زندگی

 

کومل ناز (دریا ننگل)

نور خوش مزاج اور خوبصورت، بانکپن رکھنے والی ایک لڑکی تھی، جو یونیورسٹی کی طالبہ تھی۔ وہ اکثر چھوٹی چھوٹی باتوں کو دل سے نکال نہیں پاتی تھی۔ ذرا سی بات پر بھی بہت سوچتی؛ مگر دل کی بہت صاف تھی۔ ایمن اس کی دوست جو اس کے پاس ہی کھڑی تھی اس کو دلاسہ دے رہی تھی۔ تمہیں پتا ہے ایمن! ہم ایسے معاشرے کا حصہ ہیں جہاں روپیہ پیسہ ہی سب کچھ ہے، جہاں انسان کو رشتوں کی کوئی قدر و قیمت نہیں؛ اگر پیسہ ہے تو دنیا میں کچھ بھی خریدا جا سکتا ہے؛ لیکن کیوں؟ ارے نور! تم ابھی بھی اسی بات کو لے کر پریشان ہو ایمن نے حیرانی سے پوچھا۔

ایمن! کیا مطلب ہے تمہارا؟ اسی بات۔۔ ابھی کچھ دیر پہلے یونیورسٹی میں سب کے سامنے اس رئیس نے میری بے عزتی کر دی اور تم کہ رہی ہو کہ میں یہ بات کیوں سوچ رہی ہوں؟ نور کی آواز میں درد تھا۔ تمہیں پتا ہے ایمن غلطی اس کی تھی، پھر بھی اس نے میری بے عزتی کی اور ٹیچر کے سامنے بھی مجھے ہی غلط ثابت کردیا، یہ دنیا بس پیسوں سے پیار کرتی ہے ایمن۔ یہاں جو رئیس ہے اس کی بات ہی ہمیشہ سچ ہوتی ہے اور غریب کو بولنے کا موقع تک نہیں ملتا۔ نور میری بہن! لوگوں کا اپنا اپنا نظریہ ہے کوئی کیا سوچتا ہے ہمیں اس سے فرق نہیں پڑتا۔ ایمن نے نہایت خلوص سے نور کو سمجھایا۔

ہمیں اپنے خوابوں کی تعبیر دیکھنی ہے؛ اگر ہم لوگوں کی باتیں سنیں گے تو پیچھے رہ جائیں گے۔ ہمیں اپنے طور پر جینا ہے یہ زندگی ہے۔ ایک سفر ہے ہم یہاں مسافر ہیں۔ اور راستے میں مشکلات تو آئیں گی ناں۔ ہمیں بہادری سے ان کا مقابلہ کرنا ہے۔ اور اپنے خوابوں کو حقیقت کے روپ میں ڈھالنا ہے۔ اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہم اس طرح چھوٹی چھوٹی باتوں کا بہادری سے مقابلہ کریں۔ نور کا چہرہ مطمئن ہوتا نظر آرہا تھا۔ ایمن نے پیار سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بولی چلو پھر۔ نور بولی کہاں؟ ارے اپنی منزل مقصود تک چلیں، اپنے دیکھے ہوئے خواب پورے کریں اور آگے بڑھیں نور مسکرا دی اور ایمن کے چہرے پر بھی اطمینان بھری مسکان نمودار ہوئی۔ دونوں ایک دوسرے کے گلے لگیں اور گھر چلی گئیں۔

Comments are closed.