فضائی آلودگی ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے، جس کے سبب ہر سال دنیا بھر میں لاکھوں افراد اپنی جان گنواتے ہیں،

عبد الرحیم ندوی

قلمی نام :تابش سحر

 

سرسبزوشاداب جنگلات، اونچے پہاڑ، بہتے دریا اور آبشار قدرت کے حسین مناظر ہی نہیں بلکہ ایسی نعمت ہے جس کا کوئی اور متبادل ہی نہیں مگر ترقی پسند انسان مفادات کی لالچ میں اندھا ہوگیا، جنگلات بےدریغ کاٹے گئے، پہاڑوں کو آتشی دھماکوں سے ریزہ ریزہ کیا گیا اور دریا کا پانی انسان کی غیر اخلاقی سرگرمیوں کے سبب آلودہ ہوگیا، فطرت کے ساتھ کھلواڑ تباہی کا دروازہ کھولتا ہے، فضا’ صاف و شفّاف تھی مگر کارخانوں، موٹر گاڑیوں، جنگل کی آگ اور ردّی سامان کو ضائع کرنے کے لیے لگائی جانے والی آگ سے اٹھنے والا دھواں’ فضائی آلودگی کی وجہ بن گیا، فضائی آلودگی ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے، جس کے سبب ہر سال دنیا بھر میں لاکھوں افراد اپنی جان گنواتے ہیں، کروڑوں متاثر ہوتے ہیں، آلودہ فضا میں سانس لینے پر ننھے ننھے ذرّات ہمارے پھیپھڑوں میں چلے جاتے ہیں جو بیماری کا سبب بنتے ہیں، بسااوقات دل کی سوجن بھی فضائی آلودگی کا شاخسانہ ہوتی ہے، ایسے حالات میں لوگوں کا فضائی آلودگی کے تئیں بیدار ہونا بےحد ضروری ہے، بی بی سی کی ایک رپورٹ میں فرینک کیلی کا ایک بےحد پیارا قول نظر آیا وہ کہتے ہیں "فضائی آلودگی سے بچنے کے لیے چہرہ ڈھانپنے والے ماسک یا نقاب کا بھی دیرپا فائدہ نہیں۔ ’اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم ماسک پہن کر یہ پیغام دیتے ہیں کہ ہم آلودہ فضا میں سانس لینے کے لیے تیار ہیں جبکہ ہمیں آلودگی ختم کرنے کے لیے اپنے طرزِ زندگی کو بدلنے کی ضرورت ہے۔” فضائی آلودگی کے تئیں بیداری پیدا کرنے کے لیے اور لوگوں کو ہوا کے معیار سے آگاہ کرنے کے لیے سوئزرلینڈ کی ایک تنظیم "آئی کیو ائیر” اپنی خدمات انجام دے رہی ہے، یہ تنظیم’ ٹیکنالوجی کی مدد سے دنیا کے ہر ملک اور ہر شہر کی فضا کا ریکارڈ اپنے پاس رکھتی ہے، اس کی مثبت کارکردگی کے سبب "اقوامِ متحدہ ماحولیاتی پروگرام”، "یو این’ ہیبیٹ” اور "گرین پیس” جیسی تنظیمیں بھی آئی کیو ائیر کے ساتھ مل کر کام کرتی ہیں، یہ ماحولیاتی تنظیم ہر سال ان پچاس شہروں کی فہرست بھی پیش کرتی ہے جہاں فضائی آلودگی بہت زیادہ ہے، ۲۰۲۰ء کی جو فہرست جاری کی گئی ہے، ان میں دنیا بھر کے پچاس سب سے زیادہ فضائی آلودگی کا شکار شہروں میں پینتیس شہر پیارے وطن ہندوستان کے ہیں، نمبر ایک پر چین کا شہر "ہاتون” ہے اس کے بعد نمبر دو سے نمبر چودہ تک بالترتیب ان شہروں کا نمبر آتا ہے، غازی آباد، بلند شہر، بسراخ، بھیونڈی، نوئیڈا، گریٹر نوئیڈا، کانپور، لکھنؤ، دہلی، فریدآباد، میرٹھ، جندھ اور حصار۔۔۔۔۔۔۔ اگر ہم یہ کہہ دیں کہ "ان شہروں میں رہنے والی ہندوستانی عوام زہریلی فضا میں سانس لے رہی ہے” تو غلط نہ ہوگا، ایسے میں ملک کے ہر شہری کا بیدار ہونا اور حکومت کا چاق و چوبند ہو کر اس سلسلے میں مثبت قدم اٹھانا بےحد ضروری ہے مگر برا ہو تنگ نظری کا، جہالت کا اور تعصب کا کہ جن کے اندھیروں میں ڈوبی ہوی ہندوستانی قوم کبھی اُن مسائل کے لیے آواز اٹھانا گوارا نہیں کرتی جو تباہی کا بگل بجا چکی ہے، حکومت عوام کو اپنے ہی پیدا کیے گئے مسائل میں الجھا دیتی ہے اور عوام ایک دوسرے سے لڑ بِھڑ کر غنڈہ صفت سیاست دانوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں جبکہ اصل مسائل جوں کا توں نہ صرف باقی رہتے ہیں بلکہ بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں، ویسے ہندوستان صرف فضائی آلودگی کا شکار نہیں، یہاں اب فکر و نظر بھی آلودہ ہے، ذہنیت بھی گندی ہے، دلوں میں کدورت ہے، نفرت ہے اور تعصب ہے تبھی تو ایک پیاسے بچّے کو پانی پلانے کے بجائے نام پوچھ کر پیٹا جاتا ہے، جہاں اتنی قسم کی آلودگی ہو وہاں فضائی آلودگی بہت چھوٹا مسئلہ ہے۔

 

Comments are closed.