ناقابل معافی گناہ شرک
از قلم نیکا نسیم (چونڈہ’سیالکوٹ)
ماریہ گھنگھریالے براؤن بالوں، سرخ رخسار اور گلابی ہونٹوں والی ایک نہایت خوبصورت لڑکی تھی، جو اپنے خالہ زاد بیٹے حیدر کی کلاس فیلو تھی، دونوں اکٹھے اسکول جاتے، ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرتے اور مہینہ مہینہ ایک دوسرے کے گھر چلے جاتے، دونوں پڑھائی میں ایک سے بڑھ کر ایک تھے، دونوں پڑھائی میں ایک دوسرے کی مدد کرتے اور ایک ساتھ رہ کر انھیں آپس میں محبت بھی ہو چکی تھی اب ایک دوسرے کے بغیر ایک منٹ نہیں رہ سکتے تھے، کالج میں اچھے نمبر حاصل کرنے کے بعد دونوں نے ایک ساتھ یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔ یونیورسٹی کا ماحول کالج کے ماحول سے منفرد تھا، وہاں ان کی ملاقات علی، عمل، حیا اور اسکے کزن فراز سے ہوئی، حیدر اور ماریہ نے بھی ان سے دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور سب ایک دوسرے کے دوست بن گئے، اب سب ایک دوسرے کے ساتھ مل کر بیٹھتے اور پڑھائی میں ایک دوسرے کی مدد کرتے، ماریہ اور حیدر جو ایک دوسرے کے بغیر ایک منٹ نہیں گزارتے تھے، حیدر جو ماریہ کی ہر خوشی کا خیال رکھتا تھا، اب وہ حیا کی طرف مائل ہو رہا تھا، اور ماریہ اور اسکی خوشیوں کو نظر انداز کر رہا تھا دوسری طرف ماریہ نے یہ بات محسوس کی تو اس نے حیدر کو اپنی محبت کا یقین دلانے کی کوشش کی؛ کہ وہ اس کے بغیر نہیں رہ سکتی، وہ اس سے بے پناہ محبت کرتی ہے اور یہاں تک کے حیدر نے بھی ماریہ سے وعدے کر رکھے تھے؛ کہ وہ ماریہ کو کبھی نہیں چھوڑے گا اور اس کی خوشیوں کا خیال رکھے گا لیکن اب حیدر حیا کا دیوانہ بنا ماریہ کی کوئی بات نہیں سن رہا تھا، ماریہ اس بات کو لیکر دل برداشتہ ہوگںٔی اور حیدر کو اس کے حال پر چھوڑ دیا، دوسری طرف حیدر نے حیا سے اظہارِ محبت کیا تو حیا نے بتایا کہ وہ اس کا پیچھا چھوڑ دے؛ کیونکہ وہ فراز سے محبت کرتی ہے اور عنقریب حیا اور فراز کی شادی طے ہے، حیدر کا دل ٹوٹا تو پھر اسے ماریہ کی محبت کا احساس ہوا اور اس نے ماریہ سے آکر معافی طلب کی؛ لیکن ماریہ اس کو معاف کرنے کے در پر نہ تھی، ماریہ نے حیدر کو بتایا؛ کہ محبت میں شرک کی معافی نہیں ملتی اور وہاں سے اٹھ کر چلی گئی۔
پھر ماریہ کو اس بات کا احساس ہوا؛ کہ ہم دنیاوی زندگی میں اپنی محبت میں کسی دوسرے انسان کو برداشت نہیں کر سکتے؛ تو اللہ تعالیٰ کی ذات جو کل کائنات کا مالک ہے، جس نے ہمیں پیدا کیا ہے؛ اگر ہم اس کی محبت میں کسی دوسرے کو شریک ٹھہرائیں گے تو وہ ہمیں کس طرح معاف کرے گا۔
قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
بے شک شرک بڑا ظلم ہے ۔
Comments are closed.