وہ اعمال کرنا سکھائیں جو جہنم کی آگ سے بچاؤ کا سبب بنیں؛ کیونکہ جو آگ سے بچ گیا وہ کامیاب ہو گیا۔
قرآن پاک جو مکمل ضابطہء حیات ہے، جو زندگی کی کتاب ہے جس میں نہ باطل آگے سے آسکتا نہ پیچھے سے، جو حق بات بیان کرتی ہے جو مکمل نصاب ہے، اس زندگی کی کتاب کے ذریعے اللہ رب العزت نے ہمیں تربیتِ اولاد کا طریقہ کار سمجھا دیا، اب ہمیں بھٹکنے کی ضرورت نہیں؛ کیونکہ الحمداللہ ہمارے پاس روشن چراغ ہے۔اللہ رب العزت سورہ لقمان میں ہمیں سکھاتے ہیں کہ اولاد کی پرورش کس نہج پر کی جائے۔سب سے پہلےاولاد کو اللہ کے ساتھ تعلق سکھایا جائے، انہیں بتایا جائے کہ وجود میں لانے والی وہ ذات ہے جس نے انسان کو جمے ہوئے خون کے بےجان لوتھڑے سے پیدا کیا، جب انسان کا کوئی وجود نہ تھا تب اس ذات باری تعالیٰ نے انسان کو وجود بخشا، بچے کو اللہ کے واحد ہونے کا شعور دلایا جائے، اسے سکھایا جائے کہ اللہ پاک اپنی ذات و صفات اور کمالات میں یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اولاد کو سکھایا جائے کہ اللہ کی ذات کے ساتھ شریک ٹھہرانا بہت بڑا ظلم ہے۔اسے اللہ کی عبادت کرنی سکھائیں، جب بچہ بہت چھوٹا ہو تو ماں کو چاہیے کہ اس ننھے بچے کو اپنے ساتھ جائے نماز پر کھڑا کرے، اسے رب سے دعا مانگنا سکھائے، چھوٹی عمر میں اسے سکھائے کہ چھوٹی سے چھوٹی ضرورت بھی اللہ ہی پوری کرتا ہے۔عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ ماں سکھاتی ہے کہ یہ سب ضروریاتِ زندگی بابا پوری کرتے ہیں تو بچے کو بھی ہر چیز باپ سے مانگنے کی عادت ہوتی ہے اور جب اس کی مطلوبہ خواہش پوری نہیں ہوتی تو وہ غصہ کرتا ہے ایسے میں ماں کا کردار بہت اہم ہے کہ وہ بچے کو رب کا تعلق سکھائے کہ ہر چیز اللہ رب العزت عطا کرتے ہیں اور جو ہمارے لیے بہتر نہیں ہوتی اسے اللہ پاک ہم سے دور کر دیتے ہیں اس طرح بچہ تقدیر پر ایمان لانا بھی سیکھے گا( ان شاءاللہ) بچے کو اللہ پر توکل، اللہ پر ایمان کے ساتھ ساتھ شکر گزاری کا رویہ سکھانا بھی والدین کی ذمہ داری ہے. اللہ کی محبت کے ساتھ ساتھ اللہ کی نظروں کا شعور سکھانا ہے بچے کو کہ اللہ کی نظروں سے چھوٹے سے چھوٹا گناہ بھی پوشیدہ نہیں رہ سکتا اور اسی طرح نیکیوں کی محبت جگانے کے لیے بچے کو بتائیں کہ چھوٹی سے چھوٹی نیکی بھی رائیگاں نہیں جاتی، اللہ کے ہاں اس کا اجر بھی ملے گا ۔اولاد کو اس بات کا احساس دلائیں کہ اللہ پاک علیم و خبیر ہے ۔تربیت کا اگلا پہلو اولاد کو اللہ کی عبادت کی اہمیت بتائیں اور نماز کی محبت ان کے دل میں جگائیں ۔رسول اللہ ﷺ کی احادیث کے ذریعے خوشخبریاں سنائیں۔اولاد کے دل میں یہ شعور پیدا کریں کہ وہ گناہ کے کاموں اور نیکی والے اعمال کو پہچان سکیں، انہیں ” امر بالمعروف نہی المنکر ” کرنا سکھائیں۔اپنی اولاد کو نیکیاں پھیلانے اور گناہ سے روکنے والا بنائیں۔اولاد کے اندر صبر و تحمل والا رویہ پیدا کریں، انہیں یہ بات سکھائیں جو نعمت ملی اس پر شکر ادا کرنا ہے اور جو اللہ نے اپنی حکمت سے عطا نہیں کیا اس پر صبر کرنا ہے انہیں بتائیں کہ اللہ پاک صبر کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اگر آپ اللہ کی محبت چاہتے ہیں تو صبر کریں، اس طرح آپ اللہ کے دوست بن سکتے ہیں۔اولاد کو یہ بات سمجھائیں کہ کبریائی اللہ پاک کی ردا ہے، عاجزی والا رویہ سکھائیں اولاد کو سکھائیں کہ اللہ پاک کو دکھاوا اور غرور و تکبر پسند نہیں، اللہ کو عاجزی پسند ہے، پھر بچوں کو سمجھائیں کہ بہت اونچا بولنا اللہ کو نا پسند ہے اور اونچی آواز تو گدھے کی ہوتی ہے اور آپ تو اللہ کے پسندیدہ بچے ہو۔
تربیتِ اولاد کا ایک اور پہلو اپنی اولاد کو اللہ کا یہ حکم بھی سکھائیں کہ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک اختیار کریں؛ اس لیے نہیں کہ ہم والدین ہیں؛ بلکہ اس لیے کہ یہ بھی حکمِ الہٰی ہے، اولاد کا تعلق اللہ سے اتنا مضبوط کر دیں کہ آپ کو اپنی عزت کروانے کے لیے ان پر زبردستی نہ کرنی پڑے؛ بلکہ بچے اللہ کی محبت میں والدین کی عزت کریں، ان سے محبت کریں، ان کی خدمت کریں؛
مگر یہ تربیت کے پہلو تب ممکن ہیں جب والدین کا تعلق بااللہ خود مضبوط ہوگا، وہ خود مثبت سوچ کے مالک ہوں گے، ان کا ایمان خود مضبوط ہو گا تو ہی وہ اپنے تمام رویے اولاد میں منتقل کر سکیں گے؛ کیونکہ اولاد والدین کا عکس ہوتی ہیں ۔اگر آج کی ماں اپنا وقت سوشل میڈیا پر ضائع کرے گی، آج کا باپ اپنا وقت اولاد کو دینے کی بجائے اپنی بے جا دوستیوں میں لگائے گا تو کیسے اولاد کی تربیت کرے گا۔جب ماں خود کو حدود الہٰی کی پابند نہیں بنائے گی تو اولاد کو کیا سیکھائے گی؟ جب باپ خود اپنی نگاہیں جھکاکر نہیں چلے گا تو بیٹے کو حیاء کیسے سکھائے گا؟ جب ماں سلیولیس فراک پہننے پر کہے کہ ابھی چھوٹی ہے تو بچپن میں ہی حیاء مر جائے گی۔اللہ رب العزت نے والدین پر اولاد کی پرورش کی صورت بہت بڑی ذمہ داری ڈالی ہے اور اس بارے میں والدین سے روزِ محشر سوال بھی پوچھا جائے گا۔ کیا ہم بحثیت والدین اللہ کے آگے اولاد کے بارے میں پوچھے جانے والے سوالات کے لیے تیار ہیں، اپنے کنبے کو آگ سے بچانے کی ذمہ داری والدین کی ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین اپنا محاسبہ کریں کہ اللہ نے ان کو اس دنیا میں کس لیے بھیجا اور وہ کیا کر رہے ہیں۔فرمانِ رسول ﷺ ہے کہ آدمی کے مرنے کے ساتھ ہی اس کے اعمال کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے ماسوائے تین اعمال کے پہلا علمِ نافع دوسرا عملِ صالح اور تیسرا نیک اولاد جو والدین کے لیے صدقہ جاریہ بنتی ہیں، تو آج اس صدقہ جاریہ کے لیے کوشش کریں، اپنی اولاد کو وقت دیں، ان کی تربیت دینِ اسلام کے مطابق کریں، اللہ پاک آپ کے اعمال کو کبھی ضائع نہیں کرے گا، اللہ سب سے زیادہ قدر دان ہے۔اپنی اولاد کے لیے دعا کا اہتمام ضرور کریں؛ کیونکہ کوشش کے ساتھ اللہ سے دعا بھی لازم ہے، اللہ پاک ہم سب کی اولادوں کی حفاظت فرمائے،ان کو شیطان کے شر سے محفوظ رکھے ، انہیں متقیوں کا امام بنائے آمین.
Comments are closed.