کس جرم کی سزا پائی

از قلم: سحر نصیر

عمار اور کنول ایک دوسرے سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ عمار کنول کے چچا کا بیٹا تھا، ان کا رشتہ بچپن میں ہی ہو چکا تھا۔ عمار کنول پر پورا یقین کرتا تھا، ہر کام میں اس کا ساتھ دیتا تھا۔ عمار کے کنول کے علاوہ بھی کچھ کزنس تھے اور وہ سب ایک ہی گھر میں رہتے تھے۔ عمار کی ایک چچا ذاد بہن مریم تھی۔جو اپنے تایا جان کے بیٹے حیدر سے پیار کرتی تھی۔ لیکن حیدر بھی کنول سے بے پناہ محبت کرتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ کنول عمار سے پیار کرتی ہے اور ان کا رشتہ بھی ہو چکا ہے۔
اس کے باوجود حیدر خود کو کنول کے بارے میں سوچنے سے روک نہیں پا رہا تھا۔ کنول حیدر کو بھائی کہتی تھی؛ کیونکہ حیدر کنول سے پانچ سال بڑا تھا۔ دوسری طرف کنول کے ابو بھی عمار کو پسند نہیں کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ یہ کوئی کام نہیں کرتا میں اپنی بیٹی کی شادی اس سے نہیں کروں گا۔ملازمت کی وجہ سے عمار کو اسلام آباد جانا تھا۔ کنول کا رو رو کر برا حال تھا۔ وہ دونوں ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ رہے تھے۔ کبھی ایک دوسرے کے بغیر ایک دن بھی نہیں رہے تھے۔ کنول عمار سے ناراض تھی۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ عمار اس کو چھوڑ کر جائے۔ عمار رات کو کنول کے کمرے میں آیا تو کنول کی رو رو کر آنکھیں سرخ ہو چکی تھی۔ عمار نے کنول کے چہرے کو اپنی طرف کیا تو کنول نے پھر پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کردیا۔
عمار نے کنول کو کہا کہ "اگر تو نہیں چاہتی تو میں نہیں جاؤں گا۔” کنول نے اپنے آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئے کہا کہ "آپ جائیں میں خود کو سمجھا لوں گی۔” اسی بات پر عمار نے کنول کو خوشخبری سنائی جس کو سن کر کنول کے چہرے پر رونق آ گئی۔ کنول اور عمار کے نکاح کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ جو کہ دادی اماں کی بیماری کی وجہ سے ہوا تھا۔ اب کنول بہت خوش تھی۔لیکن جب عمار کے جانے کا سوچتی تو اداس ہو جاتی۔ عمار ظاہر تو کچھ نہیں کرتا تھا، ایک طرف خوشی اور دوسری طرف اپنی بچپن کی محبت سے دور ہونے کا دکھ تھا۔
لیکن نکاح کے لیے کنول کے ابو کی شرط تھی کہ وہ رخصتی نہیں کریں گے، جب تک عمار کا کاروبار سیٹ نہیں ہو جاتا۔ نکاح کا رشتہ ہوتا ہی بہت خوب صورت اور پارسا ہے۔
اب عمار کو کنول سے دور جانا تھا اور دل لگا کر کام کرنا تھا اور کامیابی بھی حاصل کرنی تھی؛ لیکن دوسری طرف حیدر ان کے نکاح سے خوش نہیں تھا،وہ بڑا بے چین تھا؛ آخر محبت تو محبت ہی ہوتی ہے۔ حیدر خود کو برا کہہ رہا تھا اور رو رہا تھا؛ کیوں نہ روتا آج اپنی محبت کو کسی اور کا ہوتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آیا تھا۔ حیدر بھی کنول کو دیوانوں کی طرح چاہا تھا۔
عمار اور کنول کے نکاح کے بعد اب گھر میں حیدر کی شادی کی باتیں ہو رہی تھی۔ حیدر ہر بار کی طرح اس بار بھی راضی نہیں تھا۔ںلیکن دادی اماں نے اپنی قسم دے کر اس کو راضی کر لیا تھا۔ حیدر کے والد صاحب نے مریم کے ابو سے رشتے کی بات کر کے رشتہ طے بھی کر لیا تھا، مریم بے انتہا خوش تھی کیوں نہ ہوتی، جس سے وہ پیار کرتی تھی وہ اس کو مل رہا تھا۔ حیدر کو پتہ چلا تو حیدر نے مریم کو میسج کر کے ملنے کے لیے بلایا، مریم بہت خوش تھی وہ سمجھتی تھی کہ حیدر بھی اس سے پیار کرتا ہے۔ حیدر نے مریم کو سب کچھ سچ سچ بتا دیا؛ کہ وہ کنول سے پیار کرتا ہے۔
مریم تو غصے سے پاگل ہو رہی تھی؛ کیونکہ کنول ہر کام میں مریم سے آگے ہوتی تھی۔ وہ سب کچھ تو مریم برداشت کر لیتی تھی؛ لیکن آج یوں اس کی محبت کا کنول سے اظہارِ محبت اس کو پاگل کر رہا تھا۔ حیدر جا کر سکون کی نیند سو چکا تھا وہ سمجھتا تھا کہ اب مریم خود انکار کر دے گی؛ لیکن مریم نے سوچ لیا تھا کہ وہ کنول کی زندگی برباد کر دے گی۔
مریم اور حیدر کی مہندی کا دن تھا، کنول بہت خوش تھی کیوں کہ عمار آٹھ ماہ بعد گھر واپس آ رہا تھا۔ مریم نے کنول کو جوس میں بے ہوشی کی دوا ڈال کر پلا دیا، اور پھول لینے کے لیے حیدر کے کمرے میں بھیج دیا۔ کنول کمرے میں داخل ہوتے ہی بے ہوش ہو گئی۔حیدر نے کنول کو پکڑ کر بیڈ پر لیٹا دیا۔اس دوران مریم نے ان کی غلط تصویریں بنائیں اور عمار کو بھیج دی۔
عمار تو غصے سے پاگل ہو رہا تھا، عمار نے کنول کی طرف اک دفعہ نہیں دیکھا، جو آٹھ ماہ سے اس کا انتظار کر رہی تھی۔ عمار سڑکوں پر پاگلوں کی طرح گھوم رہا تھا، اور بار بار ان تصاویوں کو دیکھ رہا تھا، اور اپنی محبت، جان ادا، فیضانِ نظر کو کسی اور کی بانہوں میں دیکھ کر خود کو برا کہہ رہا تھا۔
عمار کو کنول پر اعتماد نہیں رہا تھا، ہر رشتے کی بنیاد اعتماد پر ہوتی ہے؛ لیکن اب اس رشتے میں اعتماد نہیں رہا تھا، یہ رشتہ کمزور ہو چکا تھا۔ عمار نے سب کو وہ تصاویر دکھائی، عمار نے حیدر سے بھی پوچھا۔ کنول اپنی بے گناہی کے لیے حیدر کے جواب کی منتظر تھی؛ لیکن حیدر کی خاموشی نے کنول کو گناہ گار قرار دے دیا۔کنول کا یقین اس کے ماں باپ نے بھی نہیں کیا تھا۔ کنول کو سب سے زیادہ مان عمار پر تھا؛ لیکن جب اس نے بھی اس کا یقین نہیں کیا تو وہ جیتے جی مر گی تھی۔
کنول نے خود کو کمرے میں بند کر لیا، اور اپنے اللّٰہ سے اپنی ساری تکلیفوں کا اظہار کر کے خود کو اللہ کے حوالے کر دیا اور اپنے مالک سے جا ملی، کنول کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا اور پہلے ہی جھٹکے نے اس کی جان لے لی، اب حیدر نے کنول کی بے گناہی کی گواہی دی، اور مریم نے بھی کنول کے مرنے کے بعد اپنے گناہ کو قبول کر لیا تھا، عمار خود کو معاف تک نہیں کر پا رہا تھا۔عمار کنول سے محبت تو کرتا تھا پر وہ سچی محبت نہیں تھی؛ کیونکہ سچی محبت میں شک لفظ نہیں ہوتا۔کنول نے کسی کو معافی مانگنے تک کا موقع نہیں دیا تھا، وہ سب کو سزا دے کر جا چکی دی اور خود اس کو پتہ بھی نہیں تھا کہ اس نے کس جرم کی سزا پائی تھی۔ محبت کرنے والے ایک دوسرے پر اعتماد کرتے ہیں۔کنول اپنا معاملہ فی امان اللّٰہ کر کے اس دنیا فانی سے کوچ کر گںٔی تھی۔

Comments are closed.