ہم ایسے سادہ دل تھے کہ ہر بار آگئے۔

 

محمد صابر حسین ندوی
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043

 

بہتا ہوا پانی ہر کسی کو اچھا لگتا ہے، پنگھٹ پر جب چشمہ کا پانی گرتا ہے، تو سبھی اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں، وہ گرچہ پگڈنڈیوں، جنگلات اور پہاڑوں کے نشیب و فراز سے ٹکراتا ہوا آتا ہے، مگر اس سفیدی میں چوٹ کے نشان چھپ جاتے ہیں؛ یہی پوشیدگی اسے لوگوں کی نگاہ میں خوش نما اور خوش دل بنا دیتی ہے، مگر عجیب بات ہے کہ دل صاف ستھرا، سادہ ہو تو پھر اسے سماج میں قابل رحم سمجھا جاتا ہے، دل اس کی طرف کشش رکھتے ہیں، وہ انمول ہیرے کی طرح چمکتا ہے اور اندھیرے میں روشنی کی طرح رونما ہوتا ہے؛ لیکن پھر بھی وہ اس پر تَرس کھایا جاتا ہے، وہ واقعی میں ہوتا بھی کچھ اسی لائق ہے کہ ہر کوئی اسے اپنی انگلی پر نچا سکے، اور اس کی نرم خوئی و نرم دلی کا استحصال کرتے ہوئے سر بازار بیچ دے، ہر کوئی یہی کوشش کرتا ہے کہ اس کی شفافیت اور آئینہ دار دل پر ضرب لگا دے، اپنی عیاریوں میں الجھا کر ہنرمندی کا مظاہرہ کرے، ویسے اس سادہ دلی سے بیوقوفی مراد نہیں ہے؛کیونکہ اگر کوئی نادان ہو اور اس نادانی کو اپنی سادہ دلی سمجھے تو اس سلسلے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا، سادہ دلی دراصل ایک تعبیر ہے اس پاک اور مقدس دل سے جو دھوکہ، چالبازی، دغا، عیاری اور دنیا کی سیاست سے دور ہو، آپ زمانے کی بھیڑ بھاڑ میں ایسا بہت پائیں گے کہ بعضے اپنے کام کے سوا کچھ نہیں جانتے، وہ اپنے ہر عمل میں مخلص، نیک، اور صادق ہوتے ہیں، زبان کی سچائی، معاملات کی درستگی اور حتی المقدور الجھنوں سے خود کو الگ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، عقلی فتور، چمک دمک اور سازشی دماغ سے ان کا کوئی واسطہ نہیں ہوتا، شب و روز سیاست، مفاد پرستی، خود غرضی اور اپنا کام بنانے کیلئے تمام حدود پار کرانے کی کوئی لگن نہیں ہوتی، وہ صرف اسی مطمح میں جیتے ہیں کہ ان کی ذات سے کسی کو تکلیف نہ پہونچے، وہ ہزار زخم کھائیں لیکن محبت کی گل کاری میں کوئی کمی نہ آئے، نغمہ عشق میں وہ تیر و خنجر بھی برداشت کریں، اپنوں کا زخم اور زہر بھی جام شیریں سمجھ کر پی جائیں، وہ ہر دفعہ سر بازار اپنے دل کا سودا کریں، صحرا میں دل کی کشتی اتار دیں، بیاباں میں دل کی آبادی کا گمان پال لیں، چٹیل میدان میں دل کی شادابی کا ارمان لئے حاضر ہوجائیں، اور شاعر کی زبانی کہتے جائیں-
یہ سوچ کر کہ غم کے خریدار آ گئے
ہم خواب بیچنے سرِ بازار آ گئے
یوسف نہ تھے مگر سرِ بازار آ گئے
خوش فہمیاں یہ تھیں کہ خریدار آ گئے
اب دل میں حوصلہ نہ سکت بازوؤں میں ہے
اب کہ مقابلے پہ میرے یار آ گئے
آواز دے کے چھپ گئی ہر بار زندگی
ہم ایسے سادہ دل تھے کہ ہر بار آ گئے
ہم کج ادا چراغ کہ جب بھی ہوا چلی
تاکوں کو چھوڑ کر سرِ دیوار آ گئے
سورج کی روشنی پہ جنہیں ناز تھا فراز
وہ بھی تو زیرِ سایہ دیوار آ گئے

مگر ایسے سادہ دل کسی ذات پر وہ بوجھ نہ بنیں، ان کی دل پاکی و ستھرائی میں ایسا ہی رہے جیسے سیپ میں موتی ہو، مگر آپ جانتے ہیں کہ سب سے زیادہ ایسے ہی لوگ زمانے کے دھتکارے، مردور اور مقہور ہوتے ہیں، ہر ایک ان کی دل آزاری کو فرض منصبی سمجھتا ہے، اس کی خموشی کو بزدلی، پاکی کو مجبوری اور انسانیت کو لاچاری جانتا ہے، موقع بہ موقع اسے یہ احساس دلانے کی سعی ہوتی ہے کہ وہ خدا تعالی کی زمین پر ایک اجنبی مخلوق ہے، وہ منفرد ہے، انسانی بلکہ حیوانی جمگھٹے میں وہ تنہا ہے، سینہ میں دل رکھنے والا اور اس کی دھڑکن پر کان لگانے والا صرف وہی ہے، بقیہ تو سارے کسی اور دنیا سے ہو کر آئے ہیں، اور اب اس کا زمانہ میں کوئی گزارا نہیں، وہ سب سے الگ ہے، معاشرہ اسے قبول نہیں کرے گا، سچ کہا جائے تو آج کل عیاری ہی ہنرمندی ہے، انسان خواہ کتنا ہی شریف ہو، سادہ دل ہو اگر اس نے سیاست نہیں سیکھی، اوچھی حرکتیں نہیں جانیں اور سب کو اُلّو بنا کر اپنا اُلّو سیدھا کرنا نہ سیکھا تو وہ کچھ بھی نہیں ہے، چنانچہ آج جو کوئی کسی کو دھوکہ دے وہ اسے اپنی ہنرمندی جانتا ہے، دغا کر جائے وہ اسے عقل مندی سمجھتا ہے، ہمارا معاشرہ بھلے ہی انسانوں کا ہے لیکن حق تو یہ ہے کہ اس میں انسان نما حیوانات پَلتے ہیں، بچھو، سانپ بھیڑئے اور درندے رہتے ہیں، ان انسانوں کو ان جانوروں سے بڑا لگاؤ ہے، یہی وجہ ہے کہ انسان کی اچھائی و برائی کو جانوروں سے تشبیہ بھی دی جاتی ہے، اسلامی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو کسی کی سادہ دلی عیب نہیں بلکہ قابل تعریف ہے، یہ بات الگ ہے کہ اس سادہ دلی میں کسی سے دھوکہ کھانا اور اپنے آپ کو نہ سنبھالنا معیوب بات ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ایک مؤمن دوبار ایک ہی سراغ سے ڈسا نہیں جاتا، اگر کوئی صاحب ایمان اپنی سادہ دلی سے بار بار ایک محور پر چکر لگاتا رہ جائے تو یقیناً وہ ظاہراً اچھی نظر سے نہ دیکھا جائے گا، مگر دنیاوی اعتبار سے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ انسان کی یہ سادہ دلی کیوں کر اسے رسوا کرتی ہے اور سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیونکر وہ اپنی معصومیت کی سولی چڑھ رہا ہے، دراصل دنیا میں ایک عام دستور ہے کہ ہر ایک مفاد کی خاطر اپنی ساری حدیں پار کرجانے کی ڈھان بیٹھا ہے، جہاں مطلب اور خود غرضی وہاں اصول ضابطے اور انسانیت بھی پناہ مانگتے ہیں، ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ لوگ انسانیت اور اخلاقی اقدار کو اہمیت دیتے ہوں، اس پس منظر میں ہمیشہ یہ بات گانٹھ باندھ لینی چاہیے کہ آپ کیلئے یہ دنیا دار سب کچھ کریں گے، آپ سے خلوص کا برتاؤ کریں گے، یا یہ کہ آپ کی انسانیت اور معصومیت کا بدل بھی ہمدردی اور بہتر انداز میں ملے گا، بَس اتنا یاد رکھیے کہ مالک الملک سے بڑھ کر کوئی نہیں، وہی سب کو برابر سرابر دینے والا ہے، محبت اور خلوص کا پیکر وہی ہے، اسی سے امید اور اسی سے زندگی کی جوت ہے؛ نیز بہتری کا بدل سوائے اس ذات کے کوئی نہیں دے سکتا، ایسے میں یقیناً آپ کی سادہ دلی آپ کو پریشان نہ کرے گی، اور خلوص و محبت دنیا کبھی ویران نہ ہوگی۔

Comments are closed.