وسیم رضوی اُمتِ مسلمہ کے لئے ایک نیا جُھنجُھنا۔
عبدالباری قریشی
(بھیکن گاؤں ضلع کھرگون، ایم پی)
رابطہ: 9907607612
عموماً پورے عالم اور خصوصا ہمارے ملک کی باطل طاقتیں اُمتِ مسلمہ کو اپنے مقصدِ حیات ”دعوتِ اسلام“ سے ہٹانے کے ہنر سے خوب اچھی طرح واقف ہے۔ اسی میں سے ایک اس وقت وسیم رضوی ہے۔ ہمارے علماء اور اہل علم حضرات وسیم رضوی کے بیان اور عرضی کے بعد حرکت میں آگئے اور اس کے بیان کی تردید میں لگ گئے۔ وسیم رضوی نے یہ کوئی نیا کام نہیں کیا؛ دورِ رسالت سے لے کر آج تک قرآن پاک اور سرکارِ دوعالمؐ کی ذاتِ اقدس پر حملے ہوتے رہے ہیں، نہ تو دورِ رسالت میں اور نہ ہی دورِ صحابہ میں اس حملے کا کوئی جواب دیا گیا؛ بلکہ صحابہ کرامؓ اپنی پوری توانائی کے ساتھ مثبت انداز میں اپنے مقصدِ حیات ”دعوتِ اسلام“ پر لگے رہے اور دشمنانِ اسلام کو قرآن کریم اور سرتِ رسول سمجھاتے رہے۔ جس کے نتیجے میں خصوصاً پورا عرب اسلام کے نور سے منور ہوگیا اور عموماً پورے عالم میں اسلام کی کرنیں پھیلنے لگی۔ ہمارے دور کی باطل طاقتین اُمتِ مسلمہ کی تاریخ سے خوب اچھی طرح واقف ہے کہ اُمتِ مسلمہ اپنے مقصدِ حیات ”دعوتِ اسلام“ پر عمل پیرا ہو جاتی ہے تو صرف افراد ہی نہیں بلکہ علاقے کے علاقے اسلام کی آغوش میں آجائیں گے؛ اس لئے وقتاً فوقتاً اُمتِ مسلمہ کے ہاتھوں میں ایک جُھنجُھنا تھمادیا جاتاہے۔ اس بار کا جُھنجُھنا ”وسیم رضوی“ کی شکل میں وجود پزیر ہوا۔ جسے اُمت کافی دنوں تک بجاتی رہے گی۔ اور اُمت اپنے مقصدِ حیات ”دعوتِ اسلام“ کو بُھل جائے گی۔ کاش۔۔۔! ہم باطل کے اس حربہ کو سمجھ جائیں اور اس طرح کے اُٹھنے والے فتنہ میں نہ الجھتے ہوئے اپنے مقصدِ حیات ”دعوتِ اسلام“ پر اپنی صلاحیت، اپنی جان اور مال کو مثبت انداز میں لگائیں تو یہ تمام فتنے خود بخود ختم ہوجائیں گے اور جو سفر برسوں میں طے ہو نے والا ہے اُس سفر کو مہینوں اور ہفتوں میں طے کیا جاسکتا ہے۔
Comments are closed.