مقصدِ حیات

از قلم ملائکہ جعفر
حضرت انساں دنیا میں آئے، اور ساتھ ایک مقصد لاںٔے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک مقصد کے تحت انسان کو دنیا میں بھیجا، ہم وہاں سے وعدہ کرکے آئے کہ دنیا میں جا کے مقصد پورا کریں گے اور پھر یہاں آکر بھول گئے لیکن پھر بھی وہ رحمٰن ہے، اس نے یاد دہانی کے لیے نبی اور رسول بھیجے، اور پھر کسی نے ماننے سے انکار کر دیا، کچھ مان کر بھول گئے اور دنیا میں آکر اس کے رنگ دیکھ کر اسی کی رنگینیوں میں کھو گئے تو نتیجہ یہ نکلا کہ وعدہ خلافی کی رسم ازل سے چلی آرہی ہے۔ خدا اپنے بندوں سے کیا وعدہ پورا کرتا ہے مگر انسان نہیں۔ خدا نے بھیجا تھا کہ جاؤ اور وہاں جا کے میری عبادت کرو اور دنیاوی چیزوں سے بچ کر رہنا مگر انسان سب بھول گیا۔ اللہ تعالیٰ کا حکم تھا کہ میرے محبوب ﷺ کی اطاعت کرنا اور ان کی آل کا احترام کرنا مگر آج کا انسان ان سب باتوں سے غافل ہوچکا ہے اور وقتِ آخرت کو بھول چکا ہے۔ کوئی اس بات کی طرف نہیں آرہا کہ یہ دنیا فانی ہے یہ سب عارضی ہے اور ہمیشہ رہنے والا جہاں ابھی آنا ہے اور اصلی دنیا تو ابھی تم نے دیکھی ہی نہیں اور اس دن کا انتظار کریں جب تمہاری پکڑ ہوگی اور تم سے اس وقت کا حساب لیا جائے گا جو تمہیں امانت کے طور پر دیا گیا تھا مگر تم تو اس میں سے خیانت کرکے جا رہے ہو۔ آج کل لوگ اصل مقصد جو کہ مقصدِ حیات ہے اسے بھولے بیٹھے ہیں اور دنیا کے مقصدوں کی طرف رواں دواں ہیں جن کا نہ کوئی ماضی ہے نہ حال اور نہ ہی مستقبل ہو گا۔ اور تم یہ جان لو کہ قیامت نزدیک ہے، اور اللہ اپنے وعدے پورے کرتا ہے اور یہ لوگ عبرتناک عذاب کے لیے تیار رہیں۔ تو بہتر ہے کہ ابھی وقت ہے جاگ جاؤ اور اصل مقصد کو بجا لاؤ تاکہ پھر پکڑ نہ ہو۔

اے حضرت انسان اب جاگ ذرا
تیرے امتحان کا وقت ہے آن کھڑا

Comments are closed.