جان بھی جہان بھی

عبدالرحمان صدیقی
(ایگزیکٹیو ایڈیٹر روزنامہ ممبئی اردو نیوز)
اگرچہ کورونا نامی وباء کے پھیلنے کی خبریں جنوری ۲۰۲۰ سے ہی آنے لگی تھیں لیکن ہندوستان او رباقی دنیا میں اس کا سنجیدگی سے نوٹس مارچ کے مہینے میں لیاگیا مارچ کے آخر میں وزیر اعظم نریندر مودی کی اپیل پر ایک دن کے رضاکارانہ بند پھر اس کے بعد لاک ڈائون اور پھر لاک ڈائون کے بعد مسلسل لاک ڈائون پھر ان لاک ون ٹو تھری اور کسی نہ کسی شکل میں یہ سلسلہ آج بھی ہندوستان سمیت پوری دنیا میں جاری ہے۔ ہندوستان سمیت پوری دنیاکےلیے سال ۲۰۲۰ اس قدر آزمائش سے بھرا رہا اور یہ سلسلہ ابھی بھی ختم نہیں ہوا ہے۔ بیماری سےمقابلہ کرنے اس کو پھیلنے سے روکنے کےلیےتمام اقدامات مرکزی وریاستی حکومتوں اور مقامی کارپوریشنوں کی مسلسل جدوجہد کے باوجود بڑی تعداد میں لوگ موت کے آغوش میں چلے گئے۔ بڑی تعداد میں لوگ اس بیماری کا شکار ہونے کے بعد شفایاب بھی ہوئے اس دوران مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے کورونا کی ویکسن بھی تیار ہوگئی اور ملک بھر میں ٹیکہ کاری کا عمل جاری ہے ان سب کے ساتھ ساتھ چونکہ بیماری جاجاکر واپس آرہی ہے اس لیے تمام تر رعایت کے باوجود لاک ڈائون، نائٹ کرفیو اور مختلف قسم کی پابندیوں کا خطرہ ان علاقوںمیں بھی برقرار ہے جہاں ان سب پریشانیوں سے ۶۰ سے ۷۰ فیصد تک نجات مل چکی ہے۔ اسی دوران وزیر اعظم نریندر مودی کا یہ جملہ بھی گونجتا رہا کہ جان بھی رہے جہان بھی۔
اس ایک سال کے دوران بہت سے تجربات ہوئے جہاں انسانیت کا جذبہ پیدا ہوا اور لوگوں نے پریشان حال لوگوں کی کھل کر مدد کی بہت سے طبی تجربات ہوئے،ڈاکٹروں، پولس اہلکاروں، سرکاری اداروں اور این جی اوز بڑھ چڑھ کر امدادی کاررائیوں میں حصہ لیا تو وہیں دوسری طرف لاک ڈائون اور اس کے دوران جو کچھ ہوا ا ور جس طرح لاکھوں لوگ بے روزگار ، بے یارومدد گار ہوگئے اور جس طرح لاکھوں غریب بے روزگار اور پریشان حال لوگوں نے سو دو سو سے لے کر ہزار دو ہزار کلو میٹر کاپیدل سائیکل آٹورکشہ یا ٹیکسیوں اور بسوں کے ذریعے سفر کیا اور اپنے گھروں تک پہنچے۔ بھوک پیاس کی شدت اور تھکان کی وجہ سے یا پھر سڑک اور ٹرین حادثات کا شکار ہوکر لوگوں نے جانیں دیں وہ سرکاری مشنری کی بے حسی ، ناقص منصوبہ بندی اور نااہلی کا کھلاہوا ثبوت تھا۔ ملک کی معیشت بری طرح لڑکھڑا گئی، کروڑوں کی تعداد میں لوگ بے روزگار ہوگئے، کچھ لوگوں کی ملازمتیں اور کاروبار جزوی طور پر بحال ہوگئے لیکن انہیں پوری طرح اپنے پیروں پر کھڑٓ ہونے میں بہت وقت لگے۔
یہ نہیں کہاجاسکتا کہ مرکزی و ریاستی حکومتوں نے کچھ نہیں کیا، یقینی طو رپر پھنسے ہوئے لوگوں کو ان کے گھروں تک پہنچانے کےلیے اسپیشل ٹرینوں بسوں وغیرہ کا بڑے پیمانے پر بندوبست کیاگیا، کھانا بھی تقسیم کیاگیا، اناج بھی بانٹا گیا روزگار کے مواقع بھی پیدا کیے گئے، بینکوں کے ذریعے لوگوں کے کھاتوں میں پیسے بھی پہنچائے گئے، مزدور طبقہ اور کاروباری طبقے کو واجبات کی ادائیگی میں ڈھیل بھی دی گئی اس میں کوئی شک نہیں کہ لاک ڈائون کے دوران جو مسائل پیش آئے تھے ان کی نوعیت بہت سنگین تھی، حکومتوں اور سرکاری عملہ کو اس قسم کے حالات سے نمٹنے کا کوئی تجربہ بھی نہیں تھا ان سب کے باوجود یہ کہاجاسکتا ہے کہ اگر درست طریقہ سے منصوبہ بندی کی گئی ہوتی تو لاکھوں کروڑوں لوگوں کو ان ناقابل برداشت تکلیفوں اور اذیتوں سے نہ گزرنا پڑتا جس کا تجربہ اور مشاہدہ پورے ملک نے کیا ہے۔
اس دوران ایک اورنہایت شرمناک اور قابل مذمت حرکت یہ ہوئی کہ تبلیغی جماعت کو کورونا سے جوڑ کر بالواسطہ طور پر مسلمانوں کو ہی کوروناکا ذمہ دار قرار دے دیاگیا، ہزاروں کی تعداد میں تبلیغی جماعت سے وابستہ کسی جرم یا گناہ کے بغیر جیلوں میں ٹھونس دئیے گئے، عدلیہ حرکت میں آئی، باضمیر لوگوں کا ضمیر جاگا جماعت والوں کو راحت ملی لیکن جو کچھ ہوا وہ ملک کی صحافت کی تاریخ کا سیاہ باب ہے۔ بہرحال ایک سال گزرجانے کے بعد بھی کورونا سے پوری طرح نجات نہیں ملی، کوشش یہ کرناچاہئے کہ جان بھی رہے اور جہان بھی۔

Comments are closed.