لان کا سوٹ

 

از قلم سحرش اقبال، لاہور

 

"بابا! اس بار عید پر مجھے آپ نے لازمی گرے کلر کا فراک لا کر دینا ہے ورنہ میں ناراض ہو جاؤں گی”

"لیکن بیٹا! عید کے موقع پر تو سب کھلے کھلے رنگ پہنتے اور وہ لگتے بھی تو اتنے خوبصورت ہیں۔”

"مجھے نہیں پتہ بابا۔ مجھے گرے فراک چاہیے تو بس چاہیے”

بارہ سالہ حرم نے منہ بسور لیا اور ناراض ہونے لگی،

” اچھا میرا بیٹا! ٹھیک ہے۔ لا دوں گا آپ کو گرے فراک”

حرم ایک دم سے کھلکھلا اٹھی اور چہکنے لگی۔

"بابا آپ سب سے بیسٹ ہیں۔”

” میری گڑیا بھی سب سے اچھی ہیں بس تھوڑی سی ضدی ہیں”

” آخر بیٹی کس کی ہوں”

باپ بیٹی دونوں ہنس دیے۔

"اچھا بابا! بات سنیں”

"جی بیٹا! ”

” آپ ماما کو دیکھیں نا۔ مجھے کام کا کہتی رہتی ہیں۔ ابھی چھوٹی سی تو ہوں میں”

"چلیں ٹھیک ہے۔ میں آپکی ماما کو ڈاٹوں گا کہ میری گڑیا رانی کو کسی کام کا نہ کہا کریں”

"یس بابا”

********

چار سال بعد پھر وہی دن تھا۔

” عبداللہ کے ابا! اس بار ڈھنگ کی شاپنگ کرانے لے کے جانا۔ میں نے مال میں سوٹ دیکھا ہوا ہے 8000 کا وہی دلانا”

” اچھا بیگم دلا دوں گا”

” اور عبداللہ اور پری کے بھی 4، 4 جوڑے لینے ہیں عید کے۔ پچھلی بار بھی بس دو ہی لے کر دیے تھے تم نے”

"مگر اتنے کپڑے کیا کرنے ہیں؟ ابھی کچھ دن پہلے ہی تو لیے تھے”

” اے ہے! کیا بات کرتے ہو۔ ننھیال جانا ہے میرے رشتے داروں کی طرف۔ ان کی پھپھو کی طرف بھی جانا ہے۔ 2 جوڑوں میں کیا بننا ان کا بھلا”

” اور کوئی فرمائش بیگم صاحبہ؟”

” نہیں ابھی کے لیے بس اتنا ہی”

دروازے پر دستک ہوئی

"چاچی۔ ساری صفائی ہو گئی ہے اور برتن بھی دھو دیے ہیں”

"کپڑے دھوئے یا نہیں؟”

وہی پوچھنے آئی تھی کہ ان کے علاوہ تو اور کوئی کپڑے نہیں؟”

"نہیں بس وہی ہیں۔ اور ہاں مشین نہیں لگانی، ہاتھ سے دھونا۔ اور خبردار کوئی داغ رہے کپڑوں پر”

"جی چاچی….”

” کیا ہوا؟ کچھ مزید کہنا ہے؟”

عبدالقدوس صاحب نے پوچھا،

"چاچو! عید آ رہی ہے تو نئے کپڑے دلا دیں”

"ہیں ہیں۔۔کہاں کے کپڑے، کونسے کپڑے۔ نہ کام کی نہ کاج کی دشمن اناج کی۔ کتابیں پکڑ کے بیٹھی رہتی جیسے اسی نے ڈاکٹر بننا ہو۔ فیسوں کے خرچے بھی اٹھاؤ اور کپڑے بھی دلاؤ۔ ماں باپ خود تو مر گئے اس بدذات کو ہمارے پلے باندھ گئے۔ جاؤ دفع ہو کر برتن دھو”

اس قدر ذلت آمیز اور حقارت بھرے جملے سن کر اس کی آنکھیں بھر آئیں، اور وہ کمرے سے چلی گئی۔

عید کا دن تھا۔ ہر طرف چھوٹے بڑے نئے کپڑے پہن کر عید منا رہے تھے۔

مگر کچن میں پرانا لان کا سوٹ پہنے برتن دھوتی حرم کو یہ سمجھ آچکا تھا کہ لوگ کیوں باپ کے بنا جینے سے ڈرتے ہیں۔

Comments are closed.